در جهان جان امم جمعیت است
در جهان جان امم جمعیت است
در نگر سر حرم جمعیت است
ترجمہ
دنیا میں قوموں کی جان جمعیت میں ہے؛ غور کر کہ حرم کا باطنی راز بھی جمعیت ہی ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال ایک نہایت جامع اصول بیان کرتے ہیں: قوموں کی جان ان کی جمعیت میں ہے۔ یہاں “جمعیت” سے مراد محض مجمع یا تعداد نہیں، بلکہ دلوں کا ربط، مقصد کی وحدت، شعور کی ہم آہنگی، اور ایک ایسے اجتماعی نظم کا قیام ہے جس میں افراد اپنی انفرادیت کھوئے بغیر ایک بڑی حقیقت کے شریک بن جاتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک قومیں صرف لوگوں کے اکٹھ سے نہیں بنتیں؛ وہ اس وقت جان پکڑتی ہیں جب ان کے اندر ایک مشترک روح، ایک مشترک مرکز اور ایک مشترک تقدیر کا احساس بیدار ہو۔ یہی جمعیت ان کی جان ہے۔
اسی بات کو وہ دوسرے مصرعے میں حرم کے راز سے جوڑ دیتے ہیں۔ “سر حرم” کا مطلب ہے حرم کا باطنی نکتہ، اس کا اصل راز، وہ مرکزی حقیقت جو اس کی ظاہری عظمت کے پیچھے کارفرما ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ غور کرو تو حرم کا راز بھی جمعیت ہے۔ حرم ایک ایسی جگہ ہے جہاں بے شمار مختلف افراد ایک مرکز کے گرد ایک نظم، ایک ادب اور ایک رخ میں جمع ہوتے ہیں۔ اس میں صرف عبادت نہیں، ملی زندگی کی ساخت بھی پوشیدہ ہے۔ گویا حرم امت کو یہ سکھاتا ہے کہ جانِ ملت تعداد میں نہیں، جمعیت میں ہے۔
جمعیت کا مفہوم:
جمعیت کا پہلا مفہوم یہ ہے کہ جماعت کے افراد ایک دوسرے سے کٹے ہوئے نہ ہوں۔ ان کے درمیان ایسا اخلاقی اور روحانی ربط ہو جو انھیں محض مفاد کے بندھن سے بلند کر دے۔ ایک قوم بظاہر بہت بڑی ہو سکتی ہے، مگر اگر اس کے دل الگ الگ خوف، غصے، تعصب یا خود غرضی میں بکھرے ہوں تو وہ اندر سے مردہ ہوتی ہے۔ اقبال اسی لیے “جان” کو جمعیت سے وابستہ کرتے ہیں۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جمعیت میں نظم اور مقصد شامل ہوتے ہیں۔ یہ صرف قریب قریب کھڑے ہونے کا نام نہیں۔ جیسے نماز میں صفیں محض جسمانی ترتیب نہیں بلکہ ایک مشترک قبلے اور ایک مشترک اطاعت کی علامت ہیں، ویسے ہی ملت کی جمعیت بھی ایک روحانی ترتیب مانگتی ہے۔
حرم کا راز:
حرم کی عظمت صرف اس کی تاریخی یا معماری شان میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ ایک زندہ مرکز بن کر امت کے بکھرے ہوئے اجزا کو ایک رخ عطا کرتا ہے۔ طواف، قبلہ، احرام، تکبیر، دعا اور اجتماع سب مل کر یہ بتاتے ہیں کہ یہاں فرد اپنی تنہائی سے نکل کر جمعی شعور میں داخل ہوتا ہے۔ اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ حرم کا “سر” جمعیت ہے۔ جو شخص اس راز کو سمجھ لے گا وہ حرم کو صرف ایک مقام کے طور پر نہیں، ایک زندہ درس گاہ کے طور پر دیکھے گا۔
یہ راز یہ بھی سکھاتا ہے کہ مرکز کے بغیر جمعیت قائم نہیں رہتی۔ حرم دلوں کو صرف قریب نہیں لاتا، ان کے قریب آنے کو معنی بھی دیتا ہے۔ اگر ایک مرکز نہ ہو تو اجتماع اکثر شور، ہجوم یا وقتی جوش میں بدل جاتا ہے۔ مگر جب مرکز سچا ہو تو جمعیت جان بن جاتی ہے۔
قوموں کی حیات:
تاریخ میں بہت سی قومیں اپنی تعداد، دولت یا طاقت کے باوجود بکھر گئیں، کیونکہ ان کے پاس جمعیت کی روح باقی نہ رہی۔ دوسری طرف کچھ جماعتیں ظاہری کمزوری کے باوجود دیرپا ثابت ہوئیں، کیونکہ ان کے اندر باہمی ربط اور مقصد کی وحدت زندہ تھی۔ اقبال اس تاریخی حقیقت کو ایک مصرعے میں سمو دیتے ہیں۔ قوم کی عمر اس کی فوج، خزانے یا عمارتوں سے نہیں، اس کی جمعیت سے ناپی جاتی ہے۔
یہ نکتہ مسلمان کے لیے خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس کی شناخت ابتدا ہی سے ایک جمعی شعور کے ساتھ بنی ہے۔ قبلہ ایک، کتاب ایک، نبی ایک، کلمہ ایک، اور عبادت کے بنیادی شعائر بھی مشترک۔ اگر اس سب کے باوجود جمعیت کم زور پڑ جائے تو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے اپنے ہی ورثے کے باطن کو ڈھیلا چھوڑ دیا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کا زمانہ رابطوں سے بھرا ہوا ہے مگر حقیقی جمعیت سے خالی بھی ہو سکتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر دل ایک دوسرے سے دور ہیں۔ آراء بہت ہیں مگر آہنگ کم ہے، ہجوم بہت ہیں مگر مشترک روح کم۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں بنیادی سوال کی طرف واپس لاتا ہے: کیا ہماری جمعیت واقعی جان رکھتی ہے یا صرف ظاہری اجتماع ہے؟
اگر ہم حرم کے راز سے سبق لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ حقیقی جمعیت ادب، مرکز، مشترک مقصد، اور مسلسل رجوع سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے امت اپنی بکھری ہوئی توانائی کو دوبارہ روح میں بدل سکتی ہے۔ اقبال کا پیغام یہی ہے کہ ملت کی جان کو دوبارہ اس کے اصل راز سے جوڑ دو۔
مثال
جیسے جسم کے اعضا الگ الگ طاقت رکھتے ہوں مگر جان ایک ہو تو پورا بدن کام کرتا ہے، ویسے ہی قوم کے افراد جمعیت کے بغیر محض پرزے رہتے ہیں اور جمعیت کے ساتھ زندہ ملت بن جاتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں اعلان کرتے ہیں کہ قوموں کی اصل جان ان کی جمعیت میں ہے، اور حرم کا باطنی راز بھی یہی جمعیت ہے۔ سچا مرکز بکھرے ہوئے افراد کو ایسا ربط دیتا ہے جس سے ملی حیات پیدا ہوتی ہے۔