قطره ئی کز خود فروزی محرم است
قطره ئی کز خود فروزی محرم است
باده اندر تاک و بر گل شبنم است
ترجمہ
وہ قطرہ جو خود فروزی کے راز سے آشنا ہو جائے، وہی تاک میں شراب بن جاتا ہے اور گل پر شبنم بن کر جلوہ کرتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال ایک نہایت لطیف باطنی حقیقت کو فطرت کے استعاروں میں بیان کرتے ہیں۔ “قطره” یہاں حقیر دکھائی دینے والی ہستی، فرد، یا امکان کی علامت ہے۔ “خود فروزی” کا مطلب اپنے اندر کی روشنی سے آشنا ہونا، اپنی اصل قوت پہچاننا، اور اپنے جوہر کو روشن کرنا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جو قطرہ اس راز کا محرم بن جائے، وہ معمولی نہیں رہتا۔ اس کے اندر کی کم مایگی بڑے معانی میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ گویا اصل فرق حجم میں نہیں، خود آگاہی اور خود فروزی میں ہے۔
“باده اندر تاک و بر گل شبنم است” اس تبدیلی کو دو خوب صورت صورتوں میں دکھاتا ہے۔ ایک ہی قطرہ کبھی تاک میں شراب کی کیفیت اختیار کرتا ہے اور کبھی پھول پر شبنم بن کر جلوہ دیتا ہے۔ اس سے اقبال یہ سمجھاتے ہیں کہ بیدار جوہر ایک ہی رہتے ہوئے بھی مختلف سطحوں پر مختلف حسن اور تاثیر پیدا کر سکتا ہے۔ خودی جب روشن ہو تو وہ صرف اپنے لیے نہیں چمکتی، اپنے گرد کے نظام میں بھی نئی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ ایک حقیر ہستی جب اپنے باطن کی روشنی پالے تو وہ لذت، جمال، تازگی اور حیات کی صورتوں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔
قطرہ بطور امکان:
قطرہ صغر، قلت، اور بظاہر بے وزنی کی علامت ہے۔ مگر اقبال بار بار دکھاتے ہیں کہ چھوٹی چیزیں اگر اپنے جوہر سے جڑ جائیں تو بڑی معنویت پیدا کر سکتی ہیں۔ اس شعر میں بھی قطرہ بے مایہ نہیں، امکان سے بھرا ہوا ہے۔
یہی بات انسان پر بھی صادق آتی ہے۔ ایک فرد بظاہر معمولی ہو سکتا ہے، مگر اگر وہ اپنے اندر کی روشنی پہچان لے تو اس کی تاثیر اس کے ظاہری حجم سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ اقبال اسی باطنی بیداری کو اصل سرمایہ سمجھتے ہیں۔
خود فروزی:
خود فروزی سے مراد خودی کی روشنی ہے، مگر یہ خود پرستی نہیں۔ یہ اپنے جوہر کو پہچاننا، اپنے باطن کی قوت بیدار کرنا، اور اپنے وجود کو جمود سے نکال کر روشن اثر میں بدلنا ہے۔ اقبال کے ہاں یہ بیداری انسان کو سستا، تابع، یا اندھا نہیں رہنے دیتی۔
اسی لیے وہ “محرم” کا لفظ لاتے ہیں۔ خود فروزی ہر کسی پر ایک ہی طرح نہیں کھلتی؛ اس کے لیے قرب، شعور، محنت اور آمادگی چاہیے۔ جو اس راز سے آشنا ہو جائے، اس کی کم مایہ حالتیں بھی نئی شان اختیار کرتی ہیں۔
تاک کی باده اور گل کی شبنم:
یہاں دو مختلف صورتیں ہیں: ایک کیفیتِ شراب، دوسری لطافتِ شبنم۔ اس سے اقبال یہ بتاتے ہیں کہ روشن جوہر کی تاثیر یک رنگ نہیں ہوتی۔ وہ کبھی حرارت، سرور اور حرکت پیدا کرتی ہے، اور کبھی لطافت، طراوت اور جمال۔ خودی کا کمال صرف ایک آہنگ میں بند نہیں، اس کے ظہور کئی صورتوں میں ہو سکتے ہیں۔
فطرت کی یہ مثال یہ بھی بتاتی ہے کہ باطن کی روشنی جب ظاہر میں آتی ہے تو اپنے ماحول کے ساتھ مناسبت اختیار کر لیتی ہے۔ یعنی زندہ خودی اپنی تاثیر کو میدان کے مطابق ظاہر کر سکتی ہے۔ یہی اس کی بلوغت ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ اپنی کمی، اپنی تعداد، اپنے وسائل یا اپنے مقام کو دیکھ کر خود کو قطرہ سمجھ کر رہ جاتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں: قطرہ ہونا مسئلہ نہیں؛ خود فروزی سے نا آشنا ہونا مسئلہ ہے۔ جو اپنی اندرونی روشنی پالے گا وہ مختلف میدانوں میں مختلف شان سے اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ شعر امت کو بھی ایک بڑی امید دیتا ہے۔ اگر اس کے افراد اپنے جوہر اور اپنی روشنی سے جڑ جائیں تو وہ علم میں بھی، تہذیب میں بھی، اخلاق میں بھی، اور تمدن میں بھی نئی تاثیر پیدا کر سکتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی قطرے کا بڑا راز ہے۔
مثال
جیسے ایک چھوٹا بیج اگر اپنی اندرونی قوت پالے تو کبھی پھل دار درخت بنتا ہے اور کبھی خوش بو دار پھول، ویسے ہی روشن باطن چھوٹی ہستی کو بھی مختلف صورتوں میں بڑی تاثیر دے سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ جو حقیر ہستی اپنے اندر کی روشنی کا راز پالے، وہ معمولی نہیں رہتی۔ وہ اپنے میدان کے مطابق حیات، جمال اور تاثیر کی نئی صورتیں پیدا کر سکتی ہے۔