رموز بے خودی

تارک آفل براهیم خلیل

تارک آفل براهیم خلیل

انبیا را نقش پای او دلیل

ترجمہ

غروب ہو جانے والی چیزوں کو چھوڑ دینے والا ابراہیم خلیل ایسا رہنما ہے کہ تمام انبیا کے لیے بھی اس کے نقشِ قدم دلیل اور نشانِ راہ ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال رکن دوم: رسالت کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک رسالت کی تاریخ کا ایک بڑا رخ اسی ابراہیمی بیداری سے کھلتا ہے جس نے فانی اور ڈوبنے والی چیزوں کو رد کر کے حقِ ثابت کی تلاش کی۔ “تارک آفل” کا اشارہ قرآن کے اس منظر کی طرف ہے جہاں ابراہیم علیہ السلام ستارے، چاند اور سورج کے ڈوب جانے پر انہیں معبود ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

تارکِ آفل کا اصل مفہوم:

“آفل” یعنی وہ چیز جو غروب ہو جائے، چھپ جائے، یا باقی نہ رہے۔ اقبال کے نزدیک یہ صرف اجرامِ فلکی کی بات نہیں بلکہ ایک عظیم فکری اصول ہے: جو چیز خود قائم نہ رہ سکے، وہ انسان کو حقیقی سہارا نہیں دے سکتی۔ ابراہیم علیہ السلام کی عظمت یہ تھی کہ انہوں نے نظر آنے والی چمک سے دھوکا نہ کھایا اور ثبات کے بغیر کسی شے کو رب ماننے سے انکار کیا۔

یہی رسالت کی بنیاد ہے، کیونکہ پیغامِ حق ہمیشہ انسان کو فانی سہاروں سے اٹھا کر باقی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے۔

ابراہیم کیوں نقطۂ آغاز ہیں:

رسالت کا ذکر شروع کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کا آنا اس لیے معنی خیز ہے کہ وہ صرف ایک نبی نہیں، ایک مزاج اور ایک منہج کے بانی ہیں۔ ان کی دعوت میں توحید، ترکِ باطل، قربانی، ہجرت، تعمیرِ ملت اور آئندہ نسلوں کے لیے دعا سب کچھ جمع ہے۔ اقبال یہاں بتاتے ہیں کہ نبوت کی پوری صف میں ابراہیمی روح ایک بنیادی چراغ کی طرح جلتی ہے۔

گویا بعد کے انبیا کی راہوں میں بھی ابراہیم کا نقشِ پا رہنمائی کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے حق کے ساتھ نسبت کی اس اصل کو زندہ کیا جس پر رسالت کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

نقشِ پا کا استعارہ:

نقشِ پا راہ کا نشان ہوتا ہے۔ جب مسافر سفر میں ہو اور راستہ واضح نہ ہو تو پچھلے رہبر کے قدموں کے نشان اسے منزل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی یہی نقشِ پا ہے: فانی سے انکار، حق کی طلب، توحید پر استقامت، اور نسلوں کے لیے ملت کی تعمیر۔

اس استعارے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ رسالت محض آسمانی الفاظ کا نزول نہیں، بلکہ چل کر دکھایا جانے والا راستہ بھی ہے۔

فردی اور اجتماعی سبق:

فرد کی سطح پر اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں ان تمام “آفل” چیزوں کو پہچانے جو وقتی چمک رکھتی ہیں مگر اصل سہارا نہیں بن سکتیں: مال، شہرت، طاقت، تعلقات یا نفس کی خواہشیں۔ ملت کی سطح پر یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ اگر قوم اپنے مرکز کو ایسی چیزوں سے باندھ دے جو باقی نہیں رہتیں تو اس کی تعمیر بھی ناپائیدار ہوگی۔

اس لیے رسالت کی پہلی تعلیم یہی بنتی ہے کہ دل کو باقی حق سے وابستہ کیا جائے اور فانی چیزوں کو مرکز نہ بنایا جائے۔

اقبال کا بڑا اشارہ:

اقبال دراصل کہہ رہے ہیں کہ رسالت کا پیغام اس وقت سمجھ میں آتا ہے جب انسان ابراہیمی مزاج پیدا کرے۔ جو ابھی تک آفل چیزوں کی چمک سے مرعوب ہے، وہ رسالت کے نور کو پوری طرح نہیں سنبھال سکتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس لیے دلیل ہیں کہ انہوں نے حق کی پہچان کے لیے نظر، عقل، وجدان اور استقامت سب کو یکجا کیا۔

یوں بخش ۹ کے آغاز میں اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ رسالت کی تاریخ کا پہلا دروازہ فانی کی نفی اور باقی کی تلاش ہے۔

مثال

ایک شخص اگر وقتی فائدے کے لیے ہر اصول بدلتا رہے تو وہ جلد ہی اپنی بنیاد کھو دیتا ہے۔ لیکن جو آدمی عارضی نفع کے بجائے مستقل سچائی کو معیار بناتا ہے، وہ ابراہیمی طرز پر “آفل” چیزوں کو چھوڑ رہا ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام رسالت کی راہ کے بنیادی رہنما ہیں، کیونکہ انہوں نے فانی سہاروں کو چھوڑ کر باقی حق کی طرف رخ کیا۔ رسالت کی سچی سمجھ اسی ابراہیمی مزاج سے شروع ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button