اسلام اور مسلمانعلامہ اقبال شاعری

موت

لحد ميں بھی يہی غيب و حضور رہتا ہے
اگر ہو زندہ تو دل ناصبور رہتا ہے

مہ و ستارہ ، مثال شرارہ يک دو نفس
مے خودی کا ابد تک سرور رہتا ہے

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تيرا
ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button