رموز بے خودی

حرف حق از حضرت ما برده ئی

حرف حق از حضرت ما برده ئی

پس چرا با دیگران نسپرده ئی

ترجمہ

تو ہم سے حرفِ حق لے تو آیا ہے، پھر تو نے اسے دوسروں تک کیوں نہیں پہنچایا؟

تشریح

یہ شعر اس پورے حصے کا نہایت بلیغ اختتام ہے۔ ساری بحث کے آخر میں اقبال امت سے ایک سیدھا، سادہ، مگر ہلا دینے والا سوال کرتے ہیں: تم نے “حرفِ حق” ہم سے لے لیا، پھر تم نے اسے دوسروں تک کیوں نہ پہنچایا؟ یہاں “حضرت ما” کے الفاظ میں نبوی نسبت کی حرارت، روحانی امانت کی عظمت، اور وارثانہ ذمہ داری کا پورا بوجھ سما گیا ہے۔ امت نے حق کو دریافت نہیں کیا، اسے بطور امانت پایا ہے۔ اس لیے اس کے لیے سوال صرف یہ نہیں کہ وہ خود اس پر قائم ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا اس نے اسے آگے پہنچایا یا نہیں۔

یہ شعر اقبال کی پوری فکر کا عملی امتحان بن جاتا ہے۔ توحید، تکبیر، شہادت، امتِ عادل، علومِ امئی، تقویمِ حیات، باطل کے خلاف جہاد، اور زمانے کی تاریکی میں جلوہ بننے کی ساری باتیں یہاں آ کر ایک سوال میں سمٹ جاتی ہیں: کیا تم نے حرفِ حق امانت کے طور پر دوسروں تک پہنچایا؟ اگر نہیں، تو تمہاری نسبت ادھوری ہے، تمہارا شکر ادھورا ہے، اور تمہاری شہادت ادھوری ہے۔ اس طرح اقبال دین کو صرف محفوظ رکھنے کے بجائے منتقل کرنے، عام کرنے، اور دنیا تک پہنچانے کے منصب سے جوڑ دیتے ہیں۔

حرفِ حق بطور امانت:

حرفِ حق سے مراد صرف عقیدے کا ایک جملہ نہیں، بلکہ پوری وہ سچائی ہے جو انسان کو اس کے رب، اس کے مقصد، اس کے ضمیر، اور اس کی صحیح زندگی سے آشنا کرتی ہے۔ امت نے یہ حرف قرآن، سنت، نبوی سیرت، اور اپنے روحانی و تاریخی ورثے کے ذریعے پایا ہے۔ اقبال اس کو “برده ئی” کہہ کر یہ جتاتے ہیں کہ یہ محض ذاتی ملکیت نہیں، ایک سپرد کی ہوئی چیز ہے۔

امانت کی فطرت یہی ہے کہ اسے بگاڑا بھی نہ جائے اور روکا بھی نہ جائے۔ اسے صحیح حالت میں اگلے تک پہنچایا جائے۔ اسی لیے حرفِ حق کو اپنے اندر بند رکھنا امانت کی پوری ادائیگی نہیں۔

سپرد کرنے کی ذمہ داری:

“نسپرده ئی” میں بڑا درد ہے۔ اقبال کو شکوہ یہ نہیں کہ امت کو حق ملا ہی نہیں، بلکہ یہ کہ ملنے کے بعد بھی اس نے اسے دوسروں تک پورے طور پر نہیں پہنچایا۔ سپرد کرنا دعوت بھی ہے، تعلیم بھی، شہادت بھی، اخلاقی نمونہ بھی، اور تہذیبی اثر بھی۔ اگر امت کا کردار، اس کا عدل، اس کی عبادت، اس کی خدمت، اور اس کا علم حرفِ حق کو دوسروں تک نہ پہنچائیں تو اس کی ذمہ داری باقی رہتی ہے۔

یہ سپرد کرنا زبردستی نہیں، رسالت کا امینانہ انداز ہے۔ حق کو حسن، حکمت، عدل، اور سچائی کے ساتھ پیش کرنا ہی اس کی صحیح ادائیگی ہے۔ اقبال اسی مؤثر ابلاغ کی کمی پر سوال اٹھاتے ہیں۔

وراثت سے رسالت تک:

امت اگر صرف وارث بن کر رہے اور رسولانہ ذمہ داری نہ اپنائے تو وہ اپنے منصب کا آدھا حصہ چھوڑ دیتی ہے۔ وراثت اعزاز دیتی ہے، مگر رسالتِ امت اسے معنی دیتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنی نسبت کو صرف محفوظ دائرے میں نہ رکھے بلکہ اسے انسانیت کے لیے رحمت اور رہنمائی میں بدلے۔

یہی وجہ ہے کہ اس شعر میں سوال کی صورت اختیار کی گئی ہے۔ سوال ہمیشہ جھنجھوڑتا ہے، دفاع کو کمزور کرتا ہے، اور انسان کو اپنے اندر دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اقبال اس آخری سوال سے پورے اس حصے کو ضمیر کی عدالت بنا دیتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ہمارے پاس قرآن بھی ہے، سیرت بھی، تاریخ بھی، عبادت بھی، تہذیب بھی، مگر دنیا تک حرفِ حق کس صورت میں پہنچ رہا ہے؟ کیا ہمارے علم، میڈیا، معیشت، سیاست، دعوت، ادب، گھر، ادارے، اور کردار واقعی اس سچائی کے امین ہیں؟ اقبال کا سوال آج بھی پہلے سے زیادہ تیز محسوس ہوتا ہے، کیونکہ دنیا شور سے بھری ہوئی ہے مگر حق کی معتبر اور زندہ شہادت کم دکھائی دیتی ہے۔

یہ شعر امت کو نہ صرف دعوتی غیرت دیتا ہے بلکہ عملی سمت بھی۔ اگر حرفِ حق ہمارے پاس ہے تو اسے اخلاق، عدل، رحمت، علم، اور سچے نمونے کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا ہوگا۔ یہی وراثت کا شکر، یہی نبوی نسبت کی ادائیگی، اور یہی امت کے وجود کا جواز ہے۔ اقبال کا آخری سوال ہمارے لیے آخری حجت بن جاتا ہے۔

مثال

جیسے کوئی شخص قیمتی پیغام لے کر پہنچانے کے بجائے اسے اپنے پاس ہی رکھ لے تو اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے، ویسے ہی حرفِ حق کو دوسروں تک نہ پہنچانا امانت کی ادائیگی کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس حصے کے آخر میں امت سے سوال کرتے ہیں: تم نے حرفِ حق پایا، مگر دوسروں تک کیوں نہ پہنچایا؟ یہی سوال امت کے دعوتی، اخلاقی، اور تہذیبی منصب کو ایک آخری اور فیصلہ کن ذمہ داری میں بدل دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button