چیست تاریخ ای ز خود بیگانه ئی
چیست تاریخ ای ز خود بیگانه ئی
داستانی قصه ئی افسانه ئی
ترجمہ
اے اپنے آپ سے بیگانہ شخص، تاریخ کیا ہے؟ کیا وہ محض ایک داستان، ایک قصہ، ایک افسانہ ہے؟
تشریح
اس شعر میں اقبال سوالیہ انداز میں تاریخ کے بارے میں عام سطحی تصور کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ ایسے شخص سے مخاطب ہیں جو اپنی اصل سے بیگانہ ہے، اور اسی لیے شاید تاریخ کو بھی صرف کہانی سمجھتا ہے۔ “داستانی، قصه ئی، افسانه ئی” کہہ کر اقبال اس ذہنیت کی تصویر بناتے ہیں جو تاریخ کو محض تفریح، روایتی روایت، یا بے مصرف حکایت سمجھتی ہے۔ شاعر کا سوال دراصل انکارِ سوال ہے، یعنی اقبال یہ پوچھ رہے ہیں تاکہ واضح کریں کہ تاریخ اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ، فعال، اور وجودی حقیقت ہے۔
یہاں “ای ز خود بیگانه ئی” نہایت اہم خطاب ہے۔ جو اپنی خودی سے بیگانہ ہو، وہ تاریخ کی قدر بھی صحیح طرح نہیں جان سکتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ تاریخ کی اصل قدر اسی پر کھلتی ہے جو اسے خود شناسی کے آلے کے طور پر دیکھتا ہو۔ اگر آدمی کا اپنے باطن سے ربط ہی منقطع ہو تو تاریخ اسے مردہ قصہ معلوم ہوگی۔ مگر جسے خودی کی تلاش ہو، وہ جانتا ہے کہ تاریخ نسلوں کی یاد، اجتماعی تجربے، اور قومی شعور کا زندہ خزانہ ہے۔ اقبال اس شعر میں تاریخ کے بارے میں پست تصور پر ضرب لگاتے ہیں۔
سوالیہ انداز کی قوت:
اقبال کا سوال محض علمی نہیں، بیدار کرنے والا سوال ہے۔ وہ مخاطب کو جھنجھوڑتے ہیں کہ کیا تم واقعی تاریخ کو صرف قصہ سمجھتے ہو؟ اس انداز سے شاعر پہلے غلط تصور سامنے لاتے ہیں، پھر اگلے اشعار میں اس کی اصلاح کرتے ہیں۔
یہ طرزِ بیان اقبال کی تعلیمی حکمت بھی ہے۔ پہلے مرض کو آشکار کرو، پھر علاج کی راہ دکھاؤ۔ یہاں مرض تاریخ کو افسانہ سمجھنا ہے۔
خود بیگانگی اور تاریخ:
جو شخص اپنے آپ سے بیگانہ ہو وہ ہر اس چیز کی اصل اہمیت سے بھی غافل ہو جاتا ہے جو اس کی شناخت بناتی ہے۔ تاریخ چونکہ خود شناسی کا آئینہ ہے، اس لیے خود بیگانہ آدمی اسے غیر ضروری سمجھ سکتا ہے۔
اقبال اس خطاب سے یہی بتاتے ہیں کہ تاریخ کی حق شناسی خودی کی بیداری سے جڑی ہوئی ہے۔ جس نے اپنے وجود کے سوال کو سنجیدگی سے لیا، وہ تاریخ کو بھی سنجیدگی سے لے گا۔
تاریخ بطور زندہ سرمایہ:
اگر تاریخ صرف افسانہ ہوتی تو وہ ملت کو روشنی، ربط، اور سمت نہ دے سکتی۔ اقبال اسے زندہ سرمایہ سمجھتے ہیں، کیونکہ اس میں ایک قوم کی آزمائشیں، بصیرتیں، کامیابیاں، لغزشیں، اور مقاصد سب محفوظ ہوتے ہیں۔
اس طرح تاریخ قصہ نہیں رہتی، تربیت بن جاتی ہے۔ وہ محض سنائی نہیں جاتی، جئی بھی جاتی ہے اور اس سے سبق بھی لیا جاتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی تاریخ کو کبھی محض معلوماتی مضمون، کبھی جذباتی نعرہ، اور کبھی بے کار ماضی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اقبال ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ ایسا رویہ خود بیگانگی کی علامت ہے۔ جو قوم اپنی تاریخ کو صرف افسانہ سمجھے، وہ اپنی شناخت کی جڑوں کو ہلکا لے رہی ہوتی ہے۔
یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ تاریخ کے ساتھ سنجیدہ ربط قائم کریں۔ اسے محض کہانی نہ سمجھیں، بلکہ اپنے وجود، اپنی قوم، اور اپنی خودی کی روشنی کے طور پر پڑھیں۔ اقبال کے نزدیک یہی تاریخ کی اصل بازیافت ہے۔
مثال
جیسے کوئی شخص اپنے خاندان کی پوری داستان کو محض پرانی کہانی سمجھ کر نظر انداز کر دے تو اپنی جڑوں سے دور ہو جاتا ہے، ویسے ہی قوم تاریخ کو افسانہ سمجھ کر اپنی خودی سے دور ہو سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں تاریخ کو صرف قصہ یا افسانہ سمجھنے والے تصور پر ضرب لگاتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ رویہ خود بیگانگی کی علامت ہے، کیونکہ تاریخ دراصل خود شناسی اور ملی بیداری کا زندہ سرمایہ ہے۔