رموز بے خودی

تنگ بر ما رهگذار دین شد است

تنگ بر ما رهگذار دین شد است

هر لئیمی راز دار دین شد است

ترجمہ

ہم پر دین کا راستہ تنگ ہو گیا ہے، اور ہر کم ظرف شخص دین کا راز دار بنا بیٹھا ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال امت کے ایک بڑے المیے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دین کا “رهگذار” یعنی وہ کشادہ راستہ جس سے امت عزت، علم، عمل اور قربِ الٰہی کی طرف بڑھتی تھی، اب ہمارے لیے تنگ ہو گیا ہے۔ اور اس تنگی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر “لئیم”، یعنی کم ظرف، کم ہمت، پست ذوق یا غیر امین شخص، دین کا “راز دار” بن بیٹھا ہے۔ جب امانت نااہل ہاتھوں میں چلی جائے تو راستہ سکڑ جاتا ہے، دلوں پر بوجھ بڑھتا ہے اور دین کی وسعت تنگ نظری میں بدلنے لگتی ہے۔ شعر کے مطابق:

رهگذار دین کی وسعت:

دین کا راستہ اصل میں کشادہ ہے، کیونکہ وہ انسان کو بندگی، عدل، خیر، علم، تزکیہ اور اجتماعیت کی وسیع دنیا میں داخل کرتا ہے۔ شریعت کی حدود تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ حیات کو درست سمت دینے کے لیے ہیں۔ جب اقبال تنگی کی شکایت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین میں تنگی ہے، بلکہ یہ کہ ہماری حالت اور ہمارے نمائندوں نے اس کشادگی کو لوگوں کے لیے دشوار بنا دیا ہے۔

گویا مرض خود دین میں نہیں، دینی امانت کے ناقص برتاؤ میں ہے۔

لئیم کون ہے:

“لئیم” وہ ہے جس کے پاس کچھ معلومات تو ہوں مگر ظرف نہ ہو، زبان ہو مگر امانت نہ ہو، رسائی ہو مگر اخلاص نہ ہو، یا جس کی دینی گفتگو نفس، شہرت، غرض یا جاہ طلبی سے متاثر ہو۔ ایسا آدمی دین کی حقیقت کے بجائے اپنے ذوق، اپنے گروہ یا اپنے فائدے کو بڑا بنا دیتا ہے۔

اقبال کی نگاہ میں دین کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس کے ترجمان کا قلب وسیع نہ ہو اور اس کا ظرف پاک نہ ہو۔

راز دارِ دین بننا:

راز دار ہونا ایک امانت دار حیثیت ہے۔ دین کے راز دار وہ ہونے چاہییں جو دل کے صاف، عقل کے پختہ، ورع کے حامل اور امت کے خیرخواہ ہوں۔ اگر یہ مقام کم ظرف ہاتھوں میں چلا جائے تو دین کے اسرار بند ہو جاتے ہیں، اور ان کی جگہ سختی، تنگ نظری، سطحیت یا شور لے لیتا ہے۔ لوگ پھر دین کو حیات بخش حقیقت کے بجائے بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال دینی ترجمانی کے اخلاقی معیار کو بہت بلند رکھنا چاہتے ہیں۔

تنگی کا اجتماعی اثر:

جب نااہل راز دار بڑھ جائیں تو امت کے اندر شک، تنازع، نفسیاتی بوجھ اور بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ نوجوان دین سے دور بھاگتے ہیں، سنجیدہ اہلِ فکر خاموش ہو جاتے ہیں، اور عام لوگ یا تو افراط میں جاتے ہیں یا تفریط میں۔ اس طرح رهگذار دین تنگ ہو جاتا ہے، حالانکہ دین کا اصل مزاج کشادہ، حکیمانہ اور دلوں کو سنبھالنے والا ہے۔

اقبال اس خطرے کو صرف فقہی نہیں، تہذیبی اور روحانی بحران سمجھتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی یہی مسئلہ شدت کے ساتھ موجود ہے۔ بہت سے بلند مناصب اور دینی عنوانات ایسے لوگوں کے ہاتھ میں پہنچ جاتے ہیں جو علم کی گہرائی، اخلاقی امانت اور روحانی وسعت سے محروم ہوتے ہیں۔ اقبال ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ دین کی کشادگی واپس لانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے راز دار پھر سے اہلِ ظرف، اہلِ ورع اور اہلِ بصیرت ہوں۔

ورنہ دین کا راستہ لوگوں کے لیے اور زیادہ تنگ ہوتا جائے گا، حالانکہ نجات اسی میں تھی۔

مثال

جیسے کسی بڑی سڑک پر اگر نااہل نگہبان رکاوٹیں کھڑی کر دیں تو گزرنا مشکل ہو جاتا ہے، ویسے ہی دین کے راستے پر بھی نااہل ترجمان تنگی پیدا کر دیتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ دین کا راستہ اس لیے تنگ محسوس ہونے لگا ہے کہ اس کی امانت نااہل اور کم ظرف ہاتھوں میں جا پڑی ہے۔ دین کی کشادگی کی بحالی کے لیے اہلِ امانت راز داروں کی ضرورت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button