مدتی پیکار با احرار داشت
مدتی پیکار با احرار داشت
با خداوندان باطل کار داشت
ترجمہ
ایک مدت تک اس کا مقابلہ آزاد منشوں سے بھی رہا، اور باطل کے خداوندوں سے بھی اس کا معاملہ پڑا۔
تشریح
اس شعر میں اقبال دینِ حق اور دعوتِ توحید کی تاریخی جدوجہد کا ایک پیچیدہ پہلو سامنے لاتے ہیں۔ “پیکار” کا لفظ صرف ظاہری جنگ تک محدود نہیں؛ یہ فکری، اخلاقی، سیاسی، تہذیبی اور روحانی کشمکش سب کو اپنے اندر سمیٹتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس دعوت کو “احرار” سے بھی معاملہ پڑا اور “خداوندانِ باطل” سے بھی۔ اس میں ایک نہایت باریک نکتہ ہے: حق کی راہ میں مزاحمت صرف ظالموں اور باطل کے سرداروں سے نہیں آتی، کبھی کبھی وہ لوگ بھی مقابل میں آ جاتے ہیں جو اپنے آپ کو آزاد، باوقار یا صاحبِ غیرت سمجھتے ہیں، مگر ان کی آزادی ابھی توحید کے نظام سے ہم آہنگ نہیں ہوتی۔
“خداوندانِ باطل” سے مراد وہ طاقتیں ہیں جو جھوٹے اقتدار، فاسد معبودوں، گمراہ نظاموں یا خود ساختہ برتریوں کی محافظ ہوں۔ توحید کی دعوت چونکہ انسان کو ہر باطل مرکز سے نکال کر ایک سچے مرکز کی طرف بلاتی ہے، اس لیے اسے لازماً ان قوتوں سے تصادم پیش آتا ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے یہ سمجھاتے ہیں کہ ایمان، اذان، اور توحید کی صدا جسے ہم روحانی نعمت سمجھتے ہیں، وہ صرف مراقبے کے ذریعے نہیں آئی؛ اس کے پیچھے ایک طویل پیکار بھی تھی۔ اس لیے حق کا ورثہ امن پسند کم زوری سے نہیں، بیدار استقامت سے محفوظ رہتا ہے۔
احرار سے پیکار:
یہاں “احرار” کا لفظ بہت غور طلب ہے۔ ہر آزاد دکھائی دینے والا انسان حقیقتاً حق کا ساتھی نہیں ہوتا۔ بعض لوگ رسمی بندگیوں سے تو نکل آتے ہیں، مگر ابھی سچے مرکز تک نہیں پہنچتے۔ ان کی آزادی انا، نسب، قومیت، یا ذاتی غیرت کی سطح پر رک جاتی ہے۔ توحید ان سب کو بھی چیلنج کرتی ہے، کیونکہ وہ انسان کو ایک نئے بندھن میں لاتی ہے: بندگیِ حق۔
اس لیے کبھی حق کی دعوت کو ایسے لوگوں کی مزاحمت بھی سہنی پڑتی ہے جو خود کو ذلیل نہیں سمجھتے، مگر ابھی ان کے پاس مقصدِ اعلیٰ کی تسلیم نہیں ہوتی۔ اقبال اس سطح کی پیچیدگی کو ایک مصرعے میں سمو دیتے ہیں۔
خداوندانِ باطل:
باطل کے خداوند وہ سب قوتیں ہیں جو انسان کو غلط مرکزوں کے گرد باندھنا چاہتی ہیں۔ کبھی یہ بت پرستی کی شکل ہوتی ہے، کبھی ظلم کے نظام کی، کبھی طبقاتی برتری کی، کبھی قومی یا تہذیبی تکبر کی، اور کبھی خود انسان کے نفس کی۔ توحید ان سب کے اقتدار کو چیلنج کرتی ہے، کیونکہ وہ اعلان کرتی ہے کہ حقیقی حاکم اور معبود صرف اللہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ توحید محض ایک فکری قضیہ نہیں، ایک انقلابی اعلان بھی ہے۔ اس کے نتیجے میں جھوٹے مرکزوں کے محافظ چین سے نہیں بیٹھتے۔ اقبال اس تصادم کے تاریخی وزن کو یاد دلاتے ہیں۔
ورثۂ حق کی قیمت:
یہ شعر پچھلے شعر کے ساتھ خوب جڑتا ہے۔ اگر ایک اذان کے پیچھے نالے بوئے گئے ہیں، تو ان نالوں کے ساتھ یہ پیکار بھی شامل ہے۔ حق کی صدا صرف محبت اور دعا سے نہیں، مزاحمت اور ثبات سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ اس لیے جو امت اس ورثے کی امین ہو، اسے اس کی قیمت سمجھنی چاہیے۔
اقبال ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ دین کی سچائی نے اپنے سفر میں نہ صرف باطل کے ظاہری سرداروں سے بلکہ خود مختاری کے دعوے دار انسانوں سے بھی مقابلہ کیا۔ اس لیے اس راہ کو سیدھا اور آسان سمجھ لینا تاریخی ناواقفی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی حق کا کام صرف کھلے دشمنوں کے مقابلے تک محدود نہیں۔ بہت سی رکاوٹیں ایسی سوچوں سے آتی ہیں جو اپنے آپ کو روشن، آزاد یا جدید کہتی ہیں مگر حقیقت میں حق کے مرکز کو قبول نہیں کرتیں۔ دوسری طرف ظالمانہ نظام، فاسد اقدار اور جھوٹے اقتدار بھی موجود ہیں۔ اقبال کا شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم حق کی راہ کی پیچیدگی کو سمجھیں اور سادہ لوحی سے بچیں۔
یہ شعر استقامت بھی سکھاتا ہے۔ اگر توحید کا پیغام اپنے آغاز سے ہی پیکار کے بیچ پروان چڑھا ہے، تو آج اس کے علمبرداروں کو بھی آسانی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ البتہ انہیں یہ یقین ضرور رکھنا چاہیے کہ یہی پیکار بالآخر سچے بیج کو زمین میں جما دیتی ہے۔ اقبال اسی امید بھرے مجاہدہ کا شعور دیتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک سچا اصول صرف کھلے دشمنوں ہی سے نہیں، بعض باوقار مگر غلط فہم حامیوں کی مزاحمت سے بھی گزرتا ہے، ویسے ہی حق کی راہ میں کئی سطحوں پر پیکار پیش آتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ توحید اور حق کی دعوت طویل کشمکش کے بعد قائم ہوئی۔ اس نے باطل کے خداوندوں ہی نہیں، بعض نام نہاد آزاد منش مزاحمتوں کا بھی سامنا کیا، اس لیے اس ورثے کی قیمت استقامت اور بیداری سے ادا ہوتی ہے۔