رموز بے خودی

گر تو میخواهی مسلمان زیستن

گر تو میخواهی مسلمان زیستن

نیست ممکن جز بقرآن زیستن

ترجمہ

اگر تو واقعی مسلمان کی طرح جینا چاہتا ہے، تو قرآن کے سوا کسی اور طریقے سے یہ ممکن نہیں۔

تشریح

یہ شعر علامہ اقبال کے پیغام کا ایک نہایت صاف اور فیصلہ کن خلاصہ ہے۔ وہ کسی مبہم بات میں نہیں پڑتے، نہ کوئی پیچیدہ فلسفہ باندھتے ہیں، بلکہ سیدھا اعلان کرتے ہیں: اگر مسلمان کی طرح جینا ہے تو قرآن کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ اس میں صرف انفرادی عبادت کی نہیں، مکمل زندگی کی بات ہے۔ “مسلمان زیستن” یعنی مسلمان کی طرح جینا: سوچنا، محبت کرنا، عدل قائم کرنا، تجارت کرنا، تعلقات نبھانا، سیاست کرنا، خوف و امید کا توازن رکھنا، اور اپنے رب کے سامنے بندہ رہ کر دنیا میں باوقار انسان بننا۔ شعر کے مطابق:

مسلمان زیستن کیا ہے؟

مسلمان ہونا ایک نسبت ہے، مگر مسلمان زیستن ایک مسلسل عمل ہے۔ اقبال کے نزدیک مسلمان کی زندگی صرف اسلامی نام یا چند مذہبی اعمال سے پوری نہیں ہوتی۔ وہ ایک ایسی زندگی ہے جو توحید سے مرکز پاتی ہو، سنت سے سمت پاتی ہو، قرآن سے معیار لیتی ہو، اور اپنے باطن و ظاہر دونوں میں حق کی گواہی دیتی ہو۔

یعنی مسلمان زیستن ایک مکمل وجودی سانچہ ہے، نہ کہ جزوی مذہبی موجودگی۔ اس میں فرد بھی شامل ہے، ملت بھی، اور تہذیب بھی۔

جز بقرآن زیستن کیوں نہیں؟

اقبال کے نزدیک قرآن صرف برکت کی کتاب نہیں، بلکہ زندگی کا آئین ہے۔ اگر مسلمان اپنے وجود کے اس آئین سے کٹ جائے تو اس کا جینا مسلمان کا جینا نہیں رہتا، چاہے اس کے پاس مذہبی یادداشت موجود ہو۔ قرآن ہی وہ مرکز ہے جو مسلمان کے خیر و شر، اس کے حق و باطل، اس کے عدل و ظلم، اور اس کے فرد و اجتماع کے پیمانے متعین کرتا ہے۔

اس لیے قرآن کے بغیر مسلمان کی زندگی یا تو رسوم میں قید ہو جائے گی، یا مغلوب تہذیبوں کی نقل میں، یا جزوی فہم کے ٹکڑوں میں بکھر جائے گی۔

قرآن بطور معیارِ حیات:

بقرآن زیستن کا مطلب یہ نہیں کہ صرف تلاوت بڑھا لی جائے، بلکہ یہ کہ قرآن زندگی کے فیصلوں کا معیار بنے۔ گھر کے اندر بھی، بازار میں بھی، تعلیم میں بھی، سیاست میں بھی، فکر میں بھی، اور روحانیت میں بھی۔ اقبال اس پورے سانچے کی واپسی چاہتے ہیں۔

جب قرآن معیار بنتا ہے تو زندگی کے اندر ربط پیدا ہوتا ہے۔ انسان جزوی نہیں رہتا، اس کی عبادت اور اس کی دنیا ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں، اور اس کی خودی حق کے تابع ہو کر بلند ہوتی ہے۔

نام اور حقیقت کا فرق:

اس شعر میں ایک پوشیدہ تنبیہ یہ بھی ہے کہ مسلمان کہلانا اور مسلمان کی طرح جینا دو الگ چیزیں ہو سکتی ہیں۔ بہت سے لوگ نسبت رکھتے ہیں مگر سانچہ نہیں اپناتے، الفاظ رکھتے ہیں مگر معیار نہیں، تاریخ رکھتے ہیں مگر حال میں قرآن کی رہنمائی نہیں لیتے۔ اقبال اس فرق کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔

ان کے نزدیک اگر قرآن حیات کا مرکز نہیں تو مسلمان زیستن صرف دعویٰ رہ جاتا ہے، حقیقت نہیں بنتا۔

امت کے لیے پیغام:

یہ شعر انفرادی نصیحت بھی ہے اور اجتماعی منشور بھی۔ امت اگر دوبارہ اٹھنا چاہتی ہے تو اسے اپنی زندگیوں، اداروں، ترجیحات اور اجتماعی خواب کو قرآن کے تابع کرنا ہوگا۔ اقبال کے نزدیک اس کے بغیر کوئی دوسرا نسخہ کامیاب نہیں ہو سکتا، چاہے وہ کتنی ہی سیاسی ہوشیاری یا تہذیبی مرمت کیوں نہ رکھتا ہو۔

قرآن سے کٹی ہوئی مسلم زندگی آخرکار اپنے مرکز سے محروم رہتی ہے، اور مرکز کے بغیر نہ فرد سنبھلتا ہے نہ ملت۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان دنیا بھر میں شناخت کے بحران، تہذیبی دباؤ اور فکری انتشار سے گزر رہے ہیں۔ اس ماحول میں اقبال کا یہ شعر نہایت واضح رہنمائی دیتا ہے: اپنی زندگی کے لیے دوسرے سانچے مستعار لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر مسلمان واقعی مسلمان کی طرح جینا چاہتا ہے تو اسے قرآن کو محض تقدیس نہیں بلکہ عملاً مرکز بنانا ہوگا۔

یہ واپسی ماضی پرستی نہیں، اصل حیات کی طرف لوٹنا ہے۔ اور یہی اقبال کے نزدیک امت کی بقا، عزت اور تجدید کی اصل شرط ہے۔

مثال

جیسے مچھلی پانی کے بغیر زندہ تو شاید کچھ لمحے رہ لے مگر اپنی اصل زندگی نہیں جی سکتی، ویسے ہی مسلمان قرآن کے بغیر نام تو رکھ سکتا ہے مگر اپنی اصل زندگی نہیں پا سکتا۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں فیصلہ کن طور پر اعلان کرتے ہیں کہ مسلمان کی حقیقی زندگی قرآن کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر مسلمان زیستن مطلوب ہے تو قرآن کو زندگی کے مکمل معیار اور آئین کے طور پر اختیار کرنا ہوگا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button