رموز بے خودی

نو دمیدہ سبزۂ خاکش ہنوز

نو دمیدہ سبزۂ خاکش ہنوز

سرد خوں اندر رگ تاکش ہنوز

ترجمہ

اس کی مٹی کا سبزہ ابھی تازہ پھوٹا ہے، اور اس کی بیل کی رگوں میں خون ابھی سرد ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خام فرد کی نوخیزی اور اس کے جذبات کی سردی کو نباتاتی تمثیل سے بیان کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

تازہ پھوٹا ہوا سبزہ:

اقبال کہتے ہیں کہ اس فرد کی مٹی کا سبزہ ابھی تازہ پھوٹا ہے۔ یعنی اس کی زندگی اور اس کی صلاحیتیں ابھی نوخیز اور ابتدائی مرحلے میں ہیں۔

جیسے نیا اُگا ہوا سبزہ ابھی کمزور اور نازک ہوتا ہے، ویسے ہی یہ فرد ابھی پختگی اور مضبوطی سے دور ہے۔

رگوں میں سرد خون:

شاعر کہتے ہیں کہ اس کی بیل کی رگوں میں خون ابھی سرد ہے۔ یعنی اس کے اندر ابھی وہ حرارت، جوش اور ولولہ پیدا نہیں ہوا جو زندگی کو متحرک رکھتا ہے۔

سرد خون بے حسی اور جمود کی علامت ہے، جو بتاتی ہے کہ فرد کے جذبات ابھی بیدار اور گرم نہیں ہوئے۔

نوخیزی کی کیفیت:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ خام فرد ابھی زندگی کی حرارت اور جوش سے محروم ہے، اور اس کی صلاحیتیں ابھی پروان چڑھنے کے مرحلے میں ہیں۔

حرارت کی ضرورت:

اس فرد کو زندگی کی حرارت اور جوش کے لیے تربیت اور رہنمائی درکار ہے، جو اس کے سرد خون کو گرمائے اور اسے متحرک کرے۔

مثال

جیسے نیا اُگنے والا پودا سردی میں سست اور کمزور رہتا ہے اور دھوپ کی حرارت پا کر پروان چڑھتا ہے، ویسے ہی خام فرد تربیت کی حرارت پا کر متحرک اور توانا ہوتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام فرد ابھی نوخیز اور جذبات کی حرارت سے محروم ہے، اور اسے زندگی کی گرمی کے لیے تربیت درکار ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button