رموز بے خودی

تخم ایمان آخر اندر گل نشاند

تخم ایمان آخر اندر گل نشاند

با زبانت کلمهٔ توحید خواند

ترجمہ

آخرکار اس نے مٹی کے اندر ایمان کا بیج بو دیا، اور تیری زبان سے کلمۂ توحید پڑھوا دیا۔

تشریح

یہ شعر پچھلے کئی اشعار کی پوری جدوجہد کو ایک نہایت پُر امید انجام میں سمیٹ دیتا ہے۔ اقبال نے پہلے بتایا کہ ایک اذان کے لیے نالے بوئے گئے، حق کو پیکار سے گزرنا پڑا، اور باطل کے خداوندوں سے بھی مقابلہ ہوا۔ اب وہ کہتے ہیں کہ آخرکار اس ساری جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایمان کا بیج مٹی میں جما دیا گیا اور تیری زبان سے کلمۂ توحید ادا ہو گیا۔ “آخر” کا لفظ خود اس کامیابی کی طویل تمہید کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یعنی یہ نتیجہ فوری نہیں تھا؛ یہ صبر، قربانی، سوز، دعوت اور مجاہدہ کی دیرینہ محنت کے بعد حاصل ہوا۔

“تخم ایمان” ایک عظیم تعبیر ہے۔ بیج چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کے اندر پورے درخت کا امکان پوشیدہ ہوتا ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ ایمان بھی ایسا ہی ہے۔ جب یہ مٹی میں، یعنی انسانی فطرت، معاشرے، تاریخ یا وجود کے اندر بو دیا جائے تو اس سے پورا تہذیبی، اخلاقی اور روحانی نظام ابھر سکتا ہے۔ پھر “با زبانت کلمهٔ توحید خواند” اس بات کی علامت ہے کہ یہ بیج صرف اندر ہی نہ رہا، اظہار بھی پا گیا۔ دل کا ایمان زبان کے اقرار میں ڈھل گیا، اور یوں باطن و ظاہر دونوں ایک مرکز کے تابع ہو گئے۔

ایمان کا بیج:

بیج ہمیشہ امکان کی علامت ہوتا ہے۔ وہ شروع میں چھوٹا، پوشیدہ اور کم زور دکھائی دیتا ہے، مگر اس میں پورے درخت کی تقدیر سوئی ہوتی ہے۔ اقبال ایمان کو بیج کہہ کر یہ بتاتے ہیں کہ دین کی اصل قوت اس کے اندرونی جوہر میں ہے، نہ کہ صرف ظاہری ہنگامے میں۔ اگر بیج صحیح مٹی میں پڑ جائے تو وقت کے ساتھ اس سے شاخیں، پھل، سایہ اور بقا سب پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ بیج مٹی میں نشاندن کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایمان کوئی ہوا میں معلق خیال نہیں۔ اسے انسانی زندگی کے حقیقی میدان میں، معاشرت اور تاریخ کی مٹی میں جڑ پکڑنی ہوتی ہے۔ تبھی وہ زندگی بدلنے والی قوت بنتا ہے۔

کلمۂ توحید کا اقرار:

زبان سے کلمہ پڑھنا محض صوتی عمل نہیں۔ یہ ایک اعلان ہے کہ اب انسان نے اپنا مرکز بدل لیا، اپنی نسبت متعین کر لی، اور اپنی زندگی کے بڑے اصول کا نام لے لیا۔ “لا الٰہ الا اللہ” کہنا دراصل سارے باطل مرکزوں سے انکار اور ایک سچے مرکز کے اقرار کا نام ہے۔ اقبال اسی کو تمام جدوجہد کا ثمر قرار دیتے ہیں۔

یہاں زبان کی اہمیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ پہلے وہ کہہ چکے ہیں کہ اعمال حیات کے الفاظ ہیں۔ اب زبان خود کلمۂ توحید کی امین بن جاتی ہے۔ یعنی باطن میں بویا گیا ایمان ظاہر کے اقرار میں بھی ڈھلتا ہے۔ یہ مکمل دینداری کی علامت ہے۔

جدوجہد کا پھل:

یہ شعر اقبال کی فکر میں امید کے مرکزی مقام کو واضح کرتا ہے۔ پیکار، نالہ، خون، ٹوٹتے نقش، اور زخمی سفر سب کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان کا بیج بویا گیا۔ گویا حق کی تاریخ محض غم کی تاریخ نہیں؛ وہ ثمربار غم کی تاریخ ہے۔ تکلیف آخرکار بے ثمر نہیں جاتی، اگر اس کے پیچھے سچا مقصد موجود ہو۔

یہی امت کی بقا کا راز بھی ہے۔ اگر توحید کا بیج ایک بار دلوں اور معاشروں میں لگ جائے تو پھر وہ مختلف صورتوں میں نئی حیات دیتا رہتا ہے۔ اقبال اسی دیرپا ثمر کو سامنے لاتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی دین کے بڑے کام کو اگر محض فوری نتائج کے پیمانے سے ناپا جائے تو مایوسی پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر اقبال کا شعر یاد دلاتا ہے کہ اصل مقصد بیج بونا ہے۔ اگر ہم دلوں، گھروں، اداروں، نسلوں اور معاشروں میں ایمان کا تخم ڈال سکیں تو یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اس کے بعد شجر کا اگنا وقت، محنت اور نگہبانی مانگتا ہے۔

یہ شعر ہمیں اپنے کلمے کے ساتھ نئے شعور سے وابستہ کرتا ہے۔ جو کلمہ ہماری زبان پر آیا ہے، وہ صدیوں کی جدوجہد کا حاصل ہے۔ اس لیے اسے صرف وراثتی لفظ نہ سمجھا جائے، بلکہ ایک امانت سمجھا جائے جس کی حفاظت دل، عقل، عمل اور معاشرت سب میں ہونی چاہیے۔ اقبال کی یہی بیداری ہمیں درکار ہے۔

مثال

جیسے ایک چھوٹا بیج اگر صحیح مٹی میں لگ جائے تو وقت کے ساتھ پورا باغ بنا سکتا ہے، ویسے ہی ایمان کا بیج دل اور معاشرے میں لگ کر پوری زندگی کو بدل سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں حق کی جدوجہد کے ثمربار انجام کو بیان کرتے ہیں۔ طویل پیکار اور سوز کے بعد ایمان کا بیج مٹی میں جما اور زبان پر کلمۂ توحید آیا، جو پوری زندگی کے مرکز کے بدل جانے کی علامت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button