از دل ما آتش دیرینه برد
از دل ما آتش دیرینه برد
نور و نار لااله از سینه برد
ترجمہ
اس نے ہمارے دلوں سے وہ پرانی آگ چھین لی، اور ہمارے سینے سے “لا الہ” کا نور اور اس کی تپش دونوں لے گیا۔
تشریح
یہ شعر پچھلے بیان کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ عہدِ حاضر کی فتنہ گر فضا نے ہمیں صرف تہذیبی طور پر بیگانہ نہیں کیا، بلکہ ہمارے دلوں سے وہ “آتش دیرینه” بھی لے لی جو ہماری تاریخی اور روحانی حیات کا جوہر تھی۔ پھر وہ اس آگ کی تفسیر کرتے ہیں: یہ “نور و نار لا الہ” تھا۔ یعنی توحید کا نور، اس کے انکارِ باطل کی تپش، اور اس کلمے سے پیدا ہونے والی روحانی حرارت، دونوں ہمارے سینوں سے کمزور ہو گئے۔ شعر کے مطابق:
آتشِ دیرینہ:
یہ آتش کوئی سطحی جذبہ نہیں، بلکہ وہ طویل تاریخی سوز ہے جو امت کی خودی، اس کے عشق، اس کی غیرت، اور اس کی حق پرستی کے اندر جلتا رہا۔ اس آتش میں جہاد بھی تھا، عدل بھی، دعوت بھی، تعمیر بھی، اور باطل سے انکار بھی۔ اقبال اسے “دیرینه” کہتے ہیں کیونکہ یہ امت کے باطن میں نئی چیز نہیں، بلکہ اس کی اصل روحانی میراث ہے۔
جب یہ آتش کمزور ہو جائے تو انسان کے پاس علم تو رہ سکتا ہے، الفاظ بھی رہ سکتے ہیں، مگر اس کے اندر وہ زندگی بخش حرارت نہیں رہتی جو عمل اور انقلاب پیدا کرتی ہے۔
نور و نارِ لا الہ:
اقبال کے ہاں “لا الہ” صرف عقیدے کا جملہ نہیں، بلکہ ایک انقلابی روحانی حقیقت ہے۔ اس میں نور بھی ہے، یعنی بصیرت، معرفت، حق کی پہچان؛ اور نار بھی ہے، یعنی باطل کے خلاف حرارت، نفی، جرأت اور تطہیر۔ “لا الہ” دل کو روشن بھی کرتا ہے اور اسے جھوٹے معبودوں کے خلاف گرم بھی رکھتا ہے۔
جب امت کے سینے سے یہ نور و نار کم ہو جائے تو توحید رسمی تو رہ سکتی ہے، مگر اس کی انقلابی طاقت غائب ہو جاتی ہے۔ یہی اقبال کا دکھ ہے۔
سینہ خالی ہونا:
سینہ صرف جسم کا حصہ نہیں، عزم، درد، حوصلے اور ایمان کا مقام بھی ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ اس سے سینہ خالی ہو گیا، تو مراد یہ ہے کہ امت کی باطنی دنیا سرد پڑ گئی۔ اب اس کے پاس شاید دینی عنوان ہیں، مگر وہ سوز نہیں جو اسے ظلم کے مقابل کھڑا کرے، اور وہ نور نہیں جو اسے راستہ دکھائے۔
یہ روحانی سردی امت کے زوال کی سب سے خطرناک علامت ہے، کیونکہ باہر کی شکست سے پہلے اکثر اندر کی آگ بجھتی ہے۔
توحید کا زندہ اثر:
اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان توحید کو دوبارہ ایک زندہ تجربہ بنائیں۔ “لا الہ” ان کے نزدیک صرف پڑھا جانے والا کلمہ نہیں، بلکہ انسان کو ہر جھوٹے اقتدار، ہر غیر الٰہی مرکز، اور ہر پست تعصب سے آزاد کرنے والی قوت ہے۔ اگر یہ قوت سینے میں زندہ ہو تو امت کی نوا بھی زندہ رہتی ہے، اس کی غیرت بھی، اور اس کی تعمیر کی صلاحیت بھی۔
اسی لیے اس شعر میں اصل مسئلہ عقیدے کا لفظی فقدان نہیں بلکہ اس کے سوز کا فقدان ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم توحید کا اقرار کرتے ہیں، مگر کیا اس کا نور ہماری بصیرت میں ہے؟ کیا اس کی نار ہمارے ضمیر میں ہے؟ اقبال کے نزدیک اگر “لا الہ” صرف شناخت بن جائے اور زندگی کا انقلاب نہ رہے، تو سینہ خالی ہوتا جاتا ہے۔
امت کی تجدید کے لیے ضروری ہے کہ “لا الہ” دوبارہ دل میں روشنی اور حرارت دونوں پیدا کرے۔ یہی وہ آتشِ دیرینہ ہے جو اسے خود فراموشی، مرعوبیت اور جمود سے نکال سکتی ہے۔
مثال
جیسے ایک چراغ کی روشنی اور حرارت دونوں ضروری ہوتی ہیں، روشنی کے بغیر راستہ نہیں ملتا اور حرارت کے بغیر زندگی نہیں رہتی، ویسے ہی “لا الہ” بھی نور اور نار دونوں کا سرچشمہ ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں کہتے ہیں کہ عہدِ حاضر نے امت کے دل سے وہ پرانی روحانی آگ چھین لی جو “لا الہ” کے نور اور نار سے پیدا ہوتی تھی۔ امت کی اصل تجدید اسی سوزِ توحید کی واپسی میں ہے۔
