برق آهنگ است هشیارش زنند
برق آهنگ است هشیارش زنند
خویش را چون زخمه بر تارش زنند
ترجمہ
اس کی لے بجلی کی طرح تیز ہے؛ جو بیدار ہیں وہ اپنے آپ کو اس کے تار پر مضراب کی طرح چلاتے ہیں۔
تشریح
یہ شعر پچھلے شعر کے “کهن ساز” کو مزید متحرک اور شدید بنا دیتا ہے۔ کائنات کا ساز کوئی سست، خاموش یا مدھم ساز نہیں؛ اس کی “آهنگ” برق کی مانند ہے۔ یعنی اس میں سرعت ہے، شدت ہے، چمک ہے، اور ایسی توانائی ہے جو غافل آدمی کو ڈرا بھی سکتی ہے اور بیدار آدمی کو متحرک بھی۔ اقبال یہاں کائنات کی موسیقیت کو ایک نرم جمالیاتی کیفیت تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے بجلی جیسی قوت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت کی نوا میں توانائی اور عمل دونوں شامل ہیں۔
“هشیارش زنند” اور “خویش را چون زخمه بر تارش زنند” اس شعر کی روح ہیں۔ بیدار لوگ کائنات کے ساز کے سامنے خاموش تماشائی نہیں رہتے، بلکہ خود کو اس کے تار پر “زخمه” یعنی مضراب کی طرح رکھتے ہیں۔ یہ بہت گہرا استعارہ ہے۔ وہ اپنی ذات، اپنی ہمت، اپنی عقل، اور اپنے عمل کو اس بڑے کائناتی ساز کے ساتھ ایک فعال نسبت میں داخل کرتے ہیں۔ گویا نغمہ سننے کے لیے انہیں خود بھی نغمہ ساز ہونا پڑتا ہے۔ اقبال کے نزدیک حقیقت کے ساتھ حقیقی تعلق محض مشاہدہ نہیں، شراکت بھی ہے۔
برق کی لے:
برق ہمیشہ تیزی، روشنی، طاقت اور اچانک اثر کی علامت ہے۔ جب اقبال کائنات کی لے کو برق آہنگ کہتے ہیں تو وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کے اندر کا نظم مردہ نہیں، حیرت انگیز حد تک فعال ہے۔ اس کے اندر جو توانائی کام کر رہی ہے وہ سستی سے نہیں سمجھی جا سکتی۔
یہی وجہ ہے کہ بیدار ذہن کو بھی برق کی طرح زندہ، چست اور تیار ہونا پڑتا ہے۔ جمود زدہ ذہن کائنات کی رفتار سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ اقبال یہاں فکری سرعت اور عملی چوکس پن دونوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہوشیار کی پہچان:
ہوشیار وہی ہے جو دنیا کے ساز کے سامنے نیند میں نہیں رہتا۔ وہ صرف موجود ترتیب کو دیکھ کر مرعوب نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ تخلیقی تعلق قائم کرتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتا ہے، تجربہ کرتا ہے، اور اپنی ذات کو اس عمل میں شامل کرتا ہے۔
یہ ہوشیاری اقبال کے ہاں صرف ذہانت نہیں، بیدار خودی ہے۔ ایسی خودی جو موقع پہچانتی ہے، خطرہ سمجھتی ہے، اور پھر اپنی پوری قوت کے ساتھ جواب دیتی ہے۔ یہی بیداری قوموں کے عروج کا آغاز بھی بنتی ہے۔
خود کو زخمہ بنانا:
مضراب ساز کے تار سے باہر کھڑی ہو کر نغمہ پیدا نہیں کرتی؛ اسے تار پر لگنا پڑتا ہے۔ اقبال یہی بات انسان کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ اگر تم کائنات کے رازوں، اس کی قوتوں اور اس کی نوا کو سمجھنا چاہتے ہو تو تمہیں خود کو اس کے عمل میں ڈالنا ہوگا۔ محنت، تجربہ، جستجو اور خطرہ مول لیے بغیر نغمہ نہیں نکلتا۔
یہ استعارہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ خودی کا کمال تنہائی میں جمود نہیں، موثر ضرب ہے۔ آدمی اپنی ذات کو جب بڑے مقصد اور بڑے نظام کے ساتھ جوڑتا ہے تو اس سے نغمہ پیدا ہوتا ہے۔ اقبال ایسی ہی خودی چاہتے ہیں جو تار پر لگنے سے ڈرے نہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ دنیا کے پیچیدہ نظام، تیز رفتار تبدیلی، اور طاقتور علوم کو دیکھ کر صرف ناظر بنے رہتے ہیں۔ اقبال اس رویے کو کافی نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں: اگر تم واقعی بیدار ہو تو خود کو اس ساز کا حصہ بناؤ، اس کے ساتھ زندہ تعامل پیدا کرو، اور اپنی ذات کو مضراب کی طرح مؤثر بناؤ۔
یہ شعر امت کو بتاتا ہے کہ صرف کائنات کے نغمے کی تعریف نہیں کرنی، اس کے اندر اپنی ضرب بھی شامل کرنی ہے۔ یہی ضرب علم بھی پیدا کرے گی، تہذیب بھی، اور خودی کی تکمیل بھی۔ اقبال کے نزدیک بیدار انسان کی یہی شان ہے۔
مثال
جیسے موسیقی سیکھنے والا شخص صرف سن کر ماہر نہیں بنتا بلکہ خود ساز پر انگلی رکھنی پڑتی ہے، ویسے ہی حقیقت کے راز صرف دیکھنے سے نہیں، عمل میں اترنے سے کھلتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ کائنات کی نوا تیز، طاقتور اور بجلی جیسی ہے، اور اسے سمجھنے والے وہی ہیں جو خود کو اس کے عمل میں مضراب کی طرح شامل کر دیتے ہیں۔ بیداری کا مطلب فعال شرکت ہے۔
