باز طرح آزری انداخت است
باز طرح آزری انداخت است
تازه تر پروردگاری ساخت است
ترجمہ
پھر اسی نے آزر والی کاری گری شروع کر دی ہے، اور ایک نیا ربّ گھڑ لیا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال پچھلے شعر کی فکری تشخیص کو اور زیادہ واضح اور تاریخی تمثیل میں بدل دیتے ہیں۔ “آزر” حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد یا قوم کے بت ساز کی طرف اشارہ ہے، جو بت تراشنے اور جھوٹے معبود بنانے کی علامت بن چکا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسانی فکر نے پھر سے “طرح آزری” ڈال دی ہے، یعنی پھر نئے بت بنانے کا ہنر اختیار کر لیا ہے۔ اور صرف اتنا نہیں، “تازه تر پروردگاری ساخت است”۔ اس نے ایک نیا “پروردگار” تراش لیا ہے۔ مطلب یہ کہ بت گری کا عمل صرف ماضی کا قصہ نہیں، آج بھی جاری ہے، بس اس کی شکلیں بدل گئی ہیں۔
یہ شعر اپنے اندر شدید تنبیہ رکھتا ہے۔ انسان جب سچے رب سے غافل ہوتا ہے تو خالی نہیں رہتا؛ وہ کوئی نہ کوئی نیا معبود، نیا مرکز، نیا مطلق، اور نیا پروردگار گھڑ لیتا ہے۔ کبھی یہ قوم ہوتی ہے، کبھی ریاست، کبھی نظریہ، کبھی طاقت، کبھی مادہ، کبھی نفس، اور کبھی تہذیبی غرور۔ اقبال کی شکایت یہ ہے کہ جدید انسان خود کو آزاد خیال کہہ کر بھی دراصل نئے رب بنا رہا ہے۔ اس لیے معرکۂ توحید ابھی ختم نہیں ہوا؛ اس نے صرف اپنی صورت بدل لی ہے۔
آزر کی علامت:
آزر محض ایک تاریخی شخصیت نہیں، ایک دائمی ذہنیت کی علامت ہے: وہ ذہنیت جو انسان کے لیے محسوس، محدود، اور خود ساختہ مرکز بناتی ہے، پھر انہیں مقدس بنا دیتی ہے۔ اقبال اس علامت کو لا کر بتاتے ہیں کہ ہر دور میں آزر زندہ ہو سکتا ہے، اگر انسان کی فکر توحید سے خالی ہو جائے۔
یہ بڑی باریک بات ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بت گری صرف جاہل زمانوں کا فعل تھا، مگر اقبال کہتے ہیں کہ جدید دور میں بھی آزر کام کر رہا ہے، صرف اس کے اوزار اور بت بدل گئے ہیں۔
نئے پروردگار:
“تازه تر پروردگاری” میں خاص طنز اور تنبیہ ہے۔ انسان اپنی ایجاد پر ناز کرتا ہے، گویا اس نے کچھ نیا پیدا کیا ہے، مگر دراصل وہ پرانے مرض کی نئی شکل بنا رہا ہوتا ہے۔ جھوٹے ربّ ہمیشہ نئے نام، نئی زبان، نئی تہذیب، اور نئی دلیلوں کے ساتھ آتے ہیں۔ مگر ان کا جوہر ایک ہی رہتا ہے: وہ دل کو اللہ کے سوا کسی اور کے تابع کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ توحید کی بیداری ہمیشہ تازہ رہنی چاہیے۔ اگر وہ کمزور پڑ جائے تو بت گری فوراً نیا لبادہ پہن کر واپس آ جاتی ہے۔ اقبال کا یہ شعر اسی مسلسل خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔
جدیدیت کا امتحان:
اقبال کے نزدیک جدیدیت بذاتِ خود مسئلہ نہیں، مگر وہ جدیدیت مسئلہ ہے جو خود کو خدا سے بے نیاز سمجھ کر نئے مرکز قائم کرے۔ اگر علم، صنعت، طاقت، سیاست یا تہذیب خود کو مطلق سمجھنے لگیں تو وہ نئے معبود بن جاتے ہیں۔ شاعر یہی کہہ رہے ہیں کہ انسان نے شاید پتھر کے بت چھوڑ دیے ہوں، مگر اس نے نئی “پروردگاریاں” گھڑ لی ہیں۔
اس لیے مسلمان کے لیے اصل کام صرف ماضی کا دفاع نہیں، حال کا تنقیدی شعور بھی ہے۔ اسے اپنے زمانے کے آزر کو پہچاننا ہوگا۔ یہی اقبال کی فکر کی تازگی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے دور میں قومیت، سرمایہ، طاقت، جنس، شہرت، ٹیکنالوجی، نظریاتی انتہا پسندی، اور خود پرستی جیسے کئی نئے ربّ تراشے جا چکے ہیں۔ ان کے سامنے انسان اپنی آزادی، اخلاق اور روح فروخت کر دیتا ہے۔ اقبال کا شعر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ان نئے پروردگاروں کو پہچانو۔ تمہارا دشمن صرف قدیم بت خانہ نہیں، جدید بت خانہ بھی ہے۔
یہ شعر ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ورثے کی طرف واپس بلاتا ہے: جھوٹے مرکزوں کو توڑو، نئے معبودوں کو بے نقاب کرو، اور دل کو صرف ربِ حقیقی کے لیے خالی کرو۔ اقبال کے نزدیک یہی زندہ توحید ہے، اور یہی امت کی حفاظت کا راستہ بھی۔
مثال
جیسے کوئی شخص پرانے تعویذ پھینک دے مگر نئی چیزوں کو جادوئی قوت دے کر انہی کے تابع ہو جائے، ویسے ہی جدید انسان پرانے بت چھوڑ کر نئے رب بنا سکتا ہے اگر اس کی توحید زندہ نہ ہو۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں خبردار کرتے ہیں کہ بت گری ختم نہیں ہوئی، صرف اس کی صورتیں نئی ہو گئی ہیں۔ انسان جب سچے رب سے دور ہوتا ہے تو وہ نئے معبود اور نئے پروردگار تراش لیتا ہے، اور توحید کا جہاد پھر سے لازم ہو جاتا ہے۔