رشتهٔ آئین حق زنجیر پاست
رشتهٔ آئین حق زنجیر پاست
پاس فرمان جناب مصطفی است
ترجمہ
حق کے آئین کی ڈور میرے پاؤں میں زنجیر کی طرح بندھی ہے، اور یہ جنابِ مصطفیٰ کے فرمان کی پاس داری ہے۔
تشریح
اقبال اس شعر میں ایک نہایت نازک اور اہم دینی توازن قائم کرتے ہیں۔ ایک طرف ان کے دل میں حضرت فاطمہ الزہراء کے لیے بے پناہ عقیدت، محبت، اور تعظیم ہے؛ دوسری طرف وہ فوراً یاد دلاتے ہیں کہ مسلمان کا قدم “آئینِ حق” سے بندھا ہوا ہے۔ “زنجیر پاست” سے مراد یہ نہیں کہ شریعت تنگی پیدا کرتی ہے، بلکہ یہ کہ شریعت انسان کے جذبات کو حدود اور توازن عطا کرتی ہے۔ یعنی عقیدت اپنی جگہ بلند ہے، مگر وہ بھی جنابِ مصطفیٰ کے فرمان کی پاس داری کے اندر رہ کر ظاہر ہوگی۔
“پاس فرمان جناب مصطفی است” اس شعر کی اصل کلید ہے۔ اقبال کے نزدیک عشقِ اہلِ بیت کبھی بھی اطاعتِ مصطفیٰ سے جدا نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ معیار دیتے ہیں جن کے مطابق محبت، تعظیم، اور اظہارِ عقیدت کی صورتیں درست رہتی ہیں۔ اس لیے اگر دل میں جذبہ شدید بھی ہو تو مسلمان اپنے عمل کو شریعت اور فرمانِ نبوی کے تابع رکھتا ہے۔ یوں شاعر خود اپنی محبت کو بھی توحید، ادب، اور اطاعت کے دائرے میں منضبط کرتے ہیں۔
آئینِ حق کی زنجیر:
یہ زنجیر جبر کی علامت نہیں بلکہ تحفظ کی علامت ہے۔ جیسے کسی قیمتی چیز کی حفاظت کے لیے مضبوط بندوبست کیا جاتا ہے، ویسے ہی شریعت محبت اور عقیدت کو انحراف سے بچاتی ہے۔
اقبال اس بندش کو منفی نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ایمان کے حسن کا حصہ بناتے ہیں۔ آدمی اپنے جذبات کو بھی حق کے آئین کے تابع رکھتا ہے۔
فرمانِ مصطفیٰ کی پاس داری:
اسلام میں سب سے بلند معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اور اسوہ ہے۔ اہلِ بیت سے محبت بھی اسی کے اندر رہ کر اپنی درست شکل پاتی ہے۔
اس لیے اقبال کا یہ شعر عقیدت اور شریعت کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سچی محبت وہی ہے جو اطاعت سے جڑی ہو۔
محبت اور حد:
شدید محبت بعض اوقات انسان کو مبالغے کی طرف لے جا سکتی ہے، مگر دین اسے توازن سکھاتا ہے۔ اقبال اسی توازن کے شاعر ہیں۔ وہ تعظیم کو کم نہیں کرتے، مگر اس کے اظہار کو فرمانِ مصطفیٰ کے تابع رکھتے ہیں۔
یہی اسلامی ادب ہے کہ دل میں شدید محبت ہو، مگر عمل میں توحید، سنت، اور شرعی حدیں برقرار رہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج مذہبی جذبات کبھی بے سمتی کی طرف بھی جا سکتے ہیں، اور کبھی سرد رسمیّت کی طرف بھی۔ اقبال دونوں انتہاؤں سے بچاتے ہیں۔ وہ محبت بھی چاہتے ہیں اور اطاعت بھی۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ اہلِ بیت کی سچی محبت وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور آئینِ حق کے تابع ہو۔ یہی محبت کو نور بھی دیتی ہے اور توازن بھی۔
مثال
جیسے دریا کا پانی کناروں کے اندر رہ کر کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، مگر کنارے توڑ دے تو نقصان پہنچاتا ہے، ویسے ہی عقیدت جب شریعت کی حدوں میں رہے تو نور بنتی ہے، اور حد توڑے تو بے سمتی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ الزہراء سے شدید عقیدت کے باوجود مسلمان کا قدم آئینِ حق اور فرمانِ مصطفیٰ سے بندھا رہتا ہے۔ سچی محبت ہمیشہ اطاعت اور توازن کے ساتھ ہوتی ہے۔