رموز بے خودی

در پی نخجیرها بگذاردش

در پی نخجیرها بگذاردش

باز سوی خویشتن می آردش

ترجمہ

وہ اسے شکاروں کے پیچھے دوڑنے دیتا ہے، پھر آخرکار دوبارہ اپنی ذات کی طرف واپس لے آتا ہے۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کی تمثیل کو آگے بڑھاتا ہے اور ایک نہایت گہرا نفسی اور روحانی اصول بیان کرتا ہے۔ خام فکر جب زمانے کی فضا میں پر کھولتی ہے تو وہ لازماً باہر کی چیزوں، تجربات، مقاصد اور مطلوبات کے پیچھے جاتی ہے۔ “نخجیرها” یعنی شکار، ان تمام بیرونی چیزوں کی علامت ہیں جنہیں انسان چاہتا ہے: علم، شہرت، قوت، لذت، تجربہ، تسلط، کامیابی، یا صرف نئی نئی چیزوں کا تعاقب۔ اقبال کہتے ہیں کہ شعور کے سفر میں یہ مرحلہ آتا ہے؛ انسان باہر کی دنیا میں دوڑتا ہے، گرفت چاہتا ہے، حاصل کرنا چاہتا ہے۔

مگر اس شعر کا اصل کمال دوسرے مصرعے میں ہے: “باز سوی خویشتن می آردش”۔ گویا یہ ساری بیرونی دوڑ اگر صحیح معنی میں جئی جائے تو آخرکار انسان کو پھر اپنی طرف واپس لاتی ہے۔ آدمی غیر کی طرف جاتا ہے تاکہ آخرکار خود کو پہچانے۔ تجربہ، تعاقب، کشمکش، اور طلب کا راستہ اگر ضائع نہ ہو تو وہ باطن کی گہرائی تک پہنچاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی تنہائی میں نہیں بنتی؛ وہ دنیا سے گزر کر اپنے مرکز تک پہنچتی ہے۔ یہی فرد کا قانون ہے اور یہی ملت کی تاریخ کا بھی۔

بیرونی تعاقب کی ضرورت:

انسان کو دنیا میں اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ وہ بالکل بے تعلق رہے۔ اسے جستجو بھی کرنی ہے، تجربہ بھی لینا ہے، غلطی بھی کھانی ہے، اور میدانِ عمل میں اترنا بھی ہے۔ “نخجیر” اسی تعاقب کی علامت ہے۔ انسان پہلے باہر جاتا ہے، اشیا سے تعلق قائم کرتا ہے، اور اپنی قوت کو آزمانا سیکھتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہ مرحلہ ضروری ہے، کیونکہ خودی کا شعور صرف نظری بات نہیں۔ وہ مقابلے، کوشش، جذبے اور عمل کے اندر نکھرتا ہے۔ جو کبھی باہر نہ گیا وہ اپنے باطن کی حد بھی پوری طرح نہیں جان سکتا۔

واپسی الی الذات:

اصل کمال یہ ہے کہ باہر کی طرف جانے والا سفر آدمی کو اپنے مرکز تک واپس لے آئے۔ اگر انسان باہر ہی باہر بکھر جائے تو وہ خودی کھو دے گا۔ مگر اگر وہ اپنے تجربات کو معنی دے، ان سے سبق لے، اور ان کو اپنی اصل سے جوڑے، تو وہ خود کو زیادہ گہرائی سے پہچاننے لگے گا۔

یہی ملی سطح پر بھی درست ہے۔ قومیں دنیا کے میدان میں اترتی ہیں، دوسروں سے ملتی ہیں، تصادم اور تجربات سے گزرتی ہیں؛ مگر ان سب کا حاصل یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی اصل نسبت، اپنی روایت، اور اپنی تاریخی خودی کو زیادہ واضح طور پر سمجھ سکیں۔

غیر سے خود تک کا سفر:

پچھلے اشعار میں “غیر جوئی” اور “غیر بینی” کا ذکر تھا۔ یہاں اقبال بتاتے ہیں کہ اگر یہ غیر کی طرف سفر محض گم گشتگی نہ بنے بلکہ شعوری تجربہ بن جائے تو وہی راہ واپس خود تک بھی لاتی ہے۔ گویا “غیر” ہمیشہ دشمن نہیں؛ کبھی وہ آئینہ بھی بن سکتا ہے۔

اسی لیے خودی کی تعمیر میں دنیا سے فرار کافی نہیں۔ دنیا سے گزرنا، مگر دنیا میں کھو نہ جانا، یہی اصل فن ہے۔ اقبال کی نظر میں یہی پختگی انسان کو شکار کے پیچھے بھاگنے والے سے اپنے مرکز کو پانے والے میں بدل دیتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج انسان بہت سی “شکار” نما چیزوں کے پیچھے دوڑتا ہے: نام، مقام، جمع آوری، تسلط، مسلسل مصروفیت۔ مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ یہ چیزیں چاہی جاتی ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ان کی دوڑ انسان کو اپنے باطن سے دور بھی کر سکتی ہے۔ اقبال اس شعر میں ایک گہرا توازن سکھاتے ہیں۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ دنیا کے میدان میں اترو، مگر ہر دوڑ کے بعد اپنے آپ سے بھی ملو۔ اگر تمہاری کوشش تمہیں آخرکار اپنی اصل، اپنے مقصد، اور اپنے باطنی مرکز کے قریب نہیں لا رہی تو وہ دوڑ ادھوری ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ شکار کا سفر خودی کی واپسی پر ختم ہو۔

مثال

جیسے ایک نوجوان مختلف تجربات، لوگوں اور راستوں سے گزر کر آخرکار سمجھتا ہے کہ اصل سوال اس کے اپنے باطن کا تھا، ویسے ہی غیر کی طرف سفر اگر بامعنی ہو تو انسان کو پھر اپنے ہی مرکز تک واپس لاتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ خودی پہلے دنیا کے شکاروں کے پیچھے جاتی ہے، مگر پختہ سفر آخرکار اسے اپنی طرف واپس لاتا ہے۔ بیرونی تجربہ اگر صحیح طور پر جیا جائے تو وہ خود شناسی کی راہ بن جاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button