رموز بے خودی

فرد چون پیوند ایامش گسیخت

فرد چون پیوند ایامش گسیخت

شانهٔ ادراک او دندانه ریخت

ترجمہ

جب فرد کے دنوں کا باہمی ربط ٹوٹ گیا تو اس کے ادراک کی کنگھی کے دانت جھڑ گئے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال نہایت قوت کے ساتھ یہ بتاتے ہیں کہ وقت کے تسلسل سے کٹ جانا ادراک کی کم زوری بن جاتا ہے۔ “پیوند ایام” سے مراد آدمی کے ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان زندہ تعلق ہے۔ جب یہ تعلق ٹوٹ جاتا ہے تو شعور کے اندر ترتیب باقی نہیں رہتی۔ اقبال اس نقصان کو “شانهٔ ادراک” کے استعارے میں بیان کرتے ہیں۔ شانہ الجھے ہوئے بالوں کو سلجھانے کے لیے ہوتا ہے، اور اس کے دانت ترتیب پیدا کرتے ہیں۔ اگر یہی دانت گر جائیں تو شانہ محض بے کار ٹکڑا رہ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ادراک کا زمانی ربط ٹوٹ جائے تو شعور کے پاس چیزوں کو سلجھانے، فرق سمجھنے، اور اپنے وجود کو منظم کرنے کی قوت کم ہو جاتی ہے۔

یہ تمثیل فردی نفسیات کے ساتھ ساتھ ملی نفسیات پر بھی پوری طرح صادق آتی ہے۔ انسان جب اپنے دنوں، تجربات، عہدوں، اور مسلسل بننے والی داستان سے کٹ جاتا ہے تو اس کی خودی بکھر جاتی ہے۔ ملت بھی اگر اپنے ماضی اور حال کے پیوند سے محروم ہو جائے تو وہ اپنے تہذیبی الجھاؤ سلجھا نہیں پاتی۔ اقبال یہی بتانا چاہتے ہیں کہ ادراک کا حسن صرف ذہانت میں نہیں، تسلسل میں بھی ہے۔ وقت سے کٹا ہوا شعور معلومات تو رکھ سکتا ہے، مگر ربطِ معنی کھو بیٹھتا ہے۔

پیوندِ ایام:

پیوند دو الگ چیزوں کو زندہ طور پر ملانے کا نام ہے۔ ایام کے پیوند کا مطلب ہے کہ مختلف دن، مختلف تجربے، اور مختلف ادوار آپس میں ربط رکھیں۔ انسان اپنے کل سے سیکھے، آج میں جئے، اور فردا کی طرف بڑھے۔

اگر یہ پیوند ٹوٹ جائے تو زندگی جزیرے بن جاتی ہے۔ ہر لمحہ الگ پڑ جاتا ہے اور شعور کے پاس ان سب کو جوڑنے والا دھاگا کم زور پڑ جاتا ہے۔

شانۂ ادراک:

شانہ ترتیب، تہذیب، اور سلجھاؤ کی علامت ہے۔ ادراک کو شانہ کہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ سمجھنے کا عمل بھی ایک نظم پیدا کرتا ہے۔ انسان اپنے تجربات کو ترتیب دیتا ہے، اپنے احساسات کو معنی دیتا ہے، اور اپنی دنیا کو قابلِ فہم بناتا ہے۔

دندانے جھڑنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ قوت ٹوٹ گئی۔ اب شعور کے پاس سلجھانے کی صلاحیت کم رہ گئی۔ یہ صرف فکری کم زوری نہیں، وجودی انتشار ہے۔

خودی اور تسلسل:

خودی کو پختہ ہونے کے لیے یاد، تاریخ، اور ربطِ ایام چاہیے۔ اگر آدمی اپنی ہی گزشتہ زندگی سے بیگانہ ہو جائے تو وہ ہر مرحلے پر خود کو نئے سرے سے اور بے بنیاد طور پر جینے لگتا ہے۔ یہ آزادی نہیں، شکستہ وحدت ہے۔

ملت کے لیے بھی یہی نکتہ بنیادی ہے۔ اپنی سرگذشت کو بھولنے والی قوم اپنے ادراک کی کنگھی کے دانت کھو دیتی ہے اور اپنے تاریخی بالوں کی الجھنیں سلجھا نہیں پاتی۔

آج کے لیے سبق:

آج کی تیز رفتار دنیا میں آدمی کا ماضی سے ربط بہت جلد کم زور ہو جاتا ہے۔ مسلسل نیا پن، وقتی رجحانات، اور فوری رد عمل اس قدر غالب ہو جاتے ہیں کہ زندگی کا تسلسل دھندلا سکتا ہے۔ اقبال ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ یہ صرف طرزِ زندگی کا مسئلہ نہیں، ادراک کا مسئلہ بھی ہے۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ اپنے دنوں کو جوڑ کر رکھیں، اپنے تجربات کا ربط قائم رکھیں، اور اپنے باطن کی کنگھی کے دانت گرنے نہ دیں۔ اقبال کے نزدیک پختہ خودی وہی ہے جو وقت کے تسلسل کے ساتھ اپنی سمجھ کو قائم رکھے۔

مثال

جیسے ٹوٹی ہوئی کنگھی الجھے ہوئے بال نہیں سلجھا سکتی، ویسے ہی ماضی اور حال کے ربط سے محروم شعور اپنے تجربات کی الجھنیں درست طرح نہیں سمجھ سکتا۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ جب فرد اپنے دنوں کے تسلسل سے کٹ جاتا ہے تو اس کے ادراک کی تنظیمی قوت کم زور ہو جاتی ہے۔ خودی کی حفاظت کے لیے ربطِ ایام بنیادی شرط ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button