چشم گیرایش فتد بر خویشتن
چشم گیرایش فتد بر خویشتن
دستکی بر سینه می گوید که من
ترجمہ
جب اس کی نگاہِ کشش اپنے اوپر پڑتی ہے تو وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے: میں۔
تشریح
یہ شعر پوری فصل کے اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے، کیونکہ یہاں پہلی بار خودی اپنے آپ کو براہ راست نام دیتی ہے۔ پہلے شعور باہر کی طرف تھا، غیر کی طرف دوڑتا تھا، سوال کرتا تھا، نقش لیتا تھا، اور تجربوں سے گزرتا تھا؛ اب ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب نگاہ خود اپنی طرف پلٹتی ہے۔ “چشم گیرا” یعنی ایسی نظر جس میں کشش بھی ہے اور گرفت بھی۔ جب یہی نظر اپنے اوپر پڑتی ہے تو انسان پہلی بار اپنے وجود کو منتشر حالت میں نہیں بلکہ ایک مرکز کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ یہی وہ لحظہ ہے جس میں “میں” کا شعور ابھرتا ہے۔
“دستکی بر سینه” ایک نہایت فطری اشارہ ہے۔ آدمی جب “میں” کہتا ہے تو عموماً اپنا ہاتھ سینے کی طرف لے جاتا ہے، جیسے اسے معلوم ہو کہ اس کی اصل پہچان کسی بیرونی چیز میں نہیں بلکہ اس کے باطن کے مرکز میں ہے۔ اقبال کے لیے یہ “من” محض نحوی ضمیر نہیں؛ یہ خودی کا اعلان ہے۔ مگر یہ اعلان تکبر نہیں، بیداری ہے۔ یعنی اب شعور کو اتنا استحکام مل گیا ہے کہ وہ خود کو دوسروں کے ہجوم میں کھوئی ہوئی شے کے طور پر نہیں بلکہ ایک مربوط حقیقت کے طور پر جاننے لگتا ہے۔ یہی فردی خودی کی بنیاد ہے، اور یہی ملی خودی کے لیے بھی لازم ہے۔
نگاہ کا پلٹنا:
پہلے نظر باہر تھی، اب اندر کی طرف مڑتی ہے۔ خودی کی تعمیر میں یہ پلٹاؤ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ جب تک انسان صرف غیر کو دیکھتا رہے، وہ اپنے مرکز تک نہیں پہنچتا۔ مگر جب نگاہ اپنے اوپر پڑتی ہے تو باطن ایک نئی طرح سے منکشف ہوتا ہے۔
اقبال کا مقصود محض خود پسندی نہیں بلکہ خود آگہی ہے۔ اپنے اوپر نظر ڈالنا اس لیے ضروری ہے کہ انسان جان سکے کہ اس کی اصل نسبت کہاں ہے، اس کی قوت کیا ہے، اور اس کے اندر کون سا مستقل مرکز کارفرما ہے۔
“میں” کا ظہور:
“میں” کہنا دراصل بکھرے ہوئے تجربات کو ایک مرکز میں جمع کرنا ہے۔ بچہ اب یہ سمجھنے لگتا ہے کہ رونے، ہنسنے، چاہنے، پوچھنے اور دوڑنے والے مختلف احوال کے پیچھے ایک ہی حقیقت ہے۔ یہی تسلسل “من” کی بنیاد بنتا ہے۔
ملتوں میں بھی ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنے افراد، واقعات، اور ادوار کے بکھرے ہوئے مجموعے سے بڑھ کر ایک اجتماعی “ہم” یا “میں” کا شعور حاصل کرتی ہیں۔ اقبال اسی بڑے اصول کی نفسی تمثیل فرد کے اندر دکھا رہے ہیں۔
سینہ بطور مرکز:
سینے پر ہاتھ رکھنا اس امر کی علامت ہے کہ انسان اپنی اصل کو محض بدن کے کسی ظاہری عضو میں نہیں بلکہ ایک باطنی مرکز میں محسوس کرتا ہے۔ اقبال کے ہاں دل، سینہ اور باطن بار بار اس مقام کے طور پر سامنے آتے ہیں جہاں خودی جمع ہوتی ہے۔
اس لیے “میں” کی اصل صرف زبان سے ادا نہیں ہوتی؛ وہ ایک وجودی احساس ہے۔ آدمی اسے اپنے اندر سے پاتا ہے، پھر لفظ اس کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مصرعے میں اشارہ، باطن اور لفظ تینوں ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ “میں” تو کثرت سے کہتے ہیں، مگر اس “میں” کے پیچھے حقیقی خود شناسی کم ہوتی ہے۔ کبھی یہ لفظ محض انا بن جاتا ہے، کبھی دفاعی نعرہ، اور کبھی خالی دعویٰ۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ سچا “میں” اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب نگاہ باہر سے پلٹ کر باطن کے مرکز تک پہنچے۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنی خودی کا اعلان شور سے نہیں، شعور سے کرو۔ اگر تم نے اپنے اندر کے مرکز کو پا لیا تو “میں” تکبر کا لفظ نہیں رہے گا بلکہ ذمہ داری، استقامت اور باطنی بیداری کا نام بن جائے گا۔ اقبال اسی بیدار “من” کی تشکیل چاہتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک بچہ کسی مرحلے پر سمجھنے لگتا ہے کہ اس کے مختلف تجربات کے پیچھے ایک ہی ذات ہے اور وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے “میں”، ویسے ہی خودی ایک دن اپنے مرکز کو پہچان لیتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں خودی کے اعلان کا پہلا روشن لمحہ دکھاتے ہیں: نگاہ اپنے اوپر پڑتی ہے اور باطن سے “میں” ابھرتا ہے۔ یہ خود شناسی کی وہ بنیاد ہے جس پر آگے چل کر فردی اور ملی استحکام قائم ہوتا ہے۔