رموز بے خودی

عبد مسلم کمتر از احرار نیست

عبد مسلم کمتر از احرار نیست

خون شه رنگین تر از معمار نیست

ترجمہ

مسلمان غلام آزاد لوگوں سے کمتر نہیں، اور بادشاہ کا خون معمار کے خون سے زیادہ سرخ نہیں ہوتا۔

تشریح

یہ شعر پوری حکایت کا سب سے واضح اور فیصلہ کن اعلان ہے۔ اقبال اسلامی مساوات کو کسی اشارے یا پردے میں نہیں رکھتے بلکہ صاف الفاظ میں بتا دیتے ہیں کہ انسانی قدر خون، جان اور حق کے اعتبار سے برابر ہے۔ نہ غلام اپنی انسانیت میں کمتر ہے، نہ بادشاہ کا خون کسی عام معمار سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر پوری کہانی کھڑی تھی۔ شعر کے مطابق:

عبد مسلم اور احرار:

اقبال “عبد مسلم” اور “احرار” کا تقابل لا کر طبقاتی اور سماجی تفاوت کی جڑ پر ضرب لگاتے ہیں۔ غلامی یا کم تر سماجی حیثیت اسلامی میزان میں انسان کی اصل قدر کم نہیں کرتی۔ اگر ایک مسلمان بندہ دینی و اخلاقی مرتبے میں صاحبِ کرامت ہے تو اسے قانون، خون اور عزت کے معاملے میں پست سمجھنا اسلام کی روح کے خلاف ہے۔

یہ اعلان انسان کی بنیادی حرمت کو طبقاتی تقسیم سے آزاد کر دیتا ہے۔

خون کی برابری:

“خون شه رنگین تر از معمار نیست” ایک نہایت بلیغ جملہ ہے۔ خون سب کا سرخ ہے؛ اس میں تاج، تخت، نسب، دولت یا جاہ کی کوئی الگ رنگت نہیں۔ اقبال اس تصویری استعارے سے بتاتے ہیں کہ جان کی قیمت میں فرق کا دعویٰ سراسر باطل ہے۔ اگر معمار کا ہاتھ کاٹنا جرم ہے تو سلطان کی جان بھی اسی معیار کے تحت جواب دہ ہوگی۔

قانون کے لیے جسم کی حقیقت سب کے حق میں ایک ہی ہے۔

اسلامی مساوات کا نقطۂ عروج:

یہ شعر اس حکایت کی نظری چوٹی ہے۔ پہلے عدالت، پھر جواب دہی، پھر اعتراف، پھر قصاص کا اصول، اور اب نتیجہ: انسانی برابری۔ اقبال یہاں یہ دکھاتے ہیں کہ اسلام میں مساوات محض سیاسی فارمولہ نہیں بلکہ خدا کے سامنے مشترک بندگی اور قانون کے سامنے مشترک حرمت کا لازمی نتیجہ ہے۔

جو ملت اس سچ کو بھول جائے، وہ اپنے دین کے عدالتی حسن سے دور ہو جاتی ہے۔

غلامی کے پس منظر میں عظمت:

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اقبال مساوات کو صرف آزاد انسانوں کے درمیان نہیں بیان کرتے بلکہ غلام اور آزاد کے فرق کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی پیغام تاریخی سماجی درجہ بندیوں کے اندر بھی ایک بلند تر انسانی اصول قائم کرتا ہے۔ بندگیٔ خدا انسان کو ایسی حرمت دیتی ہے جس کے بعد دنیاوی مراتب آخری معیار نہیں رہتے۔

اسی وجہ سے اسلامی مساوات تہذیبی انقلاب بن جاتی ہے، صرف سیاسی اصلاح نہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج غلامی کی شکلیں بدل گئی ہیں: معاشی کمزوری، ادارہ جاتی پستی، نسلی تعصب، طبقاتی محرومی، یا کم درجے کا سماجی مقام۔ اقبال کا یہ شعر ہر زمانے کے لیے اعلان ہے کہ کسی انسان کی جان، عزت اور حق اس کی حیثیت کی وجہ سے کم نہیں ہو سکتے۔ اگر قانون طاقت ور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو جائے تو یہ اسی اصول کی نفی ہے۔

انصاف کی سچائی اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب معمار اور بادشاہ، ملازم اور مالک، کمزور اور بااثر، سب کی جان ایک ہی میزان میں تلی جائے۔

مثال

جب کسی حادثے یا ظلم کے معاملے میں غریب مزدور کے خون کا حساب بھی اسی سنجیدگی سے لیا جائے جس طرح کسی بڑے خاندان یا بااثر شخص کے نقصان کا لیا جاتا ہے، تو یہی اس شعر کی روح ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں صاف اعلان کرتے ہیں کہ انسانی خون اور حق کی قیمت میں طبقاتی فرق نہیں۔ اسلامی مساوات کا مطلب یہی ہے کہ کمزور انسان بھی قانون اور حرمت میں بادشاہ کے برابر کھڑا ہو۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button