رموز بے خودی

قوم را سرمایه ای صاحب نظر

قوم را سرمایه ای صاحب نظر

نیست از نقد و قماش و سیم و زر

ترجمہ

ایک صاحب نظر قوم کا اصل سرمایہ نقد، سامان، چاندی اور سونا نہیں ہوتا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں اپنے پورے باب کا ایک نہایت واضح سماجی اور تہذیبی نتیجہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس قوم کے پاس صاحب نظر نگاہ ہو، وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس کا اصل سرمایہ دولت، جنس، سامان، یا خزانہ نہیں ہے۔ “نقد و قماش و سیم و زر” معاشی وسائل، ظاہری اسباب، اور دنیاوی جمع پونجی کی علامت ہیں۔ شاعر ان کی مطلق نفی نہیں کرتے، مگر یہ بتاتے ہیں کہ اگر کوئی قوم انہی کو اپنی اصل دولت سمجھ لے تو وہ اپنی تہذیبی بصیرت کھو دیتی ہے۔ صاحب نظر قوم وہ ہے جو باطن اور ظاہر میں فرق کرے، اور یہ پہچانے کہ اصل سرمایہ انسان ہے، نسل ہے، اور وہ اخلاقی قوت ہے جو مستقبل بناتی ہے۔

اس شعر کا رشتہ پچھلے اشعار سے بہت گہرا ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ آئندہ ممکنات ماؤں کے باغوں سے کھلتے ہیں، تو اس کے بعد لازماً یہ بات سامنے آتی ہے کہ پھر قوم کی سب سے بڑی دولت بھی یہی ہوگی۔ اگر نسل بیمار ہو، تربیت کم زور ہو، گھروں کی فضا ویران ہو، اور امومت کا مقام گرے، تو سونا چاندی بھی قوم کو عظیم نہیں بنا سکتا۔ اس کے برعکس اگر نسل تندرست، باوقار، اور حق شناس ہو تو کم ظاہری وسائل کے باوجود قوم زندہ رہ سکتی ہے۔ صاحب نظر قوم اسی حقیقت کو سمجھتی ہے اور اپنے سرمائے کی تعریف اسی کے مطابق کرتی ہے۔

صاحب نظر قوم:

صاحب نظر سے مراد وہ قوم ہے جو صرف سامنے کی چیز نہ دیکھے بلکہ نتائج، باطن، اور حقیقت کو بھی سمجھے۔ ایسی قوم جانتی ہے کہ ہر چمکتی چیز اصل سرمایہ نہیں ہوتی۔

اقبال کے نزدیک قومی بصیرت کی پہلی علامت یہی ہے کہ قوم اپنی قدر کو صحیح جگہ پر رکھے۔ اگر اس نے دولت کو اصل اور انسان کو ثانوی کر دیا تو اس کی نظر دھندلا گئی۔

نقد و قماش کی حد:

مالی وسائل زندگی کے لیے ضروری ہو سکتے ہیں، مگر وہ خود زندگی کی روح نہیں ہوتے۔ زر و مال سے عمارتیں بن سکتی ہیں، مگر کردار نہیں؛ سامان پیدا ہو سکتا ہے، مگر باطنی حرارت نہیں۔

اسی لیے اقبال قوم کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی اصل دولت کو صرف بازار کے پیمانے سے نہ ناپے۔ بازار کی چیزیں خریدی جا سکتی ہیں، مگر نسل اور تربیت خریدی نہیں جا سکتی۔

اصل سرمایہ کیا ہے:

اس شعر میں اگرچہ اگلے مصرعوں کی تفصیل ابھی نہیں آئی، مگر اقبال کی پوری سمت واضح ہے: اصل سرمایہ وہ نسل ہے جو تندرست، محنتی، حق شناس، اور باوقار ہو۔ یہی وہ سرمایہ ہے جسے امومت سنوارتی ہے۔

پس یہ شعر بابِ امومت کو معاشی بصیرت سے جوڑ دیتا ہے۔ جو قوم اپنی ماؤں اور اپنی نسل کو نظر انداز کرتی ہے، وہ اصل سرمایہ کھو کر صرف ظاہری سکے گن رہی ہوتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج قوموں کی طاقت کو عموماً معیشت، پیداوار، ذخائر، اور مالیاتی اعداد کے ذریعے ناپا جاتا ہے۔ اقبال اس پیمانے کو ناکافی قرار دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ انسان کہاں ہے، تربیت کہاں ہے، اور نسل کی اخلاقی صحت کہاں ہے۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ قومی سرمایہ کاری کا سب سے پہلا میدان انسان سازی کو سمجھیں۔ اگر نسل مضبوط ہے، ماؤں کے باغ سرسبز ہیں، اور تہذیبی روح زندہ ہے، تو قوم کے پاس اصل سرمایہ موجود ہے۔

مثال

جیسے کوئی تاجر اگر اپنی دکان کی عمارت کو اصل سمجھے اور اچھے کاریگر اور دیانت دار ہاتھوں کو نظر انداز کر دے تو اس کا کاروبار دیر تک نہیں چل سکتا، ویسے ہی قوم بھی صرف زر و مال پر نہیں چلتی، بلکہ انسانوں کے جوہر پر چلتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک صاحب نظر قوم اپنی اصل دولت کو زر و مال میں نہیں بلکہ انسان سازی، نسل کی صحت، اور امومت کی تعمیری قوت میں دیکھتی ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو قوم کو حقیقت میں زندہ اور پائدار بناتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button