رموز بے خودی

عقده ی قومیت مسلم گشود

عقده ی قومیت مسلم گشود

از وطن آقای ما هجرت نمود

ترجمہ

مسلمان کی قومیت کی گرہ ہمارے آقا نے کھولی، جب انہوں نے وطن سے ہجرت فرمائی۔

تشریح

یہ شعر اقبال کے استدلال کا ایک نہایت اہم موڑ ہے۔ اب وہ مجرد اصول سے تاریخی نمونے کی طرف آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قومیت، وطن اور تعلقِ ارضی کے مسئلے کا سب سے روشن حل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت میں موجود ہے۔ ہجرت محض ایک اضطراری نقل مکانی نہ تھی، بلکہ امت سازی، توحیدی مرکزیت اور غیر اقلیمی ملت کے اعلان کی ایک عظیم حکمت تھی۔ “عقده ی قومیت” کا مطلب یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو کس بنیاد پر جوڑے: وطن پر، نسل پر، قبیلے پر، یا ایمان پر؟ اقبال کے مطابق اس گرہ کو خود رسول اکرم نے اپنی ہجرت سے کھول دیا۔ شعر کے مطابق:

عقده ی قومیت:

قومیت کی گرہ اس وقت بنتی ہے جب انسان کی اجتماعی شناخت الجھ جائے۔ وہ سمجھ نہ پائے کہ اس کی اصل وابستگی کس سے ہے۔ کیا زمین اصل ہے یا مقصد؟ کیا قبیلہ اصل ہے یا حق؟ کیا پیدائش کی جگہ آخری وفاداری کا مرکز ہے یا ایمان؟ اقبال کے نزدیک یہی گرہ امت کو چھوٹے خانوں میں توڑ دیتی ہے۔

جب بنیاد غلط ہو تو اجتماع بن بھی جائے تو دیرپا روح پیدا نہیں ہوتی۔

ہجرت بطور حل:

رسول اکرم کی ہجرت یہ بتاتی ہے کہ اگر حق، دعوت، ایمان اور امت کی تعمیر کا تقاضا ہو تو وطن آخری معبود نہیں رہتا۔ مکہ محبوب تھا، مگر محبوب ہونے کے باوجود وہ وحی کے مقصد سے بڑا نہ تھا۔ ہجرت نے واضح کیا کہ سرزمین کی محبت اپنی جگہ، مگر دین کی مرکزیت اس سے اوپر ہے۔

یہاں ہجرت نفیِ وطن نہیں، تصحیحِ وطن ہے: وطن کو صحیح درجے میں رکھنا۔

آقای ما:

اقبال نے “آقای ما” کہہ کر اس تاریخی واقعے کو صرف سیاسی نہیں رہنے دیا، اسے محبت، ادب اور روحانی نسبت سے بھر دیا۔ ہجرت محض ایک تدبیری اقدام نہ تھی، بلکہ محبوب نبی کی طرف سے امت کے لیے ایک تعلیمی عمل تھا۔ حضور نے اپنے فعل سے سمجھایا کہ ملت کی بنیاد زمین کے بجائے کلمے پر ہونی چاہیے۔

محبوب رہبر کا عمل بہت سی کتابی بحثوں سے زیادہ قوت رکھتا ہے۔

قومیت کی نئی تعریف:

اس شعر میں اقبال جدید قومیت کے تصور پر بھی ضرب لگاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مسلم کی قومیت، مغربی جغرافیائی قومیت سے مختلف ہے۔ اس کی بنیاد خون، نسل، زبان یا وطن نہیں بلکہ ایمان اور رسالت ہے۔ ہجرت اسی نئی قومیت کی عملی پیدائش تھی، کیونکہ مدینہ میں ایک ایسا اجتماع بنا جس کی اساس ایمان تھا، نہ کہ مشترک نسل۔

یہی نکتہ اسلامی اجتماعیت کو قومی ریاست کی تنگ تعریف سے ممتاز کرتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان ایک طرف وطن کے جائز تقاضوں میں بندھا ہے اور دوسری طرف امت کے بڑے شعور کا وارث بھی ہے۔ اقبال کا شعر اسے توازن سکھاتا ہے۔ وطن کی خدمت کرو، مگر اسے خدا، دین اور حق سے بڑا نہ بناؤ۔ اگر کبھی ایسا لمحہ آئے جہاں وطن پرستی حق کی راہ روکے تو ہجرت کا سبق یاد رکھو: اصل مرکز ایمان ہے، زمین نہیں۔

اسلامی خودی اپنی وفاداریوں کی درجہ بندی درست رکھ کر ہی عزت پاتی ہے۔

مثال

اگر کوئی شخص اپنے شہر یا ملک سے محبت رکھتا ہو مگر جب اصولی سچائی، دینی آزادی یا انسانی حرمت کا سوال آئے تو صرف مقامی مفاد کی خاطر حق کو نہ چھوڑے، تو وہ ہجرت کے سبق کو کسی حد تک سمجھ چکا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق رسول اکرم کی ہجرت نے یہ واضح کر دیا کہ مسلم کی قومیت کی بنیاد وطن نہیں بلکہ ایمان ہے۔ یہی ہجرت قومیت کی گرہ کھولتی اور ملتِ اسلامیہ کی اصل بنیاد روشن کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button