رموز بے خودی

گر بقدر یک نفس غافل شدی

گر بقدر یک نفس غافل شدی

دور صد فرسنگ از منزل شدی

ترجمہ

اگر تو ایک سانس کے برابر بھی غافل ہوا تو منزل سے سو فرسنگ دور ہو گیا۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کی توضیح اور شدت دونوں ہے۔ وہاں اقبال نے بتایا تھا کہ کانٹا نکالنے کے لیے رک جانے سے محمل نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے، اور یہاں وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک سانس کے برابر بھی غفلت آ جائے تو مسافر منزل سے سو فرسنگ دور جا سکتا ہے۔ اس میں مبالغہ شعری ضرور ہے، مگر حقیقت بھی بہت گہری ہے: بڑے سفر میں بعض اوقات چھوٹی غفلتیں بڑے فاصلے پیدا کر دیتی ہیں۔ زندگی کے بعض میدانوں میں معمولی تاخیر یا غیر شعوری لغزش بھی اثرات کے لحاظ سے بہت دور رس ثابت ہوتی ہے۔ اقبال اس خطرے کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔

“یک نفس” کا ذکر اس لیے بہت معنی خیز ہے کہ غفلت ہمیشہ بڑے اعلانات کے ساتھ نہیں آتی۔ کبھی وہ لمحاتی ہوتی ہے، کبھی معمولی، کبھی بالکل بے ضرر نظر آنے والی۔ مگر اگر سفر نازک ہو، قافلہ تیز ہو، اور مطلوب عظیم ہو تو یہی لمحہ محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔ “صد فرسنگ” فاصلہ اس غفلت کے نتائج کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اقبال امت کو بیدار رہنے کی تلقین کر رہے ہیں، کیونکہ مقصدی زندگی میں بے خبری کا دائرہ بہت مہنگا پڑتا ہے۔

غفلت کی ماہیت:

غفلت صرف یہ نہیں کہ انسان سو جائے یا راستہ بھول جائے۔ غفلت یہ بھی ہے کہ اس کی نظر مرکز سے ہٹ جائے، دل مقصد سے سرد ہو جائے، یا اس کا شعور اپنے سفر کی نزاکت کو بھول بیٹھے۔ بہت سی قومیں دشمن کی طاقت سے پہلے اپنی غفلت سے ہارتی ہیں، کیونکہ غفلت حفاظتی حس کو کم زور کر دیتی ہے۔

فرد کی سطح پر بھی غفلت خطرناک ہے۔ آدمی ایک لمحے کے لیے اپنی اقدار، اپنی نیت، یا اپنے بڑے مقصد کو نظرانداز کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس کا پورا راستہ بدلنے لگتا ہے۔ اقبال اسی لطیف مگر فیصلہ کن موڑ کو سامنے لا رہے ہیں۔

ایک سانس کی قیمت:

“یک نفس” انسان کی زندگی کا نہایت مختصر پیمانہ ہے۔ اقبال اس پیمانے کو لا کر یہ دکھاتے ہیں کہ مقصدی حیات میں وقت کی قدر بہت زیادہ ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ تھوڑی سی بے توجہی سے کیا فرق پڑتا ہے، مگر شاعر کہتا ہے کہ اگر تمہارا سفر سچا ہے تو فرق بہت پڑ سکتا ہے۔ یہ تنبیہ سستی کے خلاف ہے، مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ شعور کی حفاظت کے لیے ہے۔

یہاں سانس ایک علامت بھی ہے۔ انسان کی پوری حیات سانسوں سے بنی ہے۔ اگر ایک سانس غفلت کا شکار ہو سکتی ہے تو مطلب یہ ہے کہ پوری زندگی کو بھی مسلسل نگہبانی چاہیے۔ مقصدی بیداری ایک بار حاصل ہو کر ختم نہیں ہو جاتی، اسے قائم رکھنا پڑتا ہے۔

فاصلہ کیوں بڑھ جاتا ہے:

جب قافلہ چل رہا ہو تو اس سے کٹنے والا شخص صرف اتنی دیر نہیں پیچھے رہتا جتنی دیر وہ رکا تھا۔ قافلہ بھی آگے بڑھتا رہتا ہے، اس لیے فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ یہی منطق یہاں کارفرما ہے۔ غفلت کے لمحے میں صرف تم نہیں رکتے، منزل کی طرف بڑھنے والی حرکت بھی تم سے دور ہوتی جاتی ہے۔ اسی لیے تھوڑی غفلت بھی بڑے بعد میں بدل سکتی ہے۔

ملتوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ جو قوم اپنے مقصدی بیدار شعور سے دور ہوتی ہے، وہ صرف اپنی جگہ نہیں ٹھہرتی؛ تاریخ بھی اس سے آگے نکل جاتی ہے۔ پھر واپسی زیادہ مشقت مانگتی ہے۔ اقبال اسی تاریخی حقیقت کو شعری شدت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ہمارے زمانے میں غفلت کے اسباب پہلے سے زیادہ ہیں: مسلسل مشغولیت، بے شمار اطلاعات، جذباتی شور، وقتی ردِ عمل، اور مقصد کو دبانے والی راحت طلبی۔ ایسے ماحول میں اقبال کا یہ شعر اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر نگہبانی کمزور ہوئی تو فاصلہ بہت جلد بڑھ سکتا ہے۔

یہ شعر خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ بیداری کے لیے ہے۔ مقصدی زندگی کا مطلب مسلسل کشیدگی نہیں بلکہ مسلسل شعور ہے۔ اپنے دل، وقت، ترجیحات اور راستے پر نظر رکھو۔ یہی نگہبانی تمہیں منزل کے قریب رکھے گی۔ اقبال اس بیدار حیات کے پیامبر ہیں۔

مثال

جیسے تیز رفتار قافلے سے لمحہ بھر غافل ہونے والا مسافر تھوڑی دیر میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے، ویسے ہی مقصد کے سفر میں معمولی غفلت بھی بڑے فاصلے پیدا کر سکتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بیداری کی سخت ضرورت بیان کرتے ہیں۔ مقصدی سفر میں ایک لمحے کی غفلت بھی مسافر کو منزل سے بہت دور کر سکتی ہے، اس لیے دل اور نظر دونوں کی نگہبانی ضروری ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button