دست و پای قوم را جنباند او
دست و پای قوم را جنباند او
یک نظر صد چشم را گرداند او
ترجمہ
وہی مقصد قوم کے ہاتھ پاؤں کو حرکت دیتا ہے، اور ایک ہی نگاہ کو سو آنکھوں کی سمت بنا دیتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال فرد سے نکل کر پوری قوم کی حرکت کی طرف آتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں وہ مقصد کو عمل کی جان، خون کی گردش کی تیزی، زندگی کی آگ، اور ہمت کے ساز کا مضراب قرار دے چکے تھے۔ اب وہ اس کی اجتماعی تاثیر بیان کرتے ہیں: مقصد قوم کے ہاتھ پاؤں کو حرکت دیتا ہے۔ یعنی قوم کی عملی توانائی، اس کی محنت، اس کا اقدام، اس کی تنظیم، اور اس کی اجتماعی جدوجہد سب ایک زندہ مدعا سے حرکت میں آتے ہیں۔ قوم صرف اس لیے نہیں چلتی کہ اس کے افراد بہت ہیں، بلکہ اس لیے چلتی ہے کہ ان افراد کے درمیان کوئی مشترک مقصد موجود ہو۔
“یک نظر صد چشم را گرداند او” مصرعہ اور بھی بلیغ ہے۔ مقصد صرف ہاتھ پاؤں نہیں ہلاتا، نگاہ بھی متحد کرتا ہے۔ ایک نظر سے مراد مشترک زاویۂ نظر، یکسوئی، ایک جہت، اور ایک بصیرت ہے۔ جب قوم کے پاس بڑا مقصد ہوتا ہے تو سینکڑوں آنکھیں الگ الگ چیزیں نہیں دیکھتیں؛ وہ ایک بڑے مدعا کی روشنی میں دیکھنے لگتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصد جسمانی حرکت اور فکری وحدت دونوں پیدا کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک قوم کی اصل طاقت اسی میں ہے کہ اس کی نگاہ اور اس کی حرکت ایک دوسرے سے جڑی ہوں۔
قوم کے ہاتھ پاؤں:
ہاتھ اور پاؤں عمل، محنت، تعمیر، سفر، اقدام اور جدو جہد کی علامت ہیں۔ اگر قوم کے پاس مقصد نہ ہو تو یہ اعضا موجود ہوتے ہوئے بھی بکھرے ہوئے کام کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی سمت میں، کچھ دوسری سمت میں، کچھ صرف اپنے فائدے کے لیے، اور کچھ محض عادت سے حرکت میں رہتے ہیں۔ مگر جب مدعا جاگتا ہے تو قوم کی یہ منتشر حرکات تدریجاً ایک نظم اختیار کرنے لگتی ہیں۔
یہ نظم قوم کو مشین نہیں بناتا، بلکہ اس کی طاقت کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔ اقبال یہی چاہتے ہیں کہ امت کی توانائی ٹکڑوں میں خرچ نہ ہو بلکہ ایک بڑی تعمیر میں لگے۔ مقصد اس تعمیر کا پہلا محرک ہے۔
ایک نظر کی قوت:
بعض اوقات قوم کی کم زوری جسمانی کم تری سے نہیں، نظری انتشار سے پیدا ہوتی ہے۔ لوگ دیکھتے سب ہیں مگر ایک نظر سے نہیں دیکھتے۔ کسی کی نگاہ ماضی میں اٹکی ہے، کسی کی صرف حال میں، کسی کی صرف منفعت پر، کسی کی صرف خوف پر۔ اقبال کہتے ہیں کہ بڑا مدعا ایک نظر پیدا کرتا ہے۔ یہی ایک نظر سو آنکھوں کو ایک رخ دیتی ہے۔
یہاں “یک نظر” میں رہبری بھی ہے اور بصیرت بھی۔ قوم کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ایسا نصب العین چاہیے جو اس کے فکری انتشار کو کم کرے اور اس کے لوگوں کو مشترک افق عطا کرے۔
حرکت اور بصیرت کا ملاپ:
اکثر یا تو عمل ہوتا ہے مگر بصیرت کم، یا نظر ہوتی ہے مگر حرکت کم۔ اقبال کے نزدیک صحیح مقصد ان دونوں کو جمع کرتا ہے۔ وہ قوم کے ہاتھ پاؤں بھی ہلاتا ہے اور اس کی آنکھوں کو بھی ایک سمت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقصد صرف جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی، فکری اور عملی مرکز ہے۔
قوم کی بقا کے لیے یہ ملاپ لازمی ہے۔ اگر ہاتھ چلتے رہیں مگر نظر نہ ہو تو طاقت ضائع ہو جاتی ہے، اور اگر نظر ہو مگر ہاتھ نہ چلیں تو خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ مدعا دونوں کو ایک کرتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے پاس افراد بھی ہیں، وسائل بھی، ادارے بھی، اور کئی جگہ اخلاص بھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان سب کے اوپر کوئی ایک ایسا زندہ مقصد بھی موجود ہے جو ہاتھ پاؤں کو ایک سمت اور آنکھوں کو ایک نظر دے؟ اگر نہیں، تو پراگندگی باقی رہے گی۔ اقبال کے اس شعر میں ہماری اجتماعی بیماری کی گہری تشخیص بھی ہے اور علاج بھی۔
ہمیں صرف متحرک ہونے کی نہیں، مشترک نگاہ کے ساتھ متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ اگر توحید کا نصب العین واقعی دلوں میں زندہ ہو تو امت کے میدان، ادارے، قلم، قدم اور نگاہ سب ایک دوسرے کے مددگار بن سکتے ہیں۔ اقبال اسی ہم آہنگ حرکت کے شاعر ہیں۔
مثال
جیسے ایک لشکر کی طاقت صرف سپاہیوں کی تعداد میں نہیں بلکہ ایک اشارے پر سب کے ایک رخ میں چلنے میں ہوتی ہے، ویسے ہی قوم کی اصل قوت مشترک مقصد سے پیدا ہونے والی یکسو حرکت میں ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ سچا مدعا قوم کی عملی طاقت اور نظری وحدت دونوں کو بیدار کرتا ہے۔ وہ قوم کے ہاتھ پاؤں کو حرکت دیتا ہے اور اس کی بہت سی آنکھوں کو ایک مشترک نگاہ عطا کرتا ہے۔