رموز بے خودی

لرزم از شرم تو چون روز شمار

لرزم از شرم تو چون روز شمار

پرسدت آن آبروی روزگار

ترجمہ

میں تیری شرمندگی کے خیال سے لرزتا ہوں، جب زمانے کی وہ آبرو تجھ سے سوال کرے گی۔

تشریح

اس شعر میں اقبال دعوت، امانت، اور امت کے منصب کو آخرت کے جواب دہ شعور کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ پچھلے شعر میں انہوں نے کہا تھا کہ زمانے کی تاریکی میں جلوہ بنو اور جو کامل چیز تم پر آئی ہے اسے عام کرو۔ اب وہ اسی تقاضے کو ایک شدید اخلاقی لرزش میں بدلتے ہیں: اگر تم نے یہ کام نہ کیا تو ایک دن وہ ہستی، وہ آبرو، وہ مقدس نسبت، تم سے سوال کرے گی۔ “لرزم” کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ شاعر خود اس جواب دہی کے تصور سے کانپتا ہے۔ یہ محض وعظ نہیں، ایک اندر سے اٹھنے والی کپکپی ہے۔

“شرم تو” سے مراد وہ ندامت ہے جو اس وقت پیدا ہوگی جب امانت دار امانت ادا نہ کرے، جب وارث وراثت کو ضائع کر دے، یا جب حاملِ حق حق کو اپنے اندر بند رکھے اور دنیا تک نہ پہنچائے۔ “آن آبروی روزگار” کے الفاظ بہت پرمعنی ہیں۔ اس سے مراد رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی بھی سمجھی جا سکتی ہے، وہ نبوی نسبت بھی، اور وہ حق آشنا عزت بھی جو زمانے کے لیے آبرو بنی۔ اقبال کا مطلب یہ ہے کہ جس نسبت نے تمہیں عزت دی، اگر اسی کے سامنے تم سے یہ پوچھا جائے کہ تم نے میرے پیغام کا کیا حق ادا کیا، تو تمہاری حالت کیا ہوگی؟

لرزہ بطور بیداری:

اقبال کے ہاں خوف کا مقصد مفلوج کرنا نہیں، جگانا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں “لرزم” تو وہ دراصل ذمہ داری کے احساس کو اتنا گہرا بناتے ہیں کہ انسان اپنی غفلت کو ہلکا نہ سمجھے۔ بعض اوقات صرف محبت کافی نہیں ہوتی؛ جواب دہی کا احساس بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ امانت کا وزن محسوس ہو۔

یہی لرزہ دل کو سنجیدہ بناتا ہے۔ جو شخص کسی بڑے سوال کے سامنے اپنی کم زوری دیکھ سکے، وہی اصلاح کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ اقبال امت کے اندر یہی سنجیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

شرم کی معنویت:

شرم یہاں منفی خود نفرت نہیں بلکہ اخلاقی حیا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب انسان سمجھتا ہے کہ اس کے پاس ایک عظیم امانت تھی مگر اس نے اس کے شایان وفاداری نہیں دکھائی۔ اگر امت کے پاس قرآن، سنت، توحید، اذان، عدل، اور نبوی ورثہ ہو پھر بھی دنیا حق کی روشنی سے محروم رہے، تو یہ صرف تاریخی کم زوری نہیں، شرمندگی کا مقام بھی بن سکتا ہے۔

یہ شرم اس لیے مقدس ہے کہ وہ انسان کو دوبارہ امانت کی طرف لوٹاتی ہے۔ اقبال کی تنبیہ کا مقصود رسوا کرنا نہیں، حیا کے ذریعے بیداری پیدا کرنا ہے۔

آبروی روزگار:

“آبروی روزگار” ایک نہایت بلند تعبیر ہے۔ زمانہ بہت سی ہستیوں کو دیکھتا ہے، مگر کچھ وجود ایسے ہوتے ہیں جو زمانے کی خود آبرو بن جاتے ہیں۔ نبوی نسبت اور حق کی روشنی اسی نوعیت کی آبرو ہے۔ اگر امت اس نسبت سے جڑی ہو تو اسے یہ سوچ کر بھی لرزنا چاہیے کہ کہیں اس نے اس آبرو کا حق کم تو نہیں ادا کیا۔

یہ سوال صرف جذباتی نسبت کا نہیں، عملی ذمہ داری کا ہے۔ جس آبرو سے تمہاری شناخت بنی، کیا تم نے اس کے پیغام کو، اس کے عدل کو، اور اس کی رحمت کو دنیا تک پہنچانے میں اپنا حصہ ادا کیا؟ اقبال یہی سوال ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان بہت سی شکایات رکھتا ہے: دنیا نے ہمارے ساتھ کیا کیا، طاقتیں ہمارے خلاف کیوں ہیں، ہم کم زور کیوں ہیں۔ اقبال ان سب سے پہلے ایک اور سوال کھڑا کرتے ہیں: ہم نے اپنی امانت کے ساتھ کیا کیا؟ اگر ہم اس سوال سے بچتے رہیں گے تو محاسبہ ادھورا رہے گا۔ یہ شعر امت کو دفاعی نفسیات سے نکال کر جواب دہی کے اخلاق میں داخل کرتا ہے۔

یہ شعر ہم میں وہ حیا پیدا کر سکتا ہے جو عمل میں بدل جائے۔ اگر ہمیں یہ احساس ہو کہ ایک روز ہمیں اپنی نبوی نسبت، اپنے قرآنی مشن، اور اپنی شہادتِ حق کے بارے میں جواب دینا ہے، تو شاید ہماری ترجیحات، ہماری محنت، اور ہماری دعوت سب بدلنے لگیں۔ اقبال یہی مقدس شرم جگانا چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے کوئی شاگرد اپنے عظیم استاد کے سامنے اس وقت شرمندہ ہوتا ہے جب وہ اس کی تعلیم کا حق ادا نہ کر سکے، ویسے ہی امت بھی اپنے مقدس ورثے کے بارے میں جواب دہی کے تصور سے لرزنی چاہیے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں امت کے اندر مقدس جواب دہی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ اگر کامل ہدایت کی امانت دنیا تک نہ پہنچی تو ایک دن اسی نسبت کے سامنے شرمندگی کا مقام آسکتا ہے جس نے ہمیں عزت دی تھی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button