تا نشیند آتش پیکار و کین
تا نشیند آتش پیکار و کین
پشت پا زد بر سر تاج و نگین
ترجمہ
تاکہ جنگ اور کینے کی آگ ٹھنڈی ہو جائے، اس نے تاج و نگین کو ٹھوکر مار دی۔
تشریح
یہ شعر بھی حضرت امام حسن علیہ السلام کی اسی عظیم قربانی کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے اقبال امت کی جمعیت کی حفاظت کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ “تاج و نگین” اقتدار، حکومت، اور ظاہری جاہ و جلال کی علامت ہیں، جبکہ “آتشِ پیکار و کین” باہمی جنگ، عصبیت، اور انتقامی مزاج کی آگ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ حضرت امام حسن علیہ السلام نے اس آگ کو بجھانے کے لیے اقتدار کے ظاہری حق اور شان کو اپنے پاؤں سے ٹھکرا دیا۔ یہ معمولی دست برداری نہیں بلکہ ایک عظیم اخلاقی ترجیح ہے۔
اس شعر میں اصل عظمت اس بات میں ہے کہ تاج کو چھوڑنا کم زوری کے باعث نہیں بلکہ بڑے خیر کے لیے کیا گیا۔ یعنی شخصیت اتنی بلند تھی کہ اقتدار اس کے لیے اصل مطلوب نہ رہا؛ اصل مطلوب امت کا امن، خون ریزی کا رکنا، اور اجتماعی شیرازے کی حفاظت تھی۔ اقبال اس قربانی کو عشق اور بصیرت دونوں کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ عشق اس لیے کہ انسان اپنی انا اور حقِ ظاہری کو بڑے مقصد کے لیے قربان کرے، اور بصیرت اس لیے کہ وہ وقتی غلبے سے بڑھ کر امت کے باطن کو دیکھ سکے۔
تاج و نگین کی حقیقت:
تاج و نگین دنیاوی شان، سیاسی اقتدار، اور ظاہری برتری کی علامت ہیں۔ لوگ عموماً انہی چیزوں کے لیے لڑتے اور انہیں اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔
حضرت امام حسن علیہ السلام نے انہی علامات کو ثانوی ثابت کر دیا۔ اقبال کے نزدیک یہی روحانی عظمت ہے کہ انسان اقتدار کو مقصد نہ بنائے بلکہ حق اور خیر کو مقصد بنائے۔
آتشِ پیکار و کین:
یہ محض خارجی جنگ نہیں بلکہ دلوں میں بھڑکنے والی دشمنی کی آگ بھی ہے۔ جب قوم کے اندر کینہ اور اقتدار کی کشمکش غالب ہو جائے تو ملت اندر سے جلنے لگتی ہے۔
حضرت امام حسن علیہ السلام نے اسی آگ کو بجھانے کے لیے اپنا حقِ ظاہری قربان کیا۔ اقبال اسے امت پر ان کے سب سے بڑے احسانوں میں شمار کرتے ہیں۔
قربانی کا اعلیٰ معیار:
بڑی قربانی وہ نہیں جو کم زوری میں کی جائے، بلکہ وہ ہے جو قدرت کے باوجود بڑے خیر کے لیے اختیار کی جائے۔ اس شعر میں یہی نکتہ مرکزی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام کی صلح اقبال کے نزدیک کم مائیگی نہیں بلکہ بلند مائیگی ہے۔ اس میں نفس پر غلبہ، بصیرت، اور امت کے لیے درد تینوں جمع ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج سیاست، اداروں، اور ذاتی زندگی سب میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہم اپنے حق، اپنی انا، یا اپنی جیت کے لیے سب کچھ جلتا ہوا دیکھنے کو تیار ہیں، یا بڑے خیر کے لیے کچھ چھوڑ بھی سکتے ہیں۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ بعض اوقات اصل قیادت جیت لینے میں نہیں بلکہ بچا لینے میں ہوتی ہے۔ حضرت امام حسن علیہ السلام نے اقتدار سے زیادہ امت کو محفوظ کیا، اور یہی ان کی بلند ترین فتح ہے۔
مثال
جیسے ایک دانا انسان گھر میں جھگڑا ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنی پسندیدہ چیز سے بھی دست بردار ہو جاتا ہے تاکہ پورا گھر نہ جل اٹھے، ویسے ہی بڑی قیادت بعض اوقات اپنی ظاہری جیت چھوڑ کر بڑے وجود کو بچاتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں حضرت امام حسن علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس میں انہوں نے امت کی حفاظت اور خون ریزی کے خاتمے کے لیے تاج و نگین کو ٹھکرا دیا۔