خفته صد آشوب در آغوش او
خفته صد آشوب در آغوش او
صبح امروزی نزاید دوش او
ترجمہ
اس کی آغوش میں سو ہنگامے سوئے ہوئے تھے، اور آج کی صبح بھی اس کے کل ہی سے جنم لیتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فتنے کی تاریخ کو صرف ایک اچانک دھماکے کے طور پر نہیں بلکہ ایک تدریجی عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جس فتنہ کو ہم کسی ایک دن پھوٹ پڑا ہوا دیکھتے ہیں، اس کی آغوش میں بہت سے آشوب پہلے سے سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ یعنی بڑے بحران یکبارگی خالی فضا سے پیدا نہیں ہوتے، ان کے اسباب، ان کے بیج اور ان کے مضمر نتائج پہلے سے تاریخ کے باطن میں موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح آج کی صبح بھی کل ہی سے نکلتی ہے؛ آج کا حال ماضی کے رحم سے جنم لیتا ہے۔ شعر کے مطابق:
آغوش میں خفتہ آشوب:
“آغوش” عام طور پر محبت، پناہ یا سمیٹنے کی جگہ ہوتی ہے، مگر اقبال اسے یہاں ایک گہرے تاریخی استعارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس فتنہ کی آغوش میں سو آشوب سوئے ہوئے تھے، یعنی اس ایک فتنے کے پیچھے بے شمار پوشیدہ اسباب، غیر ظاہر بحران، جمع ہوتی ہوئی خرابیاں اور تاریخ کے اندر پلتے ہوئے دھماکے موجود تھے۔
گویا جو چیز ظاہر ہوئی وہ ایک چہرہ تھا، مگر اس کے پیچھے بہت سی غیر مرئی طاقتیں کام کر رہی تھیں۔ امت کی غفلت، اندرونی کمزوری، بیرونی دشمنی، فکری زوال اور سیاسی بکھراؤ سب مل کر “خفتہ آشوب” بن سکتے ہیں۔
فتنہ کبھی یک لخت نہیں آتا:
اقبال اس شعر سے تاریخ کے مطالعے کا ایک بڑا اصول دیتے ہیں: کسی بھی بڑے سانحے کو صرف اس کے آخری دھماکے سے نہ سمجھو۔ اگر ہم صرف ظاہری واقعے کو دیکھیں گے تو عبرت ادھوری رہ جائے گی۔ اصل سمجھ تب پیدا ہوتی ہے جب ہم ان خاموش تبدیلیوں، اندرونی سستیوں، اخلاقی ڈھیلے پن اور فکری انحرافات کو پہچانیں جو کسی بڑے بحران سے پہلے جمع ہوتے رہتے ہیں۔
اس لیے شعر ہمیں واقعات کے پیچھے چھپے ہوئے زمانہ ساز عمل کی طرف لے جاتا ہے۔
آج کی صبح اور کل کا تعلق:
“صبح امروزی نزاید دوش او” کا مفہوم یہ ہے کہ آج الگ سے پیدا نہیں ہوا؛ وہ کل سے ہی برآمد ہوا ہے۔ حال ماضی سے کٹا ہوا جزیرہ نہیں ہوتا۔ ہر آج کے اندر کل کے فیصلے، کل کے غفلت نامے، کل کے خواب اور کل کی غلطیاں شامل ہوتی ہیں۔
یہ نکتہ امت کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ وہ بسا اوقات اپنے حال کی شکایت تو کرتی ہے مگر اس حال کی تیاری میں اپنا ماضیاتی کردار نہیں دیکھتی۔ اقبال اس خود فریبی کو توڑتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آج کی روشنی ہو یا تاریکی، وہ کل ہی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔
تاریخ کا اخلاقی سبق:
اس شعر میں ایک اخلاقی تنبیہ بھی ہے: اگر ہم اپنی موجودہ کمزوریوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیں تو وہی کل کے بڑے فتنوں کا بیج بن سکتی ہیں۔ چھوٹی بددیانتی، معمولی فکری سستی، تھوڑی سی بے راہ قیادت یا مذہبی ظاہر پسندی بظاہر بے ضرر لگ سکتی ہے، مگر تاریخ کی آغوش میں یہی چیزیں بڑے آشوب بن کر سو سکتی ہیں۔
اسی طرح اگر آج ہم اصلاح، اخلاص، علم اور توحیدی بیداری کا بیج بوئیں تو کل کی صبح بھی روشن تر ہو سکتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے موجودہ مسائل کو صرف بیرونی سازش یا فوری حادثات سے سمجھنا کافی نہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے آج کے بحران کن ماضیاتی غفلتوں، کن تعلیمی کمزوریوں، کن اخلاقی انحرافات اور کن فکری غلطیوں سے پیدا ہوئے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں گہرا، غیر سطحی اور خود احتسابی والا مطالعہ سکھاتا ہے۔
اگر ہم آج کے اندر کل کے بیج نہ پہچانیں تو ہم ہر بار ایک ہی فتنہ کو نئے نام سے بھگتتے رہیں گے۔
مثال
جیسے ایک بڑے درخت کے گرنے سے پہلے اس کی جڑوں میں سڑن طویل عرصے سے پل رہی ہوتی ہے، ویسے ہی بڑے تہذیبی فتنے بھی ایک دن میں نہیں بنتے۔ ان کے سو آشوب پہلے ہی تاریخ کی آغوش میں سو رہے ہوتے ہیں، اور آج کی صورت کل ہی سے پیدا ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ بڑے فتنے یکدم پیدا نہیں ہوتے؛ ان کے اندر بے شمار پوشیدہ آشوب پہلے سے سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح آج کا حال ماضی سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ شعر امت کو گہرے تاریخی شعور اور سخت خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔
