رموز بے خودی

زنده هر کثرت ز بند وحدت است

زنده هر کثرت ز بند وحدت است

وحدت مسلم ز دین فطرت است

ترجمہ

ہر کثرت اسی وقت زندہ رہتی ہے جب وہ وحدت کے بند میں بندھی ہو، اور مسلمان کی وحدت دینِ فطرت سے پیدا ہوتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں وحدت کو آزادی کے مخالف نہیں بلکہ زندگی کی شرط کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کثرت اگر کسی بند سے نہ جڑی ہو تو اس کی حیات بکھر جاتی ہے۔ مگر مسلمان کی وحدت کوئی مصنوعی جبر نہیں، بلکہ دینِ فطرت سے پیدا ہونے والی اندرونی ہم آہنگی ہے۔ شعر کے مطابق:

بندِ وحدت کیوں ضروری ہے:

“بند” کا لفظ یہاں پابندی کے منفی معنی میں نہیں، بلکہ اس ربط کے معنی میں ہے جو مختلف اجزا کو ایک ساتھ رکھتا ہے۔ جیسے دانے تسبیح میں بندھے ہوں، یا اینٹیں عمارت میں۔ اگر یہ ربط نہ ہو تو اجزا اپنی جگہ موجود رہتے ہوئے بھی کسی بڑی حیات میں تبدیل نہیں ہوتے۔ اقبال کے نزدیک کثرت کی زندگی وحدت کے اسی بند سے ہے۔

اس لیے وحدت کثرت کی دشمن نہیں، اس کی محافظ ہے۔

مصنوعی اور فطری وحدت میں فرق:

بعض وحدتیں خوف سے بنتی ہیں، بعض طاقت سے، بعض معاشی مفاد سے۔ مگر ایسی وحدتیں جلد ٹوٹ جاتی ہیں۔ مسلمان کی وحدت اقبال کے نزدیک دینِ فطرت سے پیدا ہوتی ہے، یعنی اس حقیقت سے جو انسان کے اندرونی ڈھانچے، اس کے رب سے تعلق اور اس کی اخلاقی ساخت کے موافق ہو۔

فطری وحدت اسی لیے دیرپا ہوتی ہے، کیونکہ وہ باہر سے مسلط نہیں بلکہ اندر سے قبول شدہ ہوتی ہے۔

دینِ فطرت کیا ہے:

دینِ فطرت وہ دین ہے جو انسان کی اصل ساخت سے ہم آہنگ ہو: توحید، عدل، پاکیزگی، ذمہ داری، محبت، اور ایک بڑے مقصد کے تحت زندگی گزارنا۔ اقبال کے نزدیک اسلام اسی لیے ملت کی وحدت کا صحیح سرچشمہ ہے، کیونکہ وہ انسان کے حقیقی جوہر سے متصادم نہیں بلکہ موافق ہے۔

جب امت اس فطری دین سے جڑتی ہے تو اس کی وحدت بھی زندہ اور معقول رہتی ہے۔

زندہ کثرت کا تصور:

اقبال کثرت کو مٹانا نہیں چاہتے۔ وہ اسے زندہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ زندہ کثرت وہ ہے جس میں تنوع موجود ہو، مگر بکھراؤ نہ ہو؛ انفرادیت ہو، مگر مرکزیت بھی ہو؛ فرق ہوں، مگر دشمنی نہ ہو۔ یہ حالت تب پیدا ہوتی ہے جب کثرت کسی اعلیٰ فطری وحدت کے تحت رہتی ہے۔

یوں وحدت ہجوم نہیں بناتی بلکہ تنوع کو زندہ رکھ کر اس کی صحیح ترتیب قائم کرتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج یا تو وحدت کے نام پر سخت جبر کیا جاتا ہے یا آزادی کے نام پر ہر ربط توڑ دیا جاتا ہے۔ اقبال ان دونوں کے درمیان فطری راہ دکھاتے ہیں۔ مسلمان کی وحدت نہ مصنوعی قومیتوں سے پیدا ہونی چاہیے اور نہ محض وقتی معاہدوں سے، بلکہ اس دین سے جو اس کے باطن اور رب کے ساتھ فطری نسبت رکھتا ہے۔

یہی وحدت امت کو زندہ رکھتی ہے اور اس کی کثرت کو بامعنی بناتی ہے۔

مثال

ایک باغ میں مختلف پھول ہوتے ہیں، مگر اگر ان سب کی جڑوں کو پانی دینے والا نظام ایک نہ ہو تو باغ مرجھانے لگتا ہے۔ تنوع کی بقا کے لیے بھی ایک بنیادی ربط ضروری ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق ہر کثرت کی زندگی وحدت کے بند سے ہے، اور مسلمان کی سچی وحدت دینِ فطرت سے پیدا ہوتی ہے۔ فطری نبوی ربط ہی امت کے تنوع کو زندہ اور مربوط رکھ سکتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button