مضمر اندر ظلمت موجود ما
مضمر اندر ظلمت موجود ما
آن تجلی های نامشهود ما
ترجمہ
وہ ہماری نامشہود تجلیاں ہماری موجودہ حالت کی تاریکی میں چھپی ہوئی ہیں۔
تشریح
اقبال اس شعر میں پچھلے خیال کو اور زیادہ لطیف بناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری وہ تجلیاں جو ابھی نظر نہیں آ رہیں، ہماری موجودہ زندگی کی تاریکی کے اندر مضمر ہیں۔ یہاں “تجلی” کا لفظ بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں محض وجود نہیں بلکہ روشن ظہور، باطنی نور، اور کسی حقیقت کے آشکار ہونے کا مفہوم بھی شامل ہے۔ شاعر گویا کہہ رہے ہیں کہ ہماری قوم کے اندر ایسی روشن صورتیں، ایسی حق پرست شخصیتیں، اور ایسی تہذیبی امکانیتیں موجود ہیں جو ابھی سامنے نہیں آئیں، مگر وہ کہیں باہر نہیں بلکہ ہماری ہی موجودہ تاریکی کے اندر چھپی ہوئی ہیں۔
“ظلمت موجود ما” کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے حال میں سراسر یاس ہے، بلکہ یہ کہ موجودہ حالت ابھی کامل نور سے خالی ہے۔ ہماری کم زوریاں، ہماری الجھنیں، ہمارے تہذیبی بحران، اور ہماری اجتماعی غفلت ایک طرح کی تاریکی بناتے ہیں۔ مگر اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ اسی تاریکی کے اندر پوشیدہ روشنی دیکھ لیتے ہیں۔ یعنی بحران کے اندر بھی امکان ہے، اور زوال کے اندر بھی کچھ ایسے تخم موجود ہیں جو صحیح تربیت پائیں تو تجلی بن سکتے ہیں۔ امومت کے باب میں یہ نکتہ اور گہرا ہو جاتا ہے، کیونکہ آنے والی نسلوں کی یہی نامشہود روشنی ماؤں کی آغوش میں پرورش پا کر ظہور میں آتی ہے۔
تجلی کا مفہوم:
تجلی محض نمود نہیں بلکہ نورانی نمود ہے۔ اس میں حقیقت کا وہ ظہور شامل ہے جو دل و جان کو روشن کر دے۔ اقبال کے نزدیک ملت کے آئندہ انسان بھی صرف افراد نہیں، ممکنہ تجلیاں ہیں۔
یعنی ان کے اندر ایسا باطن چھپا ہو سکتا ہے جو ایک دن حق، غیرت، یا تہذیبی بیداری کی صورت میں ظاہر ہو۔ شاعر کی امید اسی بلند امکان سے وابستہ ہے۔
ظلمت کے اندر نور:
ظاہر میں اندھیرا ہو تو عام نگاہ صرف اندھیرا دیکھتی ہے، مگر صاحب بصیرت نگاہ اس اندھیرے کے اندر پوشیدہ امکان کو بھی دیکھتی ہے۔ اقبال اسی بصیرت کے شاعر ہیں۔
وہ ملت کو یہ نہیں سکھاتے کہ وہ صرف اپنے حال پر افسوس کرے، بلکہ یہ سکھاتے ہیں کہ وہ اپنے حال کے اندر چھپی ہوئی روشنی کو پہچانے۔
موجودہ زوال اور آئندہ امکان:
یہ شعر زوال کی تردید نہیں کرتا، مگر اسے آخری حقیقت بھی نہیں مانتا۔ موجودہ کم زوریوں کے باوجود آئندہ نسلوں کے اندر خیر اور نور کے امکانات باقی رہ سکتے ہیں۔
امومت اسی لیے یہاں مرکزی حیثیت اختیار کرتی ہے، کیونکہ وہ انہی نامشہود تجلیوں کو عدم و خفا سے نکال کر وجود و ظہور تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے دور میں جب معاشرتی اور اخلاقی بحران نمایاں ہوں تو مایوسی آسان ہو جاتی ہے۔ اقبال اس کے برعکس یہ دیکھنا سکھاتے ہیں کہ شاید انہی تاریکیوں کے اندر آنے والی روشنی کے بیج چھپے ہوں۔
یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ اپنے حال کو آخری فیصلہ نہ سمجھیں۔ اگر تربیت، امومت، اور تہذیبی بیداری سلامت ہوں تو تاریکی کے اندر بھی نامشہود تجلیاں پرورش پا سکتی ہیں۔
مثال
جیسے بادلوں سے ڈھکے آسمان میں ستارے نظر نہ آنے کے باوجود موجود ہوتے ہیں، ویسے ہی ملت کے اندر بہت سی روشن صلاحیتیں موجودہ تاریکی میں چھپی رہ سکتی ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک ملت کی بہت سی روشن تجلیاں ابھی نامشہود ہیں، مگر وہ کہیں باہر نہیں بلکہ ہماری موجودہ تاریکی کے اندر ہی مضمر ہیں۔ صحیح تربیت اور امومت ہی انہیں ظہور تک لاتی ہے۔