رموز بے خودی

از مقام او اگر دور ایستی

از مقام او اگر دور ایستی

از میان معشر ما نیستی

ترجمہ

اگر تو اس کے مقام سے دور کھڑا ہے تو پھر تو ہمارے اجتماع اور ہماری جماعت میں سے نہیں۔

تشریح

یہ شعر نہایت دو ٹوک ہے اور اس کی یہی صراحت اس کا حسن بھی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس ہستی کے مقام سے دور کھڑا ہو جائے تو وہ ہمارے معشر میں سے نہیں رہتا۔ یہاں “مقام او” سے مراد صرف تاریخی محبت یا زبانی عقیدت نہیں، بلکہ وہ اخلاقی، روحانی اور عملی مقام ہے جو رسول اکرم کی سیرت سے وابستہ ہے۔ اس مقام سے دوری کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے فیصلوں، اپنے مزاج، اپنے تعلقات اور اپنے کردار کو نبوی معیار سے آزاد کر لے۔ اقبال کے نزدیک ایسی آزادی دراصل نسبت کا ٹوٹ جانا ہے۔

اس شعر میں امت کی پہچان کا بنیادی اصول بیان ہوا ہے۔ مسلمان ہونا محض نام، وراثت یا دعوے سے مکمل نہیں ہوتا؛ اصل بات یہ ہے کہ انسان کس مرکز کے گرد کھڑا ہے۔ اگر مرکزِ حیات نبوی مقام ہو تو فرد معشرِ مسلم کا حصہ بنتا ہے۔ اگر مرکز کہیں اور ہو جائے، خواہ وہ نفس ہو، خواہ زمانے کا فیشن، خواہ محض عقلِ خودبنیاد، تو پھر ظاہری نسبت باقی رہ سکتی ہے مگر باطنی شمولیت کمزور پڑ جاتی ہے۔

مقام سے مراد کیا ہے:

“مقام” یہاں بہت وسیع لفظ ہے۔ اس میں سیرت بھی آتی ہے، سنت بھی، ادب بھی، اخلاق بھی، رحمت بھی، اور وہ روحانی مرکزیت بھی جس سے امت اپنی سمت پاتی ہے۔ اقبال صرف اتنا نہیں کہہ رہے کہ حضور کا نام لو، بلکہ یہ کہ ان کے مقام کے قریب کھڑے ہو۔ قرب کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے فیصلے، تمہاری ترجیحات، تمہارے غصے، تمہاری محبتیں، تمہاری امیدیں اور تمہاری جدوجہد سب اس مرکز سے روشنی لیں۔

یہی قرب انسان کے اندر ایک خاص حیا پیدا کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ میں جس سے نسبت رکھتا ہوں اس کا مقام کتنا بلند ہے، اس لیے میری روزمرہ کی حرکت بھی اسی نسبت کے شایان ہونی چاہیے۔ اگر یہ احساس ختم ہو جائے تو نسبت محض الفاظ میں رہ جاتی ہے۔

نسبت اور متابعت:

اس شعر میں اقبال نسبت کو متابعت سے جوڑتے ہیں۔ بہت سے لوگ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کی سیرت، ان کا رویہ اور ان کے فیصلے کسی اور اثر کے تابع ہوتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک سچی نسبت وہ ہے جو قدموں کی سمت بدل دے۔ اگر انسان اخلاق میں، عدل میں، شفقت میں، خدمت میں، اور ضبط میں نبوی نقش قدم سے دور ہے تو پھر وہ قربت کس معنی میں ہے؟

اسی لیے شعر میں صرف دوری کا ذکر آیا ہے۔ یہ دوری ظاہری فاصلہ نہیں بلکہ داخلی فاصلے کا نام ہے۔ دو آدمی ایک ہی مذہبی زبان بول سکتے ہیں، مگر ایک قلباً قریب ہو اور دوسرا مزاجاً دور۔ اقبال کو یہی دوسرا خطرہ محسوس ہے۔

معشر ما کا مفہوم:

“معشر ما” کہہ کر اقبال امت کو محض آبادی نہیں، ایک اخلاقی و روحانی جماعت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ معشر ان لوگوں کا ہے جو نسبتِ محمدی کے وقار کے نیچے جمع ہیں۔ اس میں شامل ہونا پاسپورٹ یا خاندان سے نہیں، بلکہ اس مرکز سے وفاداری سے طے ہوتا ہے۔ یہاں اقبال ایک بڑی ملی بات کہہ رہے ہیں: امت کی اصل وحدت کسی زبان، نسل یا خطے سے نہیں، مقامِ محمدی سے تعلق سے بنتی ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ لغزش کرنے والا فوراً خارج ہو گیا، بلکہ یہ کہ جتنی دوری بڑھے گی اتنی ہی حقیقی شمولیت کمزور ہوگی۔ شعر تنبیہ ہے تاکہ انسان اپنے باطن کا جائزہ لے اور واپس اس مرکز کی طرف لوٹے جہاں سے اس کی اصل پہچان بنتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے مسلمان شناخت کی سطح پر مذہب سے وابستہ ہیں، مگر عملی زندگی میں ان کے پیمانے کہیں اور سے آتے ہیں۔ ان کی پسند و ناپسند، ان کے ہیرو، ان کی ترقی کا تصور، ان کے اخلاقی فیصلے، سب پر بیرونی نقش غالب ہوتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ اصل سوال یہ ہے: ہم اندر سے کس مقام کے قریب کھڑے ہیں؟ اگر ہماری روحانی سمت نبوی مقام سے کٹ گئی تو ظاہری شناخت بھی آہستہ آہستہ بے معنی ہو جائے گی۔

یہ شعر ہمیں دوسروں کے بجائے پہلے خود کو پرکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا میری گفتگو میں نبوی وقار ہے؟ کیا میرے اختلاف میں عدل ہے؟ کیا میرے اختیار میں رحم ہے؟ کیا میرے تعلقات میں وفا ہے؟ یہی سوال بتائیں گے کہ میں واقعی “معشر ما” میں کس درجے پر شامل ہوں۔

مثال

جیسے کوئی قافلہ ظاہراً ساتھ چلتا ہو مگر اگر اس کی سمت قطب نما سے کٹ جائے تو وہ منزل سے دور ہوتا جاتا ہے، ویسے ہی نبوی مقام سے دوری انسان کو امت کی روحانی راہ سے ہٹا دیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ امت کی حقیقی شمولیت مقامِ محمدی سے قرب پر قائم ہے۔ جو شخص اس اخلاقی اور روحانی مرکز سے دور ہوتا ہے، وہ اپنی نسبت کی اصل روح سے بھی دور پڑ جاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button