رموز بے خودی

احتیاج زندگی میراندش

احتیاج زندگی میراندش

بر زمین گردون سپر گرداندش

ترجمہ

زندگی کی محتاجی اسے مار ڈالتی ہے اور آسمان سپر ہستی کو زمین پر لڑھکا دیتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال پچھلے شعر کے فکری بحران کو معاشی اور عملی نتیجے تک لاتے ہیں۔ انسان جس کا قدم آسمانی وسعت رکھتا تھا، وہ اگر احتیاج میں گرفتار ہو جائے تو اس کی بلندی مرنے لگتی ہے۔ “احتیاجِ زندگی” سے مراد صرف روٹی، کپڑا یا روزگار کی معمولی ضرورت نہیں بلکہ وہ ہمہ گیر محتاجی ہے جو انسان کو دوسروں پر منحصر، مجبور، دفاعی، اور چھوٹے فیصلوں کا اسیر بنا دیتی ہے۔ جب ایک فرد یا ایک ملت اپنی بنیادی ضروریات، علم، صنعت، معیشت، یا وسائل کے باب میں دوسروں کی طرف دیکھنے لگے تو اس کا آزاد ارادہ کمزور ہوتا جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی محتاجی بڑی صلاحیت کو آہستہ آہستہ مار دیتی ہے۔

“بر زمین گردون سپر گرداندش” نہایت دردناک تصویر ہے۔ “گردون سپر” ایسی ہستی کا استعارہ ہے جس کی نسبت آسمانی وسعت سے ہو، جو بلند مقاصد، بڑی نگاہ اور فعال ارادے کے لیے بنی ہو۔ مگر احتیاج اسے زمین پر گرا دیتی ہے، لڑھکا دیتی ہے، یعنی اس کی بلندی سلب ہو جاتی ہے۔ یہ محض معاشی زوال نہیں، نفسیاتی اور تہذیبی زوال بھی ہے۔ محتاج قوم کا تخیل چھوٹا، اس کا فیصلہ کمزور، اور اس کا منصب محدود ہو جاتا ہے۔ اقبال اسی پستی سے خبردار کرتے ہیں۔

احتیاج کا زہر:

احتیاج صرف ایک خارجی مسئلہ نہیں، باطن کو بھی بدل دیتی ہے۔ محتاجی انسان کی جرات کم کرتی ہے، اسے فوری نفع اور بقا کے حساب میں الجھا دیتی ہے، اور اس کی بلند امنگوں کو چھوٹے تقاضوں میں توڑ دیتی ہے۔ اقبال کے نزدیک جب زندگی کا سارا زور صرف ضرورت پوری کرنے میں لگ جائے تو تخلیق، تسخیر، اور خودی کی وسعت پیچھے چلی جاتی ہے۔

اسی لیے وہ اس کی شدت کو “میراندش” سے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ موت ہمیشہ جسمانی نہیں ہوتی؛ بعض اوقات پہلے وژن مرتا ہے، پھر آزادی، پھر عزت، اور آخر میں عمل کی قوت۔

زمین پر گرایا ہوا آسمانی جوہر:

انسان کی اصل نسبت بلندی سے ہے۔ اس کے اندر علم کا شوق، اختیار کی طلب، اور معنی کی جستجو رکھی گئی ہے۔ جب یہی انسان مسلسل محتاج رہے تو اس کی آسمانی نسبت زمین پر گھسٹنے لگتی ہے۔ اقبال اس گراوٹ کو محض حادثہ نہیں مانتے؛ وہ اسے ایک ایسا نتیجہ سمجھتے ہیں جسے روکا جا سکتا ہے اگر ملت اسباب پر دسترس حاصل کرے۔

یہاں زمین پر گرنا ذلت نہیں تو کم از کم محدودیت ضرور ہے۔ انسان پھر اپنی اصل پیمائش میں نہیں جیتا۔ وہ ردِ عمل میں جیتا ہے، اور یہی اقبال کے نزدیک خودی کے خلاف ہے۔

استغنا کی ضرورت:

اس شعر کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اقبال بالواسطہ استغنا کی ضرورت سمجھا رہے ہیں۔ اگر احتیاج مارتی ہے تو اسباب پر دسترس زندہ کرتی ہے۔ اگر انحصار گراتا ہے تو خود کفالت اٹھاتی ہے۔ ملت جب علم، صنعت، نظم اور وسائل میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہے تو اس کی بلند ہستی پھر سے سیدھی ہو جاتی ہے۔

اس لیے یہ شعر صرف شکایت نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور تہذیبی حکمت بھی رکھتا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان محتاجی کی نفسیات سے نکل کر تسخیرِ اسباب کی طرف بڑھے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی امت کی بہت سی الجھنوں کے پیچھے یہی مسئلہ ہے: محتاجی۔ قرض کی محتاجی، علم کی محتاجی، ٹیکنالوجی کی محتاجی، نظام کی محتاجی، اور بعض جگہوں پر فکر کی محتاجی بھی۔ اقبال کے نزدیک جب تک یہ احتیاج کم نہیں ہوگی، آسمانی وسعت رکھنے والی خودی زمین پر لڑھکتی رہے گی۔

یہ شعر ہمیں اپنی کم زوری کا اصل چہرہ دکھاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے خواب کیوں چھوٹے ہو گئے؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زندگی ایسی محتاجیوں میں بند ہے جو ہماری بلندی کو مار رہی ہیں؟ اقبال اسی سوال کے ذریعے عمل کی سمت متعین کرتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک بلند حوصلہ شخص اگر ہر وقت دوسروں کے سہارے پر مجبور ہو جائے تو اس کی ہمت بھی سکڑنے لگتی ہے، ویسے ہی مسلسل محتاجی بڑی قوم کو بھی زمین پر گرا دیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ محتاجی انسان اور ملت کی بلندی کو ختم کر دیتی ہے۔ جو ہستی آسمانی وسعت کی اہل ہو، انحصار اسے زمین پر گرا دیتا ہے؛ اس کا علاج خود کفالت اور تسخیرِ اسباب ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button