رموز بے خودی

عالمان را جلوہ اش حیرت دہد

عالمان را جلوہ اش حیرت دہد

عاشقان را بر عمل قدرت دہد

ترجمہ

اس کا جلوہ اہل علم کو حیرت میں ڈال دیتا ہے، اور اہل عشق کو عمل کی قدرت عطا کرتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں توحید کے دو مختلف مگر باہم مربوط اثرات بیان کرتے ہیں۔ ایک اثر عقل و علم پر پڑتا ہے، اور دوسرا دل و عمل پر۔ توحید کا جلوہ جب عالم پر پڑتا ہے تو وہ اس کی عظمت پر حیران رہ جاتا ہے، اور جب عاشق پر پڑتا ہے تو اس کے اندر عمل کی آگ روشن ہو جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:

علم پر جلوۂ توحید کا اثر:

اہل علم جب کائنات کے نظم، انسان کی ساخت، تاریخ کے اتار چڑھاؤ، اور وجود کے گہرے سوالات پر غور کرتے ہیں تو جتنا آگے بڑھتے ہیں اتنا ہی ان پر حقیقت کی وسعت آشکار ہوتی ہے۔ یہی وسعت حیرت پیدا کرتی ہے۔ اقبال کے ہاں یہ حیرت لاعلمی کی نہیں بلکہ شعوری عاجزی کی علامت ہے۔

عالم اس مقام پر پہنچ کر محسوس کرتا ہے کہ جس حقیقت کو وہ سمجھنے نکلا تھا، وہ اس کی توقع سے کہیں زیادہ عظیم، مربوط اور گہری ہے۔

عشق کو عمل کی قوت کیوں ملتی ہے:

عاشق کے لیے توحید صرف ایک موضوع نہیں بلکہ محبوبِ حقیقی کی طرف نسبت ہے۔ اس نسبت سے اس کے اندر جرات، ثابت قدمی اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ سچ کو جان کر بیٹھ نہیں جاتا بلکہ اس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ توحید اہل عشق کو عمل کی قدرت دیتی ہے۔

یعنی عشق محض کیفیت نہیں، بلکہ وہ باطنی حرارت ہے جو نیکی کو حرکت میں بدل دیتی ہے۔

حیرت اور عمل میں تضاد نہیں:

یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ عالم اور عاشق دو الگ راستوں کے مسافر ہیں۔ اقبال کے نزدیک کامل انسان میں دونوں پہلو جمع ہوتے ہیں۔ وہ حقیقت کے سامنے جھک کر حیرت بھی محسوس کرتا ہے اور اسی حقیقت کی خاطر میدانِ عمل میں اترتا بھی ہے۔ اگر علم میں حیرت ہو مگر عمل نہ ہو تو وہ ادھورا ہے، اور اگر جذبہ ہو مگر بصیرت نہ ہو تو وہ جلد بھٹک سکتا ہے۔

توحید ان دونوں کو ایک مرکز پر جمع کرتی ہے، یعنی بصیرت کو حرکت اور محبت کو سمت دیتی ہے۔

فرد کی باطنی تربیت:

اس شعر میں فرد کی تربیت کا بڑا سبق بھی موجود ہے۔ انسان کو ایسا علم چاہیے جو تکبر پیدا نہ کرے بلکہ عاجزی، شکر اور حیرت پیدا کرے۔ ساتھ ہی اسے ایسا جذبہ بھی چاہیے جو اسے محض جذباتی نہ بنائے بلکہ ذمہ دار اور مفید عمل کی طرف لے جائے۔

یہی توازن شخصیت کو پختگی دیتا ہے۔ دل گرم ہو مگر نگاہ روشن بھی ہو، یہی اقبال کی مطلوب کیفیت ہے۔

ملت کی عملی زندگی میں اطلاق:

ایک زندہ امت کو ایسے اہل علم چاہیے جو حقیقت کے سامنے متکبر نہ ہوں، اور ایسے اہل درد بھی چاہیے جو صرف آہیں نہ بھریں بلکہ تعمیر، اصلاح اور خدمت کے لیے کام کریں۔ توحید کے بغیر علم خودنمائی میں بدل سکتا ہے اور عشق بےسمت جوش میں۔ توحید دونوں کو پاکیزہ بنا کر امت کے لیے نافع قوت میں ڈھالتی ہے۔

اسی لیے اقبال علم اور عشق کے درمیان جدائی نہیں بلکہ ربط پیدا کرتے ہیں۔

مثال

ایک سچا استاد جب علم کی وسعت دیکھتا ہے تو اس کے اندر غرور کے بجائے خشیت اور حیرت بڑھتی ہے، اور ایک مخلص خادم جب کسی بڑے مقصد سے جڑتا ہے تو تھکن کے باوجود کام کرتا رہتا ہے۔ پہلے حال میں حیرت ہے، دوسرے میں عمل کی قوت، اور دونوں کی جڑ ایک بلند مقصد سے وابستگی ہے۔

خلاصہ

اس شعر میں اقبال نے بتایا کہ توحید کا جلوہ علم کو عاجز و حیران اور عشق کو فعال و ثابت قدم بناتا ہے۔ کامل زندگی وہ ہے جس میں بصیرت بھی ہو اور عمل کی طاقت بھی، اور توحید ہی ان دونوں کو جمع کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button