رموز بے خودی

یک شرر می افکند اندر دلش

یک شرر می افکند اندر دلش

شعلۂ در گیر می گردد گلش

ترجمہ

وہ (رہنما) اس (ملت) کے دل میں ایک چنگاری ڈال دیتا ہے، اور اس کا وجود ایک بھڑکتے ہوئے شعلے میں بدل جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کی اس قوت کو بیان کرتے ہیں جو ایک چھوٹی سی چنگاری سے پوری قوم کو جوش کے شعلے میں بدل دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

دل میں چنگاری ڈالنا:

اقبال کہتے ہیں کہ رہنما ملت کے دل میں ایک چنگاری یعنی مقصد، یقین اور جذبے کی چنگاری ڈال دیتا ہے۔ یہ چنگاری بظاہر چھوٹی ہوتی ہے مگر اس میں بے پناہ قوت پوشیدہ ہوتی ہے۔

یہی چنگاری قوم کے سوئے ہوئے جذبات کو بیدار کرتی ہے اور اس کے اندر عمل کی حرارت پیدا کرتی ہے۔

بھڑکتے شعلے میں بدلنا:

شاعر کہتے ہیں کہ یہ چنگاری آہستہ آہستہ ایک بھڑکتے ہوئے شعلے میں بدل جاتی ہے۔ یعنی رہنما کا ڈالا ہوا مقصد پوری قوم میں پھیل کر ایک عظیم تحریک بن جاتا ہے۔

جو جذبہ پہلے ایک فرد یا چند افراد تک محدود تھا، وہ پوری ملت کو اپنی لپیٹ میں لے کر ایک انقلاب برپا کر دیتا ہے۔

چھوٹے سبب سے بڑا اثر:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ رہنما کی ایک چھوٹی سی تحریک اور ایک اشارہ بھی پوری قوم میں عظیم تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔

جذبے کا پھیلاؤ:

یہی جذبے کا پھیلاؤ اور یہی اجتماعی حرارت ایک قوم کو بیدار اور متحرک کر کے بڑے کارنامے سرانجام دینے کے قابل بنا دیتی ہے۔

مثال

جیسے ایک چھوٹی سی چنگاری خشک گھاس میں گر کر پورے میدان کو شعلوں میں بدل دیتی ہے، ویسے ہی رہنما کی ڈالی ہوئی چنگاری پوری قوم کو جوش اور عمل کے شعلے میں بدل دیتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما ایک چھوٹی سی چنگاری سے پوری قوم کے دل میں جوش اور عمل کا شعلہ بھڑکا دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button