رموز بے خودی

تا خدا «ان یطفئوا» فرموده است

تا خدا «ان یطفئوا» فرموده است

از فسردن این چراغ آسوده است

ترجمہ

چونکہ خدا نے یہ فرما دیا ہے کہ لوگ اس نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اس لیے یہ چراغ بجھنے سے مطمئن اور محفوظ ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں قرآن کے اس مضمون سے استدلال کرتے ہیں کہ مخالفین ہمیشہ حق کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر خدا اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے۔ یہاں “ان یطفئوا” اس قرآنی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ باطل قوتیں نورِ حق کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتی ہیں۔ اقبال فرماتے ہیں کہ چونکہ خدا نے خود اس کشمکش کو بیان کر دیا ہے، اس لیے اہلِ حق کو اس چراغ کے مکمل بجھ جانے کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ یہ چراغ تاریخ کے ہنگاموں سے گزرتا ہے، مگر اس کی اصل حفاظت خدا کے وعدے سے ہے۔ شعر کے مطابق:

چراغ سے مراد کیا ہے:

یہ چراغ محض ایک مذہبی استعارہ نہیں بلکہ نورِ وحی، ایمان، حق، ذکر اور امت کی معنوی حیات کی علامت ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ وہ روشنی ہے جو انسان کو اس کی اصل منزل دکھاتی ہے، باطل اور حق میں فرق سکھاتی ہے، اور ظلمتِ نفس و دنیا کے اندر راستہ پیدا کرتی ہے۔

اگر یہ چراغ بجھ جائے تو انسان کے پاس قوت تو رہ سکتی ہے مگر بصیرت نہیں، حرکت تو رہ سکتی ہے مگر سمت نہیں۔ اسی لیے اقبال امت کی اصل بقا کو اسی نور سے وابستہ سمجھتے ہیں۔

مخالفانہ کوششوں کی حقیقت:

اقبال اس شعر میں خوش فہمی نہیں پھیلاتے۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ باطل قوتیں ہمیشہ حق کے خلاف صف آرا رہی ہیں۔ کبھی فکر کے میدان میں، کبھی اقتدار کے میدان میں، کبھی تہذیب کے میدان میں اور کبھی اخلاقی ابہام کے ذریعے۔ “ان یطفئوا” بتاتا ہے کہ یہ کشمکش حادثہ نہیں بلکہ تاریخ کا ایک معروف قانون ہے۔

مگر اسی کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ دشمنی کی موجودگی حق کی شکست کی دلیل نہیں۔ بلکہ بہت مرتبہ یہی مزاحمت اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ نور واقعی زندہ ہے اور باطل کو بے چین کر رہا ہے۔

آسودگی کا معنی:

“از فسردن این چراغ آسوده است” کا مطلب یہ نہیں کہ اہلِ ایمان کو عمل چھوڑ دینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں مایوس، دہشت زدہ اور شکست خوردہ ذہنیت میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ جب خدا نے خود نور کی حفاظت اور اس کی تکمیل کا وعدہ دیا ہے تو مسلمان کو عمل، صبر اور یقین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، نہ کہ خوف سے اپنی ذمہ داری چھوڑ دینی چاہیے۔

یہ آسودگی یقین کی آسودگی ہے، بے عملی کی نہیں۔ یعنی دل مطمئن ہو، مگر ہاتھ کام میں لگے رہیں۔

تاریخ میں نور کا سفر:

تاریخ گواہ ہے کہ انبیا کی دعوت، قرآن کا نور، اہلِ حق کی صداقت اور ملتِ مسلمہ کی روحانی روایت بار بار آزمائش میں آئی، مگر ہر مرتبہ کسی نہ کسی نئی صورت میں یہ چراغ دوبارہ روشن ہوا۔ کبھی یہ مدرسے میں جگمگایا، کبھی میدانِ عمل میں، کبھی اہلِ دل کی مجالس میں، کبھی علم و فکر کے احیا میں۔

اقبال اسی مسلسل تجدید کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ نور کی اصل حفاظت انسان کی ظاہری طاقت سے بڑھ کر خدا کے وعدے میں ہے۔ یہی امت کی امید کا گہرا سرچشمہ ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج جب امت فکری یلغار، تہذیبی دباؤ، سیاسی کمزوری اور اخلاقی ابتری کا شکار نظر آتی ہے تو مایوسی آسان ہو جاتی ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حق کے چراغ کے خلاف سازشیں نئی نہیں، اور نہ ہی ان سے نور کی اصل حقیقت بجھتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود اس چراغ کے خادم بننے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

اگر ہم اپنے دلوں، اپنے گھروں، اپنے اداروں اور اپنی زبان و قلم میں اس نور کو جگہ دیں تو ہم اس الٰہی وعدے کی زمینی شہادت بن سکتے ہیں۔

مثال

جیسے طوفان میں ایک محفوظ مشعل کبھی مدھم ضرور پڑتی ہے مگر اگر اس کے گرد محافظ ڈھانچہ اور اندر اصل شعلہ باقی ہو تو وہ مکمل نہیں بجھتی، ویسے ہی نورِ حق کو تاریخ کی آندھیاں آزماتی ہیں مگر خدا کے وعدے کی وجہ سے اس کی اصل روشنی باقی رہتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ حق کے نور کو بجھانے کی کوششیں ہمیشہ رہیں گی، مگر چونکہ خدا نے اس کشمکش کو خود بیان کیا اور اپنے نور کی تکمیل کا وعدہ دیا ہے، اس لیے یہ چراغ اصل معنی میں بجھنے سے محفوظ ہے۔ اہلِ ایمان کو اسی یقین کے ساتھ عمل اور استقامت اختیار کرنی چاہیے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button