رموز بے خودی

برسر این باطل حق پیرهن

برسر این باطل حق پیرهن

تیغ «لا موجود الا هو» بزن

ترجمہ

اس باطل کے اوپر جو حق کا پیرہن پہنے ہوئے ہے، “لا موجود الا ہو” کی تلوار چلا دے۔

تشریح

یہ شعر نہایت گہری فکری بصیرت رکھتا ہے، کیونکہ اقبال یہاں کھلے باطل کے بجائے اس باطل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو “حق پیرہن” پہنے ہوئے ہو۔ یعنی وہ جھوٹ، ظلم، خود پرستی، تعصب، یا فاسد نظام جو خود کو حق، خیر، تہذیب، خدمت، ترقی، یا حتیٰ کہ دین کے نام میں پیش کرتا ہو۔ اقبال کے نزدیک یہی سب سے خطرناک صورت ہے، کیونکہ صاف باطل پہچاننا نسبتاً آسان ہے، مگر وہ باطل جو حق کے لباس میں آئے، انسان کے دل اور فکر کو زیادہ گہرے دھوکے میں ڈال سکتا ہے۔

اسی لیے وہ کہتے ہیں: “تیغ لا موجود الا ہو بزن”۔ یہاں تلوار سے مراد قتل و غارت کی تلوار نہیں، بلکہ توحیدی بصیرت، فکری تطہیر، باطل کی نفی، اور خالص حق کے اعلان کی قوت ہے۔ “لا موجود الا ہو” کی تعبیر باطل مرکزوں کی کلی نفی اور اللہ کی حقیقی مرکزیت کے اثبات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اقبال مسلمان کو سکھاتے ہیں کہ اسے صرف ظاہری دشمنوں کے خلاف نہیں، بلکہ اس فریب کے خلاف بھی لڑنا ہے جہاں باطل حق کا لباس پہن کر آتا ہے۔

حق کے لباس میں باطل:

باطل کی سب سے خطرناک چال یہی ہے کہ وہ خود کو حق کے قریب ترین الفاظ میں پیش کرے۔ ظلم انصاف کے نام میں آ سکتا ہے، غرور قومی غیرت کے نام میں، لالچ ترقی کے نام میں، جبر امن کے نام میں، اور بت گری تہذیب یا دینداری کے نام میں بھی۔ اقبال اسی پردے کو چاک کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مسلمان صرف نام دیکھے گا اور حقیقت نہ پرکھے گا تو وہ فریب کا شکار ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ توحید صرف عقیدہ نہیں، فرقان بھی ہے۔ وہ حق اور باطل کے لباسوں کے پیچھے چھپی حقیقتوں کو پہچاننے کی بصیرت دیتی ہے۔ اقبال اس بصیرت کو تلوار کہتے ہیں۔

“لا موجود الا ہو” کی قوت:

یہ جملہ محض صوفیانہ کیفیت نہیں، فکری انقلابی طاقت بھی رکھتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اصل وجود، اصل حقیقت، اصل مرکز، اور اصل قدرو قیمت اللہ کے سوا کسی کی ذاتی نہیں۔ جب یہ شعور دل میں جاگتا ہے تو جھوٹے مرکز خود بخود چھوٹے، کمزور، اور بے اصل دکھائی دینے لگتے ہیں۔

اسی لیے یہ تلوار خون بہانے کی نہیں، فریب کا سر کاٹنے کی ہے۔ یہ انسان کے دل سے باطل کے جادو کو توڑتی ہے، اس کی فکر سے جھوٹے تعویذ اتارتی ہے، اور اسے سچے رب کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی حقیقی جہاد ہے۔

بت شکنی کی نئی صورت:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محسوس بت توڑے تھے۔ جدید زمانے میں محسوس بتوں کے ساتھ فکری، سیاسی، تہذیبی، اور دینی لبادہ پہنے ہوئے بت بھی موجود ہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان ان سب کے سامنے ابراہیمی جرات کے ساتھ کھڑا ہو۔ مگر یہ جرات اندھی نہیں، حق آشنا ہے۔ وہ پہلے پہچانتی ہے، پھر نفی کرتی ہے، پھر سچے مرکز کی طرف بلاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال کا لہجہ یہاں سخت ہے، کیونکہ باطل جب حق کی قبا پہن لے تو نرمی سے زیادہ بصیرت اور جرأت کی ضرورت ہوتی ہے۔ امت کی کمزوری یہ نہیں کہ اس کے دشمن صرف باہر ہیں؛ خطرہ یہ بھی ہے کہ وہ باطل کو حق سمجھ بیٹھے۔

آج کے لیے سبق:

آج دنیا میں بہت سی چیزیں حق کے نام پر بیچی جاتی ہیں جو حقیقت میں باطل کی خدمت کرتی ہیں۔ کہیں ظلم کو قانون کہا جاتا ہے، کہیں استحصال کو آزادی، کہیں بے حیائی کو فن، کہیں تعصب کو حب الوطنی، اور کہیں نفس پرستی کو خود مختاری۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں ایک نہایت ضروری دینی فہم دیتا ہے: ناموں سے دھوکا نہ کھاؤ، حقیقت کو توحید کے میزان میں پرکھو۔

یہ شعر امت کو اپنے علمی، سیاسی، مذہبی اور تہذیبی میدانوں میں زیادہ بیدار ہونے کا حکم دیتا ہے۔ اگر وہ “حق پیرہن” والے باطل کو نہ پہچان سکی تو اس کی شہادت کمزور پڑ جائے گی۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان کے ہاتھ میں توحید کی وہ تلوار ہو جو فریب کو چیر دے اور حق کو اس کی خالص صورت میں نمایاں کر دے۔

مثال

جیسے نقلی دوا اگر اصلی لیبل لگا کر بیچی جائے تو سب سے زیادہ خطرناک بن جاتی ہے، ویسے ہی باطل جب حق کے لباس میں آئے تو اس کی پہچان اور رد سب سے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں مسلمان کو توحیدی بصیرت کی تلوار دیتے ہیں تاکہ وہ اس باطل کو بھی پہچان کر رد کر سکے جو حق کا لباس پہن کر آتا ہے۔ سچے مرکز کی معرفت ہی فریب کے اس پردے کو چاک کر سکتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button