رموز بے خودی

گرم و سرد روزگار او نگر

گرم و سرد روزگار او نگر

سختی جان نزار او نگر

ترجمہ

اس قوم پر آنے والے زمانے کے گرم و سرد کو دیکھ، اور اس کی نزار و کمزور جان کی سخت جانی کو بھی دیکھ۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال بنی اسرائیل کی تاریخ سے دوسری سطح کی عبرت نکالتے ہیں۔ پہلے وہ ہمیں ان کے احوال سے سبق لینے کو کہتے ہیں، اور اب فرماتے ہیں کہ ذرا ان پر گزرنے والے “گرم و سرد روزگار” کو دیکھو۔ یعنی آزمائش، جلا وطنی، محکومی، پراگندگی، خوف، محرومی اور تاریخی دباؤ کے باوجود یہ قوم مکمل طور پر تحلیل نہ ہوئی۔ دوسری سطر میں وہ اس کی “جان نزار” کی “سختی” دکھاتے ہیں، یعنی بظاہر کمزور اور تھکی ہوئی جان کے اندر بقا کی ایک عجیب قوت باقی رہی۔ شعر کے مطابق:

گرم و سرد روزگار:

“گرم و سرد” محض راحت اور مشقت کا عمومی ذکر نہیں، بلکہ تاریخ کے شدید اتار چڑھاؤ کی طرف اشارہ ہے۔ قوموں پر کبھی اقتدار آتا ہے، کبھی شکست؛ کبھی امن ملتا ہے، کبھی جلا وطنی؛ کبھی اجتماع میسر آتا ہے، کبھی پراگندگی۔ اقبال کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی تاریخ انہی شدید تغیرات سے بھری ہوئی ہے۔

یہاں مقصود محض تاریخ دہرانی نہیں بلکہ اس قانون کو سمجھنا ہے کہ بعض قومیں آزمائشوں کے باوجود اپنی اصل ہیئت کا کچھ حصہ بچا لیتی ہیں، اور بعض ذرا سی ضرب میں ٹوٹ جاتی ہیں۔

جان نزار کی تعبیر:

“جان نزار” سے مراد ایسی زندگی ہے جو تھکی ہوئی، دبی ہوئی، کمزور اور بظاہر بے سہارا دکھائی دے۔ اقبال یہ مانتے ہیں کہ بنی اسرائیل ہمیشہ قوت و شوکت کی مثال نہیں رہے، بلکہ ان کے بہت سے ادوار کمزوری، ذلت اور بے وطنی سے بھرے ہوئے تھے۔ مگر ان کی نزار حالت نے ان کی بقا کی قوت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔

گویا کسی قوم کی ظاہری نحیفی ہمیشہ اس کی باطنی موت کی علامت نہیں ہوتی۔ اگر اس کے اندر اجتماعی ربط کا کوئی ستون باقی ہو تو نزار جان بھی دیر تک چل سکتی ہے۔

سخت جانی کا راز:

اقبال کی نگاہ میں اس سخت جانی کا راز یہ تھا کہ اس قوم نے اپنی تاریخی یاد، مذہبی ضابطے، خاندانی ساخت اور روایتی سانچے کو پوری طرح ضائع نہیں ہونے دیا۔ وہ بکھری، دبائی گئی، آزمائی گئی، مگر ایک باطنی ربط نے اسے مکمل فنا سے بچائے رکھا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اقبال ملت اسلامیہ کے لیے آئینہ بناتے ہیں۔

جب اجتماعی صورت کسی درجے میں باقی رہتی ہے تو کمزور قوم بھی زمانے کے کئی تھپیڑے سہہ سکتی ہے۔

اقبال کا پوشیدہ سوال:

اقبال دراصل مسلمان سے پوچھتے ہیں کہ اگر ایک کمزور اور آزمائش زدہ قوم اپنی ہیئت کے تحفظ سے زندہ رہ سکتی ہے تو تم، جن کے پاس قرآن اور نبوی ہدایت موجود ہے، اپنی جمعیت کی حفاظت میں غفلت کیوں برتو۔ مسئلہ صرف روحانی صداقت کا نہیں، اجتماعی ضبط کا بھی ہے۔ حق اگر منتشر وجود میں ڈھل جائے تو اس کے اثرات کمزور پڑ جاتے ہیں۔

اس لیے وہ تاریخ کو محض قصہ نہیں بلکہ عملی تنبیہ بناتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے مسلمان معاشرے اپنی سیاسی کمزوری، فکری انتشار اور تہذیبی دباؤ کی وجہ سے خود کو نزار محسوس کرتے ہیں۔ اقبال کا شعر مایوسی نہیں سکھاتا؛ وہ یہ سکھاتا ہے کہ کمزور حالت میں بھی اگر امت اپنا دینی ربط، اخلاقی سانچہ اور اجتماعی حافظہ بچا لے تو بقا ممکن رہتی ہے۔

اصل خطرہ کمزوری نہیں، بلکہ کمزوری کے ساتھ بے ربطی ہے۔ نزار جان کی سختی اسی وقت باقی رہتی ہے جب اس کے پاس کوئی مرکز ہو۔

مثال

جیسے ایک کمزور مگر جڑ سے جڑا ہوا پودا سخت موسم سہہ لیتا ہے، مگر بظاہر ہرا مگر جڑ سے کٹا پودا جلد سوکھ جاتا ہے، ویسے ہی قوموں کی بقا میں بھی ربط اصل چیز ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے اتار چڑھاؤ اور ان کی نزار جان کی سختی کو مثال بناتے ہیں۔ وہ دکھاتے ہیں کہ اجتماعی ربط باقی ہو تو کمزور قوم بھی زمانے کے شدید دباؤ میں زندہ رہ سکتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button