رموز بے خودی

زیر و بم را گوش او در گیر نیست

زیر و بم را گوش او در گیر نیست

نغمه اش جز شورش زنجیر نیست

ترجمہ

اس کا کان ابھی زیروبم کی تمیز نہیں رکھتا، اور اس کی آواز ابھی زنجیر کی جھنکار کے شور سے زیادہ کچھ نہیں۔

تشریح

اس شعر میں اقبال شعور کی ابتدائی خامی کو سماعت اور اظہار کے استعارے میں پیش کرتے ہیں۔ بچہ ابھی “زیر و بم” نہیں پہچانتا، یعنی نغمے کی باریکی، آہنگ کی ترتیب، اور آواز کے مختلف درجے اس کے لیے واضح نہیں۔ اقبال اس سے یہ سمجھاتے ہیں کہ نوخیز شعور کے پاس حیات تو ہوتی ہے مگر تمیز ابھی کم ہوتی ہے۔ احساسات شدید ہوتے ہیں، مگر ان کی ترتیب، تربیت، اور جمالیاتی بلوغ ابھی باقی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کی اپنی آواز بھی ابھی نغمہ نہیں بنتی؛ “شورشِ زنجیر” رہتی ہے۔

یہ نہایت گہرا استعارہ ہے۔ زنجیر کی جھنکار میں حرکت تو ہے، شور بھی ہے، مگر منظم موسیقی نہیں۔ اقبال کے نزدیک ابتدائی حیات میں یہی کیفیت ہوتی ہے: آدمی یا قوم کے اندر توانائی ہوتی ہے، بے قراری ہوتی ہے، ردِ عمل ہوتا ہے، مگر وہ سب ابھی نغمہ، تہذیب، اور باوقار اظہار میں نہیں ڈھلتے۔ یہ شعر یوں بتا رہا ہے کہ خام قوت اور پختہ فن کے درمیان کتنا فاصلہ ہوتا ہے۔ ملت کی اجتماعی خودی کو بھی اسی سفر سے گزرنا پڑتا ہے۔

زیر و بم کی نا شناسی:

زیروبم سے مراد صرف موسیقی نہیں، باریکیِ فہم بھی ہے۔ جس شعور میں یہ تمیز نہ ہو وہ چیزوں کے اندر درجے، تناسب، اور معنوی آہنگ نہیں پہچان پاتا۔ وہ یا تو ہر چیز کو ایک ہی سطح پر دیکھتا ہے یا بے ترتیب ردِ عمل دیتا ہے۔

اقبال چاہتے ہیں کہ خودی کا سفر اس خام حالت سے نکل کر باریک بیں ادراک تک پہنچے۔ صرف زندہ ہونا کافی نہیں؛ صحیح سننا اور صحیح پہچاننا بھی ضروری ہے۔

شورشِ زنجیر:

زنجیر کی آواز بے جان نہیں، مگر وہ نغمہ بھی نہیں۔ اس میں وزن ہے مگر لطافت نہیں، حرکت ہے مگر ترتیب کم۔ اقبال اس سے ظاہر کرتے ہیں کہ نوخیز شعور کا اظہار اکثر اسی نوعیت کا ہوتا ہے: شور زیادہ، معنی کم؛ حرکت زیادہ، ہنر کم۔

یہی کیفیت فردی اور اجتماعی دونوں دنیاؤں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ نوجوان شخصیت، نئی قوم، یا ابتدائی تحریک کے اندر بہت شور اور تیزی ہو سکتی ہے، مگر اگر اسے تربیت نہ ملے تو وہ تہذیبی نغمہ نہیں بن پاتی۔

خام طاقت سے پختہ نغمہ تک:

اقبال اس شعر میں ناامیدی نہیں پیدا کرتے، بلکہ سفر کا پہلا درجہ دکھاتے ہیں۔ زنجیر کی شورش میں بھی حرکت کا امکان ہے۔ اگر اس حرکت کو نظم، تعلیم، روایت، اور شعور مل جائے تو یہی خام آواز بعد میں نغمہ بھی بن سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس پوری فصل کا موضوع ضبطِ روایات اور ملی شعور ہے۔ خام حیات کو پختہ نغمے میں بدلنے کے لیے محض جوش نہیں، تربیت اور تاریخی ربط بھی درکار ہے۔ اقبال اسی ضرورت کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم بہت سی جگہوں پر شور تو دیکھتے ہیں، مگر نغمہ کم۔ اظہار بہت ہے، مگر اندر باریکیِ فہم، تہذیبی توازن، اور معنی کا حسن کمزور ہو سکتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خام ردِ عمل اور پختہ تخلیق ایک چیز نہیں۔

یہ شعر امت کے لیے پیغام رکھتا ہے کہ اپنی توانائی کو تہذیب دو، اپنے شور کو نغمہ بناؤ، اور اپنی حرکت کو زیروبم کی تمیز دو۔ جب تک یہ نہ ہوگا، اظہار میں وزن تو ہوگا مگر جمال اور اثر کی تکمیل کم رہے گی۔ اقبال یہی پختگی چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک نو آموز سازندہ ساز کو ہلا تو سکتا ہے مگر اس سے دھن نہیں نکال سکتا، ویسے ہی ابتدائی شعور کے اندر طاقت تو ہوتی ہے مگر ترتیب اور فن ابھی باقی ہوتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ نوخیز شعور کے اندر حرکت اور آواز تو ہوتی ہے، مگر ابھی باریک فہم اور باقاعدہ نغمہ نہیں ہوتا۔ پختہ خودی خام شور کو معنی خیز آہنگ میں بدلتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button