رموز بے خودی

چون حیات از مقصدی محرم شود

چون حیات از مقصدی محرم شود

ضابط اسباب این عالم شود

ترجمہ

جب زندگی کسی مقصد کی محرم بن جاتی ہے تو یہ دنیا کے اسباب پر قابو پانے والی اور ان کو ترتیب دینے والی بن جاتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مقصد کے ایک اور اثر کو بیان کرتے ہیں: مقصد صرف زندگی کو معنی اور رفتار نہیں دیتا، اسے تدبیر، ضبط اور دنیا کے اسباب کے استعمال کی صلاحیت بھی عطا کرتا ہے۔ “محرم” کا لفظ نہایت لطیف ہے۔ محرم وہ ہوتا ہے جو کسی راز سے واقف ہو، کسی باطن تک رسائی رکھتا ہو، اور کسی حقیقت کے ساتھ اعتماد کا تعلق قائم کر چکا ہو۔ جب زندگی مقصد کی محرم ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مقصد اس کے لیے بیرونی نعرہ نہیں رہتا، بلکہ اس کے باطن میں اتر جاتا ہے۔ پھر انسان کا عمل صرف اتفاقی نہیں رہتا، وہ اپنے اسباب، وسائل اور ذرائع کو بھی بہتر طور پر سمجھنے اور برتنے لگتا ہے۔

“ضابط اسباب این عالم شود” اقبال کے فکرِ عمل کا نہایت اہم جملہ ہے۔ یہاں وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ مقصد والا انسان دنیا سے بے نیاز ہو جائے یا اسباب کو چھوڑ دے۔ اس کے برعکس وہ کہتے ہیں کہ جب مقصد واضح ہوتا ہے تو آدمی دنیا کے اسباب کو زیادہ بہتر طور پر قابو میں لاتا ہے۔ ضبط کا مطلب ہے ترتیب، تناسب، مناسب استعمال، اور بے جا ضیاع سے بچاؤ۔ مقصد سے خالی آدمی اسباب کا غلام بن سکتا ہے، مگر مقصد سے روشن آدمی انہی اسباب کو اپنے کام میں لگاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک روحانیت اور تدبیر ایک دوسرے کی ضد نہیں، اگر مقصد سچا ہو تو روحانیت اسباب پر زیادہ بامعنی گرفت پیدا کرتی ہے۔

محرم ہونے کا مطلب:

کسی مقصد کا محرم ہونا یہ ہے کہ آدمی اسے اوپری بات کے طور پر نہ رکھے بلکہ اس کے اندر تک اتر جائے۔ وہ مقصد کو جانتا بھی ہو، چاہتا بھی ہو، اور اپنے فیصلوں میں اسے حاضر بھی رکھتا ہو۔ ایسا مقصد پھر انسان پر بوجھ نہیں رہتا، اس کے شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال محض “مقصد رکھنا” نہیں کہتے بلکہ “محرم ہونا” کہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس مقصد کے نام ہوتے ہیں، مگر ان کا باطن اس سے واقف نہیں ہوتا۔ حقیقی تبدیلی وہاں آتی ہے جہاں مقصد دل کے اندر امانت بن جائے۔

اسباب پر ضبط:

دنیا اسباب سے چلتی ہے: علم، وقت، مال، ادارے، تعلقات، قانون، قوت، تربیت، اور نظم، سب اسباب ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اگر ان پر ضبط نہ ہو تو یا تو یہ ضائع ہو جاتے ہیں یا انسان ان کے تابع ہو جاتا ہے۔ مقصد سے روشن زندگی انھیں اپنے اصل محل میں رکھتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کس چیز کو کب، کتنا، اور کس رخ پر استعمال کرنا ہے۔

یہی ضبط انسان کو ردِ عمل کی زندگی سے نکال کر تعمیری زندگی میں داخل کرتا ہے۔ وہ محض حالات سے ٹکراتا نہیں رہتا بلکہ انھیں سمجھ کر برتتا ہے۔ اقبال اسی پختہ حیات کی تربیت کرنا چاہتے ہیں۔

روحانیت اور تدبیر کا ملاپ:

کچھ لوگ مقصد اور روحانیت کی بات سن کر سمجھتے ہیں کہ شاید اقبال صرف باطنی کیفیت پر زور دے رہے ہیں، مگر اس مصرعے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک سچا مقصد دنیا کے اسباب کو سنبھالنے کی قوت بھی پیدا کرتا ہے۔ توحید اور نصب العین اگر عملی نہ ہوں تو وہ ادھورے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ابتدائی مسلمان کم وسائل کے باوجود بڑا اثر رکھتے تھے۔ ان کے پاس مقصد تھا، اسی لیے وہ اسباب کے غلام نہیں بلکہ ان کے منظم استعمال کرنے والے بنے۔ اقبال اسی سنت کو پھر سے یاد دلاتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم کبھی اسباب کے پیچھے اتنے بھاگتے ہیں کہ مقصد کھو دیتے ہیں، اور کبھی مقصد کی بات اتنی مجرد کرتے ہیں کہ اسباب کے نظم کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اقبال دونوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جو زندگی مقصد کی محرم ہو، وہ اسباب سے بھاگتی نہیں بلکہ انھیں قابو میں لاتی ہے۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی تعلیم، معیشت، سیاست، ابلاغ، اداروں اور تربیت سب کو اپنے بڑے مدعا کے تابع کر کے دیکھیں۔ جب مقصد باطن میں زندہ ہو تو دنیا کے وسائل بھی بکھری ہوئی چیزیں نہیں رہتے، وہ ایک امانت اور ذمہ داری بن جاتے ہیں۔ اقبال یہی ضبط پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک ماہر معمار کے پاس نقشہ واضح ہو تو وہ اینٹ، لکڑی، لوہا اور وقت سب کو ترتیب دے لیتا ہے، ویسے ہی مقصد سے آشنا زندگی دنیا کے اسباب کو بے مصرف نہیں چھوڑتی بلکہ ان سے عمارت بناتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ جب زندگی اپنے مقصد سے باطنی طور پر جڑ جاتی ہے تو وہ دنیا کے وسائل اور اسباب پر بہتر ضبط حاصل کرتی ہے۔ سچا مقصد انسان کو اسباب کا غلام نہیں، ان کا ذمہ دار اور منظم استعمال کرنے والا بناتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button