رموز بے خودی

پخته از دستت اساس کار ما

پخته از دستت اساس کار ما

چاره ئی فرما پی آزار ما

ترجمہ

ہماری تعمیر کے بنیادی کام کو آپ ہی کے ہاتھ نے پختگی دی ہے، اب ہماری موجودہ تکلیف اور بگاڑ کے لیے بھی کوئی چارہ فرمائیے۔

تشریح

یہ شعر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تاریخی عظمت کو حالِ امت کی حاجت سے جوڑ دیتا ہے۔ اقبال تسلیم کرتے ہیں کہ امت کی بنیادی تعمیر، اس کے ابتدائی استحکام، اور اس کے اجتماعی کردار کی پختگی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ نمایاں ہے۔ “پختہ از دستت” کا مطلب ہے کہ اسلام کی ابتدائی جماعت کو صرف وحی نے نظریہ نہیں دیا، بلکہ صدیقانہ ہاتھوں نے اسے سنبھالا، جمایا، اور آزمائشوں میں پختہ بھی کیا۔ ان کی رفاقت، انفاق، استقامت، اور خلافت نے ملت کی بنیاد کو کچا نہیں رہنے دیا۔

پھر شاعر ان سے فریاد کرتا ہے: ہماری موجودہ اذیت کا علاج بھی بتائیے۔ یہاں مراد یہ نہیں کہ ماضی کی ہستی سے لفظی معنی میں مدد طلب کی جا رہی ہے، بلکہ یہ کہ ان کی سیرت، ان کے پیغام، اور ان کے توحیدی مزاج میں آج کے زخموں کا نسخہ موجود ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کی موجودہ آزار کا سبب تفرقہ، نام پرستی، خواہش کی غلامی، اور توحید سے دوری ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رجوع دراصل صدیقیت، اخلاص، اور وحدت کے اس سبق کی طرف رجوع ہے جو امت کے بکھراؤ کا علاج بن سکتا ہے۔

پختگی کا ہاتھ:

کسی بھی تحریک کو ابتدا کے بعد پختگی درکار ہوتی ہے۔ اگر نظریہ ہو مگر ثابت قدم آدمی نہ ہوں تو عمارت جلد ہلنے لگتی ہے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسی پختگی کا کردار ادا کیا، اس لیے اقبال انہیں امت کی ساخت کے اولین معماروں میں شمار کرتے ہیں۔

آزارِ امت کا احساس:

شاعر اپنے زمانے کی بیماریوں سے بے خبر نہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ امت کے اندر باہمی تقسیم، خود فراموشی، اور مقصد سے دوری بڑھ رہی ہے۔

اسی لیے وہ علاج بھی اسی سرچشمے میں ڈھونڈتے ہیں جہاں سے کبھی پختگی، وحدت، اور صداقت ملی تھی۔

سیرت بطور علاج:

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت میں سب سے نمایاں سبق یہ ہے کہ حق ایک ہو تو دل، نام، اور مفاد سب اس کے تابع ہو جاتے ہیں۔ یہی کیفیت امت کے زخموں کے لیے مرہم بن سکتی ہے۔

اقبال کی یہ فریاد دراصل سیرت کو دوبارہ زندہ کرنے کی فریاد ہے، نہ کہ صرف تاریخ پر افسوس کی۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم امت کے بگاڑ کا علاج اکثر نئی ترکیبوں، سطحی نعروں، یا وقتی اتحاد میں ڈھونڈتے ہیں، مگر اقبال بتاتے ہیں کہ اصل چارہ اسی وقت ملے گا جب صدیقانہ اخلاص اور توحیدی مرکزیت واپس آئے گی۔

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کی عظیم ہستیوں کو صرف یاد کرنا کافی نہیں، ان کے ہاتھوں کی پختگی کو اپنی زندگیوں میں دوبارہ پیدا کرنا اصل علاج ہے۔

مثال

جیسے کسی پرانے مضبوط معمار کے بنائے ہوئے نقشے میں عمارت کی مرمت کا راز مل جاتا ہے، ویسے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت امت کی ٹوٹی دیواروں کی اصلاح کا راستہ بتاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صدیقانہ پختگی کو امت کی اصل تعمیر کا سرچشمہ اور موجودہ بگاڑ کے علاج کا رہنما قرار دیتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button