رموز بے خودی

چون نفس در سینه او را پروریم

چون نفس در سینه او را پروریم

جان شیرین است او ما پیکریم

ترجمہ

چونکہ ہم اسے اپنے سینوں میں سانس کی طرح پرورش دیتے ہیں، اس لیے وہ ہماری شیریں جان ہے اور ہم اس کا پیکر ہیں۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کا قلبی اور وجودی نتیجہ بیان کرتا ہے۔ جب بیت الحرم کو راز، راز دار، سوز اور ساز کہا گیا تو اب اقبال فرماتے ہیں کہ چونکہ ہم اسے نفس کی طرح اپنے سینوں میں پرورش دیتے ہیں، اس لیے وہ ہماری جان ہے اور ہم اس کا پیکر ہیں۔ یہاں بیت الحرم سے تعلق کو محض خارجی قبلہ یا دور کے مقام کی صورت میں نہیں رکھا گیا، بلکہ اسے سینے کے اندر سانس کی طرح موجود دکھایا گیا ہے۔ گویا اصل تعلق تبھی زندہ ہوتا ہے جب مرکز باہر بھی ہو اور اندر بھی۔ اگر بیت الحرم صرف جغرافیہ میں رہے مگر دل میں نہ اترے تو وہ کامل ملی مرکز نہیں بن سکتا۔ اقبال کا کہنا یہ ہے کہ مسلمان کی زندہ نسبت یہ ہے کہ وہ اس مرکز کو سانس کی طرح اپنے باطن میں پرورش دے۔

“جان شیرین است او ما پیکریم” میں رشتہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ بیت الحرم جان ہے اور امت پیکر۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ملت کی ظاہری صورت، اس کے افراد، اس کی حرکتیں، اس کے ادارے، اس کے علاقوں اور اس کی تاریخ سب پیکر کی حیثیت رکھتے ہیں؛ مگر ان کے اندر روح، ربط، حیات اور سمت اس جان سے آتی ہے۔ اقبال پہلے بھی حلقے اور مرکز کو جان و پیکر کی نسبت سے بیان کر چکے ہیں، مگر یہاں وہ اسے براہِ راست بیت الحرم پر منطبق کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ شعر ملت کے مرکز کو محض نظری اصول سے اٹھا کر وجودی وابستگی کی سطح پر لے آتا ہے۔

نفس کی طرح پرورش دینا:

نفس یا سانس انسان کے وجود کے لیے مسلسل ضرورت ہے۔ وہ ایک بار لے کر ختم نہیں ہو جاتی، ہر دم درکار رہتی ہے۔ اقبال اسی مثال سے بتاتے ہیں کہ بیت الحرم کے ساتھ ملت کا تعلق وقتی یا موسمی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایسا ربط ہے جو مسلسل شعور، محبت، دعا، قبلہ، عبادت اور وفاداری کے ساتھ زندہ رکھا جاتا ہے۔ “او را پروریم” میں صرف یاد کرنا نہیں بلکہ سینے میں پالنا، سنبھالنا اور زندہ رکھنا شامل ہے۔

یہ نکتہ نہایت اہم ہے۔ ایک مرکز کو صرف تسلیم کر لینا کافی نہیں، اسے زندہ رکھنا بھی ضروری ہے۔ جیسے سانس پر غفلت موت بن جاتی ہے، ویسے ہی ملی مرکز پر غفلت انتشار بن سکتی ہے۔ اقبال مسلمانوں کو اس باطنی نگہبانی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

جان اور پیکر کا تعلق:

جان پیکر سے جدا ہو تو پیکر باقی نہیں رہتا، اور پیکر کے بغیر جان دنیا میں ظہور نہیں پاتی۔ اقبال اسی باہمی نسبت کو ملت اور اس کے مرکز کے درمیان قائم کرتے ہیں۔ بیت الحرم جان ہے، کیونکہ وہ ربط، توحید، سمت اور شعور دیتا ہے۔ امت پیکر ہے، کیونکہ وہ انہی معانی کو زمانے، عمل، تہذیب اور اجتماع کی صورت میں ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح نہ مرکز امت سے الگ ہو سکتا ہے، نہ امت مرکز سے۔

یہ نکتہ یہ بھی سمجھاتا ہے کہ مرکز کے ساتھ تعلق محض رسمی نہ ہو۔ اگر پیکر جان سے غافل ہو جائے تو وہ بظاہر موجود رہ کر بھی مردہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر امت بیت الحرم کو صرف نام، رسم یا موسم کی چیز بنا دے تو اس کے باطن میں کمزوری آنے لگتی ہے۔ اقبال مرکز کو زندہ جان کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ بے جان نشانی کی طرح۔

شیریں جان کیوں کہا:

“جان شیرین” میں محبت، لذت، قرب اور قیمتی پن سب شامل ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رشتہ خشک ذمہ داری کا رشتہ نہیں بلکہ عشق کا رشتہ بھی ہے۔ بیت الحرم ملت کے لیے محض فرض کا مرکز نہیں، محبت کا مرکز بھی ہے۔ اس کے ساتھ وابستگی دل کو مٹھاس دیتی ہے، شعور کو وقار دیتی ہے، اور اجتماع کو معنی دیتی ہے۔ اقبال یہی دکھانا چاہتے ہیں کہ مرکز صرف قانون کی سطح پر نہیں، قلبی سطح پر بھی جیا جاتا ہے۔

یہ مٹھاس دراصل اس نسبتِ توحید اور نسبتِ ابراہیم و محمدی کی مٹھاس ہے جو بیت الحرم کے ساتھ وابستہ ہے۔ جب یہ نسبت دل میں جاگتی ہے تو ملت کا پیکر بھی زندہ اور پرمعنی ہو جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے مسلمانوں کے لیے بیت الحرم جذباتی عقیدت کی چیز تو ہے، مگر ہمیشہ زندہ شعور کی چیز کم رہ گیا ہے۔ اقبال کا یہ شعر اس تعلق کو تازہ کرتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگر یہ مرکز واقعی ہماری جان ہے تو ہمیں اسے اپنے سینوں میں سانس کی طرح زندہ رکھنا ہوگا۔ اس کا مطلب عبادت کی سمت، دعاؤں کی وابستگی، توحیدی شعور کی تازگی، اور ملی ربط کے احساس کو ہمیشہ بیدار رکھنا ہے۔

یہ شعر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ امت کا پیکر صرف اسی وقت سنورے گا جب اس کی جان زندہ ہو۔ اگر ہم اپنی اجتماعی کمزوریوں کا علاج چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے مرکز سے قلبی اور وجودی تعلق کو دوبارہ جگانا ہوگا۔ اقبال کے نزدیک یہی جان پیکر کو زندگی دیتی ہے، اور یہی ملت کو انتشار سے بچا سکتی ہے۔

مثال

جیسے جسم کے ہر عضو کی بقا سانس اور روح پر موقوف ہوتی ہے، ویسے ہی ملت کے ظاہری ڈھانچے کی حقیقی زندگی اس مرکز سے جڑی ہوتی ہے جسے وہ اپنے سینے میں زندہ رکھتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بیت الحرم کے ساتھ ملت کے رشتے کو سانس، جان اور پیکر کی مثال سے واضح کرتے ہیں۔ جب امت اسے اپنے دل میں زندہ رکھتی ہے تو وہ اس کی جان بنتا ہے اور امت اس کے پیکر کی صورت اختیار کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button