چشمش از دنبال اگر گیرد کسی
چشمش از دنبال اگر گیرد کسی
جان او آشفته می گردد بسی
ترجمہ
اگر کوئی اس کے پیچھے نظر رکھے تو اس کی جان بہت گھبرا جاتی ہے اور وہ مضطرب ہو اٹھتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال ابتدائی شعور کی بے اطمینانی اور داخلی کم زوری کو نہایت لطیف انداز میں بیان کرتے ہیں۔ بچہ جب محسوس کرتا ہے کہ کوئی اسے پیچھے سے دیکھ رہا ہے یا اس کی حرکت پر نگاہ رکھے ہوئے ہے تو وہ فوراً بے چین ہو جاتا ہے۔ اس بے چینی کی جڑ یہ ہے کہ ابھی اس کے اندر ایسا مستحکم باطن پیدا نہیں ہوا جو بیرونی نگاہ کے دباؤ کو سہہ سکے۔ گویا خودی موجود ہے، مگر ابھی کم سن ہے؛ اس لیے نگرانی، تعاقب یا بیرونی توجہ اسے سنبھالنے کے بجائے بکھیر دیتی ہے۔
یہ کیفیت ملتوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ جو قوم ابھی داخلی اعتماد اور پختہ خود آگہی تک نہیں پہنچی ہوتی، وہ بیرونی دباؤ، تنقید، مداخلت یا محض دوسروں کی نگاہ سے بہت جلد آشفته ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے راستے پر جم کر چلنے کے بجائے رد عمل میں جینے لگتی ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ یہ اضطراب خودی کی خامی کی علامت ہے، اور اس سے نجات صرف اسی وقت ملتی ہے جب اندر ایک ایسا مرکز پیدا ہو جائے جو بیرونی نظروں سے ٹوٹنے کے بجائے اپنے اصول پر قائم رہ سکے۔
نگاہ کا دباؤ:
دوسروں کی نگاہ کبھی محض دیکھنا نہیں ہوتی، وہ دباؤ بھی بن جاتی ہے۔ بالغ اور مضبوط شخصیت اس دباؤ کو سہہ سکتی ہے، مگر نوخیز شعور اس سے گھبرا جاتا ہے۔ اس کے لیے دیکھا جانا گویا خود کو کھو دینے کا خطرہ بن جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بچے میں بے قراری پیدا ہوتی ہے۔ اس کی حرکت ابھی خود اختیار کے وقار سے نہیں بلکہ فطری بے ساختگی سے چل رہی ہوتی ہے۔ جب بیرونی نظر اس بے ساختگی میں داخل ہوتی ہے تو وہ بکھر جاتی ہے۔
ملت کی نفسیات:
ایک نوخیز ملت بھی اکثر اسی طرح رد عمل میں آ جاتی ہے۔ وہ دوسروں کے فیصلوں، تعریفوں، الزاموں یا نگرانیوں سے ضرورت سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اس کی اپنی باطنی میزان اتنی مستحکم نہیں ہوتی کہ ہر بیرونی نگاہ کو اس کی اصل جگہ پر رکھ سکے۔
اقبال کے نزدیک یہ مرض صرف سیاسی نہیں، نفسی اور روحانی بھی ہے۔ جب تک قوم خود کو اپنی تاریخ، اپنے مقصد، اور اپنے ربطِ ایام کے اندر نہیں پہچانے گی، وہ دوسروں کی نگاہ میں اپنے وجود کو ناپتی رہے گی۔
اضطراب سے وقار تک:
خودی کی پختگی کا ایک نشان یہ ہے کہ آدمی دوسروں کے دیکھنے سے گھبراتا نہیں۔ وہ اپنی راہ پر چلتا ہے، اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، اور بیرونی نظر کو اپنی اصل کا حاکم نہیں بننے دیتا۔ اقبال اس شعر میں پہلے مرحلے کی کم زوری دکھا کر بعد کے مرحلے کا معیار بھی طے کر دیتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی بے حس ہو جائے، بلکہ یہ کہ اس کی داخلی جمعیت اتنی ہو کہ نگرانی یا تنقید اس کے شعور کو توڑ نہ سکے۔ یہی بلوغت فرد میں بھی مطلوب ہے اور ملت میں بھی۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ دوسروں کی رائے، توجہ، نگرانی یا منظوری کے بوجھ تلے اپنے باطن کا سکون کھو دیتے ہیں۔ وہ اس قدر “دیکھے جانے” کے احساس میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اپنی اصل حرکت بھول جاتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر اس نفسیاتی کیفیت کی جڑ تک پہنچتا ہے۔
یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ خودی کی تعمیر کے بغیر باطنی سکون ممکن نہیں۔ اپنے مرکز کو مضبوط کرو، اپنے رشتۂ ماضی و حال کو سمجھو، اور پھر دوسروں کی نگاہ کو اپنی تقدیر کا معیار نہ بناؤ۔ اقبال اضطراب سے وقار کی طرف بلاتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک ننھا بچہ اکیلا کھیلتے ہوئے آزاد ہوتا ہے مگر کسی کی سخت نگاہ محسوس کرے تو فوراً گھبرا جاتا ہے، ویسے ہی نوخیز خودی بیرونی دباؤ سے جلد منتشر ہو جاتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ ابتدائی شعور بیرونی نظر کے دباؤ سے بہت جلد آشفته ہو جاتا ہے۔ پختہ خودی کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر ایسا وقار پیدا کرے جو دوسروں کی نگاہ سے ٹوٹے نہیں۔
