رموز بے خودی

رفت نم از ریشه های تاک او

رفت نم از ریشه های تاک او

بید مجنون هم نروید خاک او

ترجمہ

اس کی تاک کی جڑوں سے نمی جاتی رہی، یہاں تک کہ اس کی خاک میں بیدِ مجنوں جیسا درخت بھی نہ اگ سکا۔

تشریح

اس شعر میں اقبال زوال کو بنجر پن اور داخلی خشکی کی تمثیل سے واضح کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس قوم کی تاک کی جڑوں سے نمی جاتی رہی۔ انگور کی بیل یا تاک وہ چیز ہے جو اگر جڑ سے سیراب ہو تو خوشہ، رس، مٹھاس اور سرسبزی پیدا کرتی ہے، مگر اگر جڑ ہی سوکھ جائے تو اوپر کی سبز صورت جلد مرجھا جاتی ہے۔ اقبال یہاں یہ نہیں بتا رہے کہ صرف شاخیں ٹوٹیں یا پتے جھڑے؛ وہ جڑوں کی نمی ختم ہونے کی بات کرتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ زوال کی اصل خرابی سطح پر نہیں، بنیاد میں واقع ہوئی تھی۔

دوسرے مصرعے میں “بید مجنون هم نروید خاک او” اس بنجر پن کو اور شدید بنا دیتا ہے۔ بیدِ مجنوں ایک ایسا درخت ہے جو نرم مزاجی، خمیدگی، روانی اور فطری نمو کی علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ اس کی خاک میں ایسا نرم اور جلد اگنے والا درخت بھی نہ ابھرا۔ یعنی زمین اپنی صلاحیت کھو بیٹھی، صرف ایک فصل نہیں۔ یہ تصویر اس قوم کے اس داخلی زوال کی علامت ہے جس میں صرف موجودہ نسل نہیں، آئندہ نمو کے امکانات بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔ اقبال امت کو خبردار کرتے ہیں کہ جب قوم اپنی روحانی اور اخلاقی نمی کھو دیتی ہے تو اس کی تاریخ میں صرف موجودہ کم زوری نہیں آتی، تخلیقی مستقبل بھی سوکھنے لگتا ہے۔

جڑوں کی نمی:

نمی حیات کی پہلی شرط ہے۔ جہاں نمی ہو وہاں نرمی، نمو، سبزی اور تسلسل کے امکانات باقی رہتے ہیں۔ جڑوں کی نمی سے مراد وہ باطنی عناصر ہیں جن سے ملت کی زندگی سیراب ہوتی ہے: ایمان کی تازگی، مرکز سے ربط، اخلاقی حرارت، علمی صداقت، عبادت کی روح، اور باہمی وفاداری۔ اگر یہ نمی باقی رہے تو ظاہر میں کم زوری کے باوجود قوم پھر سے اٹھ سکتی ہے۔

اقبال کا زور اسی لیے جڑوں پر ہے۔ وہ امت کو ظاہری آرائش یا وقتی جوش کے بجائے بنیاد کی سیرابی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اگر جڑیں خشک ہوں تو اوپر سے پانی چھڑکنے سے کچھ دیر رنگت آ سکتی ہے، حیات نہیں۔

تاک کی تمثیل:

تاک صرف ایک پودا نہیں، ایک ایسی نمو کی علامت ہے جو مسلسل پرورش، نگہداشت اور ربط مانگتی ہے۔ اس کی شاخیں پھیلتی ہیں، خوشے بنتے ہیں، اور رس پیدا ہوتا ہے۔ اقبال جب قوم کو تاک سے تشبیہ دیتے ہیں تو وہ یہ سمجھاتے ہیں کہ ملت کی زندگی بھی مسلسل تربیت اور سیرابی چاہتی ہے۔ اگر اسے اس کی اصل غذا نہ ملے تو خوشوں کی جگہ سوکھی بیل رہ جاتی ہے۔

یہ تشبیہ اس بات کی بھی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ملت کا ثمر صرف اپنے لیے نہیں ہوتا۔ جیسے تاک کا پھل دوسروں تک پہنچتا ہے، ویسے ہی زندہ امت علم، اخلاق اور تہذیب کا رس بھی دنیا تک پہنچاتی ہے۔ جب جڑیں سوکھ جائیں تو یہ فیض رک جاتا ہے۔

خاک کا بانجھ ہو جانا:

خاک کا ایسا ہو جانا کہ اس میں بیدِ مجنوں بھی نہ اگے، بڑی خوف ناک علامت ہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا نہیں کہ موجودہ پودا مر گیا، بلکہ یہ کہ زمین نے نئی پیدائش کی قدرت بھی کھو دی۔ اقبال کے نزدیک بعض اوقات قوم اس مرحلے تک پہنچ جاتی ہے جہاں اس کے اندر سے نئی قیادت، نئی فکر، نئی حرارت اور نیا ذوق پیدا ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ مرحلہ اچانک نہیں آتا۔ پہلے اصول کم زور ہوتے ہیں، پھر روح نکلتی ہے، پھر دل خشک ہوتے ہیں، پھر تخلیقی قوت گھٹتی ہے، اور آخر میں زمین بانجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ شاعر اس انجام سے ڈرا کر اصل علاج کی طرف بلاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج اگر کسی ملت میں علم کی گہرائی کم ہو، کردار میں تازگی نہ ہو، نوجوانوں میں مقصد کی حرارت ماند پڑ جائے، اور اداروں میں روح باقی نہ رہے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ محض شاخوں کا نہیں۔ جڑوں کی نمی کم ہو رہی ہے۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں اصل منبع کی طرف پلٹنے پر مجبور کرتا ہے۔

اگر ہم اپنی جڑوں کو پھر سے ایمان، سچائی، مرکزیت، عبادت اور جمعیت کے پانی سے سیراب کریں تو سوکھی تاک میں بھی جان آ سکتی ہے۔ مگر اگر ہم بنجر پن کو صرف سطحی تدبیروں سے چھپائیں گے تو آنے والی نسلوں کی خاک بھی کم زور ہو جائے گی۔ اقبال کی تنبیہ اسی لیے بروقت اور گہری ہے۔

مثال

جیسے باغبان جانتا ہے کہ مرجھائے پتوں سے زیادہ خطرہ خشک جڑوں میں ہوتا ہے، ویسے ہی قوم کے زوال کا اصل علاج بنیاد کی سیرابی میں ہے، نہ کہ صرف اوپری آرائش میں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں زوال کو جڑوں کی خشکی اور زمین کی بنجر پن سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب ملت اپنی باطنی نمی کھو دیتی ہے تو نہ صرف موجودہ ثمر ختم ہوتا ہے بلکہ آئندہ نمو کے امکانات بھی سکڑنے لگتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button