سفته گوش سطوت شاهان نیم
سفته گوش سطوت شاهان نیم
قطع کن از روی قرآن دعویم
ترجمہ
میں ان لوگوں میں سے نہیں کہ بادشاہوں کی ہیبت سے دب جاؤں؛ میرا دعویٰ قرآن کے مطابق فیصلہ کر دو۔
تشریح
یہ شعر مظلوم کے وقار، دینی شعور اور عدالتی اعتماد کی نہایت روشن مثال ہے۔ معمار قاضی کے سامنے کھڑے ہو کر یہ نہیں کہتا کہ میری کمزوری دیکھو اور مجھ پر ترس کھاؤ؛ وہ کہتا ہے: مجھے قرآن کے مطابق انصاف دو۔ یعنی اس کی امید شخصیتوں، سفارشوں اور جذباتی اپیل سے نہیں، اصول سے وابستہ ہے۔ یہی اسلامی مساوات کا مرکز ہے۔ شعر کے مطابق:
سطوتِ شاہاں سے بے خوفی:
“سفته گوش سطوت شاہان نیم” میں ایک خاص وقار ہے۔ معمار یہ اعلان کرتا ہے کہ بادشاہ کی دھاک اس کے شعور کو بند نہیں کر سکتی۔ اس کا مطلب بغاوت یا گستاخی نہیں، بلکہ حق کے سامنے داخلی آزادی ہے۔ اسلامی انسانیت کی یہی شان ہے کہ وہ تخت کی چمک سے مرعوب ہو کر حق کا دعویٰ ترک نہیں کرتی۔
دل کا یہ استقلال ہی مظلوم کو فریادی سے شہری بناتا ہے۔
شخصیت نہیں، قرآن:
معمار اپنی درخواست کو بہت بلند سطح پر لے جاتا ہے: “قرآن کے مطابق فیصلہ کرو۔” یہ بات قاضی کو بھی ایک معیار کے تابع کرتی ہے اور سلطان کو بھی۔ گویا نہ فریادی اپنی مظلومیت سے قانون بدلوانا چاہتا ہے اور نہ بادشاہ اپنی طاقت سے۔ دونوں کے اوپر ایک مشترک میزان قائم ہے۔
اسلامی مساوات کی اصل عظمت یہی ہے کہ سب کو ایک بلند تر حق کے سامنے لایا جائے۔
دعویٰ کا شرعی وقار:
یہاں دعویٰ محض نجی جھگڑا نہیں رہتا، بلکہ ایک اخلاقی سوال بن جاتا ہے۔ جب کوئی مظلوم قرآن کی بنیاد پر فیصلہ مانگتا ہے تو وہ گویا پوری ملت سے پوچھتا ہے کہ تمہاری تہذیب کا عملی مرکز کیا ہے؟ کتاب صرف تلاوت کے لیے ہے یا عدالت کے لیے بھی؟ اقبال اسی نکتے کو نمایاں کرتے ہیں کہ قرآن کی صداقت اس وقت جانچ میں آتی ہے جب وہ طاقت کے خلاف بھی معیار بنے۔
اگر قرآن کمزور کی ڈھال نہ بن سکے تو سماج کا دعویٰ ادھورا رہ جاتا ہے۔
مظلوم کی خودی:
معمار کی آواز میں خود ترحمی نہیں، خودی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا حق سچا ہے، اس لیے وہ سیدھا اصول تک جاتا ہے۔ اقبال کے ہاں خودی کا ایک درجہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے حق کو اللہ کے میزان سے وابستہ سمجھے، نہ کہ لوگوں کی خوشنودی یا ہمدردی سے۔ اس مقام پر مظلوم کمزور جسم کے باوجود اخلاقی طور پر بہت بلند نظر آتا ہے۔
یہی خودی اسلامی مساوات کے اندر عزتِ نفس کا سرچشمہ ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے نظاموں میں بھی عام آدمی جب کہتا ہے کہ میرا معاملہ ضابطے، آئین یا قانون کے مطابق سنا جائے، تو وہ اسی روایت کو زندہ کرتا ہے۔ انصاف شخصی تعلقات، طاقت، سیاسی اثر یا میڈیا دباؤ سے نہیں بلکہ ثابت اصول سے ہونا چاہیے۔ اقبال کا یہ شعر جدید قانونی شعور کے لیے بھی غیر معمولی رہنمائی رکھتا ہے۔
جس معاشرے میں کمزور کو اصول کا حوالہ دینے کا اعتماد ہو، وہاں ابھی عدل کی امید باقی ہوتی ہے۔
مثال
ایک عام شہری جب یہ کہتا ہے کہ میرا مقدمہ قانون کے مطابق سنا جائے، چاہے سامنے کوئی بڑا افسر، سرمایہ دار یا سیاست دان ہی کیوں نہ ہو، تو وہ اسی اخلاقی جرات کا وارث بنتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ اسلامی مساوات کی اصل قوت یہ ہے کہ مظلوم شخص بھی بادشاہ کی ہیبت سے آزاد ہو کر قرآن کی بنیاد پر انصاف مانگ سکتا ہے۔ یہی آزادی قانون کو زندہ اور ملت کو باوقار بناتی ہے۔