فطرتش وارفتۂ یکتائی است
فطرتش وارفتۂ یکتائی است
حفظ او از انجمن آرائی است
ترجمہ
فرد کی فطرت اگرچہ تنہائی اور یکتائی کی طرف مائل ہے، مگر اس کی حفاظت اور بقا انجمن آرائی یعنی اجتماعی زندگی میں ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں انسان کی فطرت کے ایک دلچسپ تضاد کو بیان کرتے ہیں کہ وہ بظاہر تنہائی پسند ہے مگر اس کی بقا اجتماع میں ہے۔ شعر کے مطابق:
تنہائی کی طرف میلان:
اقبال کہتے ہیں کہ فرد کی فطرت میں یکتائی اور تنہائی کی طرف ایک میلان موجود ہے۔ وہ اپنی ذات میں مگن رہنا اور اپنی الگ حیثیت قائم رکھنا چاہتا ہے۔
یہ میلان فطری ہے اور اس میں فرد کی انفرادیت اور خودی کا پہلو پوشیدہ ہے۔
بقا اجتماع میں:
مگر اقبال واضح کرتے ہیں کہ اس تنہائی پسند فطرت کے باوجود فرد کی حفاظت اور بقا اجتماعی زندگی یعنی انجمن آرائی میں ہے۔
تنہا فرد کمزور اور بے سہارا ہے، جبکہ اجتماع اسے تحفظ، قوت اور تسلسل عطا کرتا ہے۔ اس لیے فطری میلان کے باوجود اسے اجتماع سے جُڑنا پڑتا ہے۔
فطرت اور مصلحت کا توازن:
یوں فرد کی زندگی میں دو تقاضے کارفرما ہیں: ایک اپنی انفرادیت کو قائم رکھنا اور دوسرا اجتماع میں شامل ہو کر محفوظ رہنا۔ حقیقی کمال ان دونوں کے توازن میں ہے۔
اجتماع کی ناگزیریت:
اقبال سمجھاتے ہیں کہ خواہ فرد کتنا ہی تنہائی پسند کیوں نہ ہو، اس کی بقا اور تکمیل بہرحال اجتماع ہی سے ممکن ہے۔
مثال
جیسے ایک تنہا درخت تیز آندھی میں جلد گر سکتا ہے، مگر جنگل میں کھڑے درخت ایک دوسرے کو سہارا دے کر محفوظ رہتے ہیں، ویسے ہی فرد اجتماع میں رہ کر ہی محفوظ اور توانا رہتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ فرد کی فطرت بظاہر تنہائی پسند ہے، مگر اس کی حقیقی حفاظت اور بقا اجتماعی زندگی میں ہے۔

