چون خیال از خود رمیدن پیشه اش
چون خیال از خود رمیدن پیشه اش
از جهت دامن کشیدن پیشه اش
ترجمہ
زندگی کی عادت خیال کی طرح اپنے آپ سے بھی آگے نکل جانا ہے، اور اس کا طریقہ ہر ایک جہت سے دامن کھینچ لینا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال حیات کی ایک نہایت متحرک صفت بیان کرتے ہیں۔ وہ اسے “خیال” کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں، کیونکہ خیال ایک جگہ ٹھہرتا نہیں، خود اپنی حدوں سے بھی آگے نکلتا رہتا ہے، اور کسی ایک سمت میں بند رہنے پر راضی نہیں ہوتا۔ اقبال کہتے ہیں کہ زندگی کی پیشہ یہی ہے کہ وہ اپنے آپ سے رم کرے اور ہر جہت سے دامن کھینچے۔ یعنی زندگی کا اصل مزاج سکونِ جامد نہیں بلکہ تجاوز، حرکت، اور مسلسل آگے بڑھنا ہے۔ یہاں “رمیدن” میں ایک طرح کی تیزی، چوکنا پن اور جست بھی ہے۔ گویا حیات خود کو مکمل پا لینے کے بعد ساکت نہیں ہو جاتی، بلکہ ہر مرحلے کے بعد ایک نئے افق کی طرف بڑھتی ہے۔
“از جهت دامن کشیدن” کا نکتہ اس سے بھی گہرا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی بے سمت ہے، بلکہ یہ کہ وہ کسی محدود جہت میں پوری طرح قید نہیں رہ سکتی۔ اگر اسے ایک ہی طرف باندھ دیا جائے تو اس کی اصل روانی مجروح ہو جاتی ہے۔ زندگی کی وسعت یہ ہے کہ وہ ایک ہی حال، ایک ہی صورت، ایک ہی قالب، یا ایک ہی بند راستے میں خود کو ختم نہیں ہونے دیتی۔ اقبال اس طرح حیات کو ایسی قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ہر محدود تعریف کو توڑ کر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ بعد میں یہی بات ملت کی زندگی پر منطبق ہوگی کہ ایک زندہ ملت صرف رسمی ڈھانچوں سے نہیں چلتی؛ اس کے اندر بڑھنے، پھیلنے، اور نئی صورتیں پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
خیال سے تشبیہ کیوں:
خیال کا کمال یہ ہے کہ وہ بیک وقت لطیف بھی ہوتا ہے اور متحرک بھی۔ وہ دیواروں سے نہیں ٹکراتا، انہیں عبور کر جاتا ہے۔ وہ شکل سے بندھا نہیں ہوتا، اس لیے نئے نئے روپ اختیار کرتا رہتا ہے۔ اقبال جب حیات کو خیال سے تشبیہ دیتے ہیں تو وہ یہ بتاتے ہیں کہ زندگی کی اصل طاقت صرف جسمانی حرکت نہیں، باطنی تخلیقی روانی بھی ہے۔ اس کا جوہر ایسی قوت رکھتا ہے جو جامد حقیقتوں کو نرم کر دیتی ہے اور بند راہوں میں بھی راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔
یہ تشبیہ انسان کو ایک اہم سبق دیتی ہے کہ حیات کو محض محفوظ رکھنے کی چیز نہ سمجھا جائے۔ اگر اسے صرف بچا کر رکھنا ہو اور بڑھانا نہ ہو، صرف جمانا ہو اور تازہ نہ کرنا ہو، تو وہ اپنی حقیقت کا بڑا حصہ کھو دیتی ہے۔ خیال کی طرح زندگی کو بھی وسعت، تازگی اور پرواز چاہیے۔
اپنے آپ سے آگے جانا:
“از خود رمیدن” ایک بڑا تربیتی اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ زندگی محض اپنی موجودہ حالت پر مطمئن نہیں رہتی۔ وہ کل کے اپنے ہی دائرے سے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ انسان اگر واقعی زندہ ہے تو وہ اپنے کل سے بہتر آج، اور اپنے آج سے بہتر کل پیدا کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ اسی طرح ملت بھی اپنی موجودہ صورت کو آخری صورت نہیں سمجھتی بلکہ اپنے اندر اصلاح، توسیع اور تجدید کی قوت رکھتی ہے۔
یہ بات اقبال کے پورے فلسفے سے میل کھاتی ہے۔ خودی کا مطلب خود پر جم جانا نہیں بلکہ اپنے امکانات کو کھولتے جانا ہے۔ زندگی اپنے آپ سے رم کر اپنے حقیقی کمال کی طرف بڑھتی ہے۔ اگر وہ خود پر ہی مہر لگا دے تو یہ موت کی ابتدا ہے، حیات کی نہیں۔
جہت سے دامن کھینچنا:
کسی ایک جہت سے دامن کھینچ لینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ زندگی کسی جزوی پہچان کو اپنی کلیت پر حاکم نہیں ہونے دیتی۔ وہ محض معیشت نہیں، محض سیاست نہیں، محض رسم نہیں، محض جذبہ نہیں۔ اس کے اندر سب کچھ ایک وسیع تر نسبت میں جمع ہوتا ہے۔ اقبال کے نزدیک جب قومیں کسی ایک جہت میں خود کو قید کر لیتی ہیں تو ان کی حیات تنگ ہو جاتی ہے۔ زندہ ملت وہ ہے جو اپنے باطن میں وسعت رکھتی ہے اور اپنی حرکت کو کسی ایک زاویے میں محدود نہیں ہونے دیتی۔
یہی نکتہ آگے جا کر مرکز کی ضرورت سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ چونکہ حیات خود وسعت اور حرکت رکھتی ہے، اس لیے اسے ایسا مرکز بھی چاہیے جو اس کی وسعت کو بکھرنے نہ دے۔ اگر مرکز نہ ہو تو ہر جہت الگ سمت کھینچ لے گی۔ اقبال اس شعر میں پہلے حیات کی بے قیدی دکھاتے ہیں تاکہ بعد میں اس کے لیے صحیح نظم کا تصور واضح ہو۔
آج کے لیے سبق:
آج ہماری بہت سی زندگیاں ایک ایک جہت میں قید ہو چکی ہیں۔ کوئی صرف روزگار میں کھو گیا ہے، کوئی صرف اظہار میں، کوئی صرف رنجش میں، کوئی صرف خواہش میں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ زندگی کی اصل وسعت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم واقعی زندہ ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو ایک ہی محدود خانے میں بند نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اپنے اندر فکر کی تازگی، عمل کی حرکت، روح کی وسعت، اور مقصد کی بلندی باقی رکھنی ہوگی۔
یہ شعر ملت کے لیے بھی آئینہ ہے۔ اگر امت صرف ایک مسئلے، ایک نعرے، یا ایک وقتی ردعمل تک محدود ہو جائے تو اس کی زندگی تنگ پڑ جاتی ہے۔ اسے ایسی زندگی چاہیے جو خیال کی طرح تازہ، کھلی اور آگے بڑھنے والی ہو، مگر بعد میں جسے ایک مرکز بھی ملے تاکہ یہ وسعت انتشار میں نہ بدلے۔
مثال
جیسے ہوا کو ایک لمحے کے لیے روکا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل طبیعت گردش ہے، ویسے ہی زندگی کو کچھ دیر قید کیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل سرشت حرکت اور وسعت ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں حیات کو خیال کی طرح متحرک، آگے بڑھنے والی اور کسی ایک جہت میں قید نہ رہنے والی قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ زندہ فرد اور زندہ ملت دونوں اپنے موجودہ دائرے سے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔