تا ز بخششهای آن سلطان دین
تا ز بخششهای آن سلطان دین
مسجد ما شد همه روی زمین
ترجمہ
تاکہ اس سلطانِ دین کی بخششوں سے پوری زمین ہی ہماری مسجد بن گئی۔
تشریح
اقبال اس شعر میں ہجرت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اُس عالمگیر اسلامی وسعت کو بیان کرتے ہیں جس نے عبادت، اجتماع اور دینی زندگی کو ایک خاص خطے یا محدود مقدس جغرافیے تک محصور نہ رہنے دیا۔ پچھلے شعر میں وہ بتا چکے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت نے ایک ملتِ گیتی نورد کو کلمے کی بنیاد پر تعمیر کیا۔ اب وہ اس تعمیر کا ایک نہایت روشن ثمرہ دکھاتے ہیں: زمین کا ہر گوشہ خدا کی بندگی کے لیے قابلِ قبول اور مسجد کے معنی سے آشنا ہو گیا۔ شعر کے مطابق:
سلطانِ دین:
رسول اکرم کو “سلطانِ دین” کہنا محض تعظیمی لفظ نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ دین کی اجتماعی صورت، اس کی تہذیب، اس کی امت، اس کی عبادت گاہیں اور اس کا اخلاقی نظم حضور ہی کی ذاتِ مبارکہ سے روشن ہوئے۔ ان کی سلطنت دنیاوی جبر یا سرحدی توسیع کی سلطنت نہیں، بلکہ دلوں، ضمیروں اور زندگیوں کی سلطنت ہے۔
یہ سلطنت زمینوں سے زیادہ نسبتوں پر قائم ہوتی ہے۔
بخششهای آن سلطان دین:
یہاں “بخشش” سے مراد وہ فیض اور عطا ہے جو رسالتِ محمدی کے ذریعے انسانیت کو ملی۔ اس میں صرف فردی نجات نہیں، بلکہ عبادت کی آزادی، امت کی وسعت، اخوت کی تعمیر، اور مقدس و نامقدس کی نئی تعریف بھی شامل ہے۔ اسلام نے بندگی کو کلیسا، معبد یا چند خاص مقامات کی قید سے نکال کر پوری زمین پر پھیلا دیا۔
نبوی فیض کی ایک بڑی شان یہی ہے کہ وہ زندگی کے پورے میدان کو خدا آشنا بنا دیتا ہے۔
روی زمین مسجد ہونا:
مسجد صرف عمارت نہیں، بندگی کا مقام ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ “مسجد ما شد همه روی زمین” تو اس سے مراد یہ نہیں کہ ہر جگہ بالفعل مسجد کی دیواریں کھڑی ہو گئیں، بلکہ یہ کہ بندگی کا دروازہ پوری زمین پر کھل گیا۔ جہاں بھی مسلمان پاکی، نیت اور بندگی کے ساتھ کھڑا ہو، وہاں زمین اس کے لیے سجدہ گاہ بن سکتی ہے۔
یہ تصور اسلامی حیات کو مقامی عبادت سے اٹھا کر آفاقی عبادت میں بدل دیتا ہے۔
ہجرت اور عبادت کی عالمگیریت:
ہجرت نے صرف سیاسی نظم پیدا نہیں کیا، اس نے دینی شعور کی وسعت بھی نمایاں کی۔ اگر ملت ایک کلمے پر قائم ہے تو اس کی عبادت بھی ایک مقام تک محدود کیوں رہے؟ اقبال اس نکتے سے بتاتے ہیں کہ اسلام کی روح حرکت اور آفاقیت ہے۔ مسلم جہاں جائے، وہاں خدا کی بندگی کے لیے زمین پہلے سے تیار ملتی ہے، کیونکہ زمین کا مالک ایک ہی ہے۔
یہی احساس مسافر مسلمان کو بھی روحانی بے وطنی سے بچاتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے اور بہت جگہوں پر اقلیتی حالت میں بھی رہتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر کلمہ زندہ ہو تو زمین کی وسعت خوف کا باعث نہیں رہتی۔ تم جہاں ہو، وہاں بندگی ممکن ہے، اخلاقی تعمیر ممکن ہے، اور امت کی نسبت بھی باقی رہ سکتی ہے۔ اسی طرح اسلام دین کو محض مخصوص مقدس مقامات کی یاد تک محدود نہیں کرتا، بلکہ روزمرہ زندگی کے میدان کو بھی عبادت سے جوڑ دیتا ہے۔
اسلامی خودی کی ایک بڑی آزادی یہی ہے کہ اسے خدا تک پہنچنے کے لیے صرف ایک محدود جغرافیہ درکار نہیں۔
مثال
کوئی مسلمان سفر میں ہو، دور دراز ملک میں ہو، یا ایسے ماحول میں ہو جہاں باقاعدہ مسجد قریب نہ ہو، پھر بھی پاک جگہ پر کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکے، تو یہ اسی نبوی عطا کی عملی مثال ہے کہ پوری زمین سجدہ گاہ بن گئی۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق رسول اکرم کے فیض نے بندگی کو ایک محدود جغرافیے سے نکال کر پوری زمین پر پھیلا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ملت کے لیے پوری روئے زمین سجدہ گاہ کی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔