رموز بے خودی

آنکه تیرش قدسیان را سینه خست

آنکه تیرش قدسیان را سینه خست

اول آدم را سر فتراک بست

ترجمہ

اس کی ضرب نے قدسیوں کے سینوں میں بھی خلش پیدا کی، اور اسی نے سب سے پہلے آدم کے سر کو فتراکِ سفر سے باندھا۔

تشریح

اس شعر میں اقبال انسانی ہمت کی ازلی شان اور اس کے عملی مقدر کو ایک ساتھ پیش کرتے ہیں۔ “قدسیان” سے مراد فرشتے یا پاک روحانی ہستیاں ہیں۔ “تیر” یہاں وہ بلند ہمت، وہ نفوذ، وہ جراتِ طلب اور وہ قوتِ پرواز ہے جو انسان کو محض خاکی محدودیت میں بند نہیں رہنے دیتی۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کی یہ شان ایسی ہے کہ اس کی تیزی نے قدسیوں کے سینوں میں بھی خلش پیدا کی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان فرشتوں کا دشمن ہے، بلکہ یہ کہ اس کے اندر ایک ایسی جستجو اور ارتقائی قوت رکھی گئی ہے جو ملأ اعلیٰ کو بھی حیران کرنے والی ہے۔ انسان صرف زمینی مخلوق نہیں؛ اس کے اندر ایک بلند ارادہ بھی ودیعت ہے۔

دوسری سطر اس شان کو عمل اور سفر سے جوڑتی ہے: “اول آدم را سر فتراک بست”۔ فتراک زین کے پیچھے بندھا وہ تسمہ یا بند ہے جس سے سفر کا سامان یا شکار باندھا جاتا ہے۔ اقبال اس استعارے سے کہتے ہیں کہ آدمی کو ابتدا ہی سے سکونِ جنت کے لیے نہیں، میدانِ عمل، سفر، جدوجہد اور تسخیر کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ گویا آدم کا سر فتراکِ سفر سے باندھا گیا، یعنی اسے اس دنیا میں ایک چلنے والی، سیکھنے والی، آزمائش قبول کرنے والی اور کائنات میں اتر کر اپنے جوہر کو ظاہر کرنے والی ہستی بنایا گیا۔ انسان کا مقدر ساکن رہنا نہیں، مہم جوئی اور کارگزاری ہے۔

قدسیان میں خلش:

اقبال کے ہاں انسان کی اصل عظمت اس کے امکان میں ہے۔ فرشتے اپنے مقام پر پاک اور ثابت ہیں، مگر انسان کے اندر ایک ایسی توانائی بھی ہے جو اسے آزمائش، ترقی، خطا، توبہ، کشف اور تسخیر کے مرحلوں سے گزارتی ہے۔ اسی لیے اس کی ہمت کا تیر قدسیان کے لیے بھی حیرت کا باعث بنتا ہے۔

یہاں انسان کی تعظیم خود پرستی کے لیے نہیں بلکہ ذمہ داری کے لیے ہے۔ اگر تمہارے اندر ایسی بلند قوت رکھی گئی ہے تو پھر تمہارا منصب بھی بڑا ہے۔ اقبال انسان کو اس کے شرف کی یاد دلا کر اس کے فرض کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

فتراکِ سفر کا استعارہ:

فتراک سفر، شکار اور حرکت سے وابستہ چیز ہے۔ یہ استعارہ نہایت جاندار ہے، کیونکہ اس سے آدم کی تصویر ایک ایسے مسافر، سوار اور میدان کے آدمی کی بنتی ہے جسے آرام دہ تماش بینی کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ اس کا سر فتراک سے بندھنا گویا اس امر کی علامت ہے کہ زندگی کی اصل فضا حرکت اور آزمائش کی فضا ہے۔

اس تعبیر میں سختی بھی ہے اور شرف بھی۔ سختی اس لیے کہ انسان کو محنت، خطرے اور مقابلے سے گزرنا ہے؛ شرف اس لیے کہ اسے اس قابل سمجھا گیا کہ وہ ان میدانوں میں اترے اور ان سے معنی پیدا کرے۔ اقبال اسی فعال تقدیر کا اعلان کرتے ہیں۔

آدم کا عملی مقدر:

یہ شعر بتاتا ہے کہ آدم کی کہانی صرف ہبوط کی کہانی نہیں، آغازِ عمل کی کہانی بھی ہے۔ زمین پر آنا محض سزا نہیں بلکہ میدان پانا بھی ہے۔ انسان یہاں آ کر محسوس دنیا کی گرہیں کھولتا ہے، اشیا کے راز سمجھتا ہے، خیر اور شر کے امتحان سے گزرتا ہے، اور اپنی ہمت کو کام میں لاتا ہے۔

اقبال کے نزدیک اسی لیے آدم کی نسبت علم، نظر، اور تصرف سے ہے۔ اس کا شرف یہ ہے کہ وہ کائنات کے ساتھ زندہ تعلق رکھتا ہے، اسے پڑھتا ہے، اس سے سیکھتا ہے، اور اسے مقصد کے تابع لاتا ہے۔ یہ سب ساکن مزاج انسان سے نہیں ہو سکتا۔

آج کے لیے سبق:

آج اگر مسلمان اپنی تقدیر کو صرف مظلومیت، کم زوری یا ماضی پرستی کے آئینے میں دیکھے گا تو وہ آدمی کے اس فعال مقام کو بھول جائے گا جسے اقبال جگا رہے ہیں۔ ہمارا آغاز ہی سفر، ذمہ داری، کشف اور تسخیر کے لیے ہوا تھا۔ ہمیں محض حالات کے پیچھے بندھے ہوئے مسافر نہیں بننا، بلکہ باخبر، ہمت مند اور خدا شناس عمل والے انسان بننا ہے۔

یہ شعر امت کے لیے ایک نفسیاتی بیداری ہے۔ تمہاری اصل پہچان ساکن اور خوف زدہ جماعت کی نہیں، بلکہ ایسی قوم کی ہے جس کے اندر بلند ہمت کا تیر بھی ہے اور سفرِ عمل کا جوہر بھی۔ اقبال ہمیں اسی بھولی ہوئی شخصیت کی طرف واپس بلاتے ہیں۔

مثال

جیسے کسی نوجوان کو محض گھر بٹھانے کے لیے نہیں بلکہ بڑے میدان میں اترنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، ویسے ہی انسان بھی آغاز ہی سے آزمائش اور کارگزاری کے سفر کے لیے پیدا ہوا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں انسان کے بلند امکان اور اس کے عملی مقدر کو جوڑتے ہیں۔ آدمی ایسی ہمت رکھتا ہے جو ملأ اعلیٰ کو بھی حیران کر دے، اور اسے ابتدا ہی سے سفر، جدوجہد اور تسخیرِ کائنات کے میدان کے لیے آمادہ کیا گیا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button