رموز بے خودی

علم او بار امومت بر نتافت

علم او بار امومت بر نتافت

بر سر شامش یکی اختر نتافت

ترجمہ

اس کی تعلیم امومت کے بوجھ کو اٹھا نہ سکی، اور اس کی شام پر ایک بھی ستارہ نہ چمکا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں تعلیم کے ایک ایسے رخ پر تنقید کرتے ہیں جو عورت کو اس کے اصل تخلیقی اور امومتی مقام سے ہم آہنگ کرنے کے بجائے اس سے بیگانہ کر دے۔ “علم او بار امومت بر نتافت” میں “بار” بوجھ کے معنی میں ہے، مگر یہاں بوجھ تحقیر کے لیے نہیں بلکہ ذمہ داری، امانت، اور عظیم منصب کے معنی میں آیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسی تعلیم جس نے عورت کے اندر امومت کی عظمت، اس کی برداشت، اور اس کی تہذیبی ذمہ داری کو جگہ نہ دی، وہ اس بار کو سنبھالنے کے قابل نہ رہی۔ گویا تعلیم نے عقل تو دی، مگر حکمت نہ دی؛ چمک تو دی، مگر مقصد نہ دیا۔

دوسرے مصرعے میں “بر سر شامش یکی اختر نتافت” نہایت دردناک نتیجہ دکھاتا ہے۔ شام زندگی کے اس حصے کی علامت بھی ہو سکتی ہے جہاں انسان اپنے حاصل کو دیکھتا ہے، اور تہذیبی زوال کے منظر کی علامت بھی۔ اگر اس شام پر ایک بھی ستارہ نہ چمکا تو اس کا مطلب ہے کہ اس تعلیم کا کوئی روشن ثمر سامنے نہ آیا۔ نہ نسل میں نور پیدا ہوا، نہ گھر میں سکون، نہ شخصیت میں وہ باطنی چمک جو امومت اور حیا کے امتزاج سے پیدا ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک ایسی تعلیم اپنے مقصد میں ناکام ہے۔

علم اور حکمت کا فرق:

علم معلومات، مہارت، اور ظاہری فہم دے سکتا ہے، مگر حکمت اس علم کو درست مقام اور صحیح مصرف دیتی ہے۔ اقبال بار بار اس فرق کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

یہاں بھی مسئلہ تعلیم کی اصل سے نہیں بلکہ اس تعلیم سے ہے جو عورت کے وجود کے بنیادی جوہر، یعنی امومت اور تہذیبی تعمیر، سے کٹ جائے۔

بار امومت:

امومت اقبال کے نزدیک ایک عظیم ذمہ داری ہے، محض ایک نجی حیاتیاتی عمل نہیں۔ اس میں نسل کی اخلاقی تعمیر، گھر کی تہذیب، اور ملت کے مستقبل کا ایک حصہ شامل ہے۔

جو تعلیم اس ذمہ داری کے لیے انسان کو باطن سے تیار نہ کرے، وہ نامکمل ہے۔ شاعر کا اعتراض اسی نامکمل پن پر ہے۔

شام پر ستارہ نہ چمکنا:

ستارہ امید، رہنمائی، اور روشن ثمر کی علامت ہے۔ شام پر ستارہ نہ ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ اختتام پر کوئی نورانی حاصل باقی نہ رہا۔

یہ ایک تہذیبی تمثیل بھی ہے: ایسی فکر یا ایسی تعلیم جو نسل اور اخلاق کے لیے روشنی پیدا نہ کرے، آخرکار اندھیری شام چھوڑ جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج تعلیم کی کامیابی کو اکثر ڈگری، معاشی خود کفالت، یا سماجی نمود سے ناپا جاتا ہے، مگر اقبال پوچھتے ہیں کہ اس تعلیم نے انسان کے باطن میں کیا پیدا کیا۔ کیا اس نے ذمہ داری، وقار، اور زندگی کی تخلیقی حکمت کو بھی مضبوط کیا؟

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ تعلیم کو محض بیرونی ترقی تک محدود نہ سمجھیں۔ اگر وہ انسان کے تہذیبی اور اخلاقی مقام کو سنوار نہ سکے تو اس کی شام روشنی سے خالی رہ جائے گی۔

مثال

جیسے کوئی خوب صورت چراغ دان اگر شمع ہی نہ تھام سکے تو اس کی آرائش بے معنی رہ جاتی ہے، ویسے ہی ایسی تعلیم جو زندگی کی اصل ذمہ داری نہ سنبھال سکے اپنا نور کھو دیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں ایسی تعلیم پر تنقید کرتے ہیں جو عورت کو امومت کی ذمہ داری اور حکمت کے لیے تیار نہ کرے۔ اگر تعلیم روشن ثمر نہ دے تو اس کی شام ستاروں سے خالی رہ جاتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button