رموز بے خودی

دین ازو حکمت ازو آئین ازو

دین ازو حکمت ازو آئین ازو

زور ازو قوت ازو تمکین ازو

ترجمہ

دین بھی اسی سے ہے، حکمت بھی اسی سے ہے، ضابطہ اور آئین بھی اسی سے ہے، اور قوت، طاقت اور استحکام بھی اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں توحید کی ہمہ گیر تاثیر کو بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ توحید صرف عبادت کا ایک باب نہیں بلکہ پوری زندگی کی جڑ ہے۔ انسان کے دین، اس کی حکمت، اس کے اجتماعی نظام، اور اس کی عملی قوت سب کا اصل سرچشمہ یہی ایک حقیقت ہے۔ شعر کے مطابق:

دین کی روح توحید ہے:

اگر دین میں توحید نہ رہے تو وہ رسوم، عادات اور ظاہری مظاہر کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے۔ توحید دین کو زندہ روح دیتی ہے، کیونکہ اسی سے بندگی کا رخ درست ہوتا ہے، عبادت میں اخلاص آتا ہے، اور احکام کا مرکز واضح ہوتا ہے۔ اقبال کے نزدیک دین کا ہر پہلو اسی وقت معنی خیز بنتا ہے جب اس کے پیچھے وحدتِ الٰہی کا شعور بیدار ہو۔

یعنی توحید دین کو بکھرنے نہیں دیتی بلکہ اس کے تمام اجزا کو ایک مقصود سے جوڑ دیتی ہے۔

حکمت اور آئین کی بنیاد:

شاعر یہ بھی فرماتے ہیں کہ حکمت بھی اسی سے ہے اور آئین بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح دانائی اور صحیح نظم دونوں کسی بلند اخلاقی اصل کے بغیر قائم نہیں رہتے۔ توحید انسان کو ایک ایسا معیار دیتی ہے جس سے وہ خیر و شر میں فرق کرتا ہے، انصاف اور ظلم میں امتیاز کرتا ہے، اور اپنے اجتماعی ضابطے کو محض مفاد کے بجائے حق پر قائم کرتا ہے۔

پس جس معاشرے میں توحید زندہ ہو، وہاں قانون محض اختیار کی زبان نہیں بلکہ ذمہ داری اور عدل کی صورت اختیار کرتا ہے۔

قوت اور زور کی تطہیر:

اقبال طاقت کے مخالف نہیں، بلکہ وہ طاقت کی تطہیر چاہتے ہیں۔ “زور ازو قوت ازو” کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی قوت وہ ہے جو حق سے جڑی ہو، نہ کہ وہ جو ظلم، غرور یا غلبہ جوئی سے پیدا ہو۔ توحید انسان کو یہ یاد دلاتی ہے کہ طاقت امانت ہے، اور اس کا مصرف عدل، حفاظت اور تعمیر میں ہونا چاہیے۔

ایسی قوت باطن کو بھی مضبوط کرتی ہے اور قوم کو بھی۔ یہ طاقت محض مادی زور نہیں بلکہ اخلاقی جرات اور روحانی استقامت بھی ہے۔

تمکین کا معنی:

تمکین صرف اقتدار نہیں بلکہ وقار، استحکام اور جمی ہوئی شخصیت کا نام بھی ہے۔ توحید انسان کے دل میں ایسا سکون اور ایسا اعتماد پیدا کرتی ہے کہ وہ حالات کے سامنے ٹوٹتا نہیں، بلکہ اصول کے ساتھ قائم رہتا ہے۔ یہی کیفیت فرد کو باوقار اور ملت کو پائیدار بناتی ہے۔

اقبال کے نزدیک بےاصل قومیں شور تو بہت مچا سکتی ہیں، مگر تمکین اسی کو ملتی ہے جس کا رشتہ کسی ابدی سچائی سے جڑا ہو۔

فرد سے ملت تک ایک ہی قانون:

اس شعر کی خوبی یہ ہے کہ یہ فرد اور ملت دونوں پر یکساں صادق آتا ہے۔ ایک شخص کی نجی زندگی میں بھی توحید اس کے فیصلوں کو پاکیزگی دیتی ہے، اور ایک امت کی اجتماعی زندگی میں بھی یہی حقیقت اس کے علم، قانون اور طاقت کو مرکز عطا کرتی ہے۔ اگر یہ اصل کمزور پڑ جائے تو دین رسم، حکمت چالاکی، اور قوت فساد میں بدل سکتی ہے۔

اسی لیے اقبال توحید کو زندگی کی سب سے بنیادی قومی اور روحانی طاقت قرار دیتے ہیں۔

مثال

ایک درخت جتنا اوپر پھیلتا ہے اتنا ہی اس کی جڑ مضبوط ہونی چاہیے۔ اگر جڑ کمزور ہو تو شاخیں، پتے اور پھل دیر تک قائم نہیں رہتے۔ اسی طرح دین، حکمت، قانون اور قوت سب شاخیں ہیں، اور توحید ان سب کی جڑ ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک توحید وہ اصل سرچشمہ ہے جس سے دین کی روح، حکمت کی روشنی، آئین کی صحت، اور قوت و تمکین کی پائیداری پیدا ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر فرد سنورتا ہے اور ملت مضبوط ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button