رموز بے خودی

ثابت و سیاره گردون وطن

ثابت و سیاره گردون وطن

آن خداوندان اقوام کهن

ترجمہ

آسمان کے ثابت ستارے اور گردش کرنے والے سیارے وہی تھے جنہیں قدیم قومیں اپنا خداوند سمجھتی تھیں۔

تشریح

اس شعر میں اقبال تاریخ، تہذیب اور علم کے ایک بڑے موڑ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ قدیم اقوام نے آسمان کے ستاروں، سیاروں اور فلکی حرکات کو محض کائناتی مظاہر نہیں سمجھا، بلکہ اکثر انہیں الوہیت، تقدیر، یا مافوق الفطرت اقتدار کا مقام دے دیا۔ “ثابت و سیاره” سے مراد آسمان کے وہ ستارے اور سیارے ہیں جنہوں نے صدیوں تک انسانی تخیل، مذہب اور خوف پر حکمرانی کی۔ اقبال اس یاد دہانی کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ جن چیزوں کے سامنے انسان کبھی جھکتا تھا، آج اسے ان کے بارے میں ایک نیا شعور پیدا کرنا ہے۔

“آن خداوندان اقوام کهن” میں طنز بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ یہ اجرامِ فلکی اپنی حقیقت میں خدا نہیں تھے، مگر انسان کی کم فہمی، خوف، اور حیرت نے انہیں خداوند بنا لیا۔ اقبال کے نزدیک یہ صرف ماضی کی غلطی نہیں، ایک دائمی انسانی کم زوری ہے۔ جب انسان کسی طاقت، کسی نظام، کسی فطری قوت یا کسی تہذیبی غلبے کو سمجھے بغیر اس کے سامنے سر جھکا دے تو وہی چیز اس کی نظر میں خداوند بن جاتی ہے۔ اقبال کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان آسمان کی ان قوتوں کو دوبارہ صحیح جگہ پر رکھے: وہ تعظیم کے لائق بطورِ آیات ہیں، مگر پرستش کے لائق نہیں؛ وہ تحقیق اور تسخیر کے میدان ہیں، غلامی کے نہیں۔

ثابت و سیاره:

اقبال کا ذکرِ “ثابت” اور “سیاره” نہایت بامعنی ہے۔ یہ کائنات کی وسعت، نظم، اور انسان کے قدیم خوف و شوق دونوں کی علامت ہیں۔ آسمان کی حرکت ہمیشہ سے انسان کے لیے حیرت کا منظر رہی ہے۔ جو چیز حیرت پیدا کرتی ہے وہ یا تو علم کا دروازہ بنتی ہے یا اندھی پرستش کا۔ اقبال چاہتے ہیں کہ حیرت علم میں بدلے۔

یہی تبدیلی تہذیبوں کی تقدیر بدلتی ہے۔ جو قوم ستاروں کو پوجتی ہے وہ ان سے مرعوب رہتی ہے، اور جو انہیں پڑھتی ہے وہ ان کے اندر قانون، سمت، وقت، حساب اور نئی قوتیں پہچاننے لگتی ہے۔ اقبال اسی دوسرے راستے کی طرف بلاتے ہیں۔

قدیم قوموں کے خداوند:

قدیم اقوام کے لیے آسمان اکثر تقدیر کا زبردست استعارہ تھا۔ وہ سمجھتی تھیں کہ ان کی زندگی، فصل، جنگ، بادشاہت اور بقا ان فلکی قوتوں کے رحم و کرم پر ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ یہ نفسیات انسان کو چھوٹا کرتی ہے۔ جب وہ کائنات کی عظمت کو سمجھنے کے بجائے اس سے غلامی اختیار کر لیتا ہے تو اس کی خودی مرجھا جاتی ہے۔

اس تنبیہ کا ایک جدید پہلو بھی ہے۔ آج شاید لوگ ستاروں کو دیوتا نہ سمجھیں، مگر وہ دوسری طاقتوں کو اسی درجہ پر بٹھا دیتے ہیں: ٹیکنالوجی، منڈی، طاقت ور قومیں، یا بے چہرہ نظام۔ اقبال کی تنقید ان سب پر صادق آتی ہے۔

توحید کی علمی تاثیر:

توحید کا ایک بڑا احسان یہ ہے کہ وہ آسمان کی عظمت کو باقی رکھتے ہوئے اس کی الوہیت توڑ دیتی ہے۔ جب صرف اللہ معبود رہتا ہے تو باقی سب آیات بن جاتے ہیں۔ پھر انسان ستاروں کے سامنے جھکنے کے بجائے انہیں دیکھتا، سمجھتا اور ان سے سیکھتا ہے۔ یوں توحید صرف عبادت کا عقیدہ نہیں رہتی، علم کی آزادی بھی بن جاتی ہے۔

اقبال اسی آزادی کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمان کی نگاہ ایسی ہونی چاہیے جو کائنات کو حقیر نہ سمجھے، مگر اسے خدا بھی نہ بنائے۔ یہی توازن اسے علمی اور تہذیبی بلوغ کی طرف لے جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ ہمارے زمانے کے “خداوندان اقوام” کون ہیں۔ وہ کون سی طاقتیں ہیں جنہیں ہم لازمی، مقدس، یا ناقابلِ مزاحمت سمجھ کر اپنے ذہن میں الوہیت کے قریب پہنچا دیتے ہیں؟ اقبال کا شعر ہمیں ان سب کو ان کی اصل جگہ دکھاتا ہے۔

یہ شعر امت کو ایک آزاد علمی شعور دیتا ہے۔ آسمان کے اجرام ہوں یا دنیا کے بڑے نظام، ان سے مرعوب ہونے کے بجائے انہیں اللہ کی تخلیق اور انسانی تحقیق کے میدان کے طور پر دیکھو۔ اقبال کے نزدیک یہی آزاد نگاہ خودی کو بڑا کرتی ہے۔

مثال

جیسے ایک بچہ پہلی بار بجلی دیکھ کر اسے جادو سمجھ سکتا ہے، مگر علم آنے پر جانتا ہے کہ یہ قانون کے تحت چلنے والی قوت ہے، ویسے ہی انسان کائنات کی عظمت سے مرعوب رہنے کے بجائے اسے سمجھنا سیکھ سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ آسمان کے ستارے اور سیارے کبھی قوموں کے دیوتا بنے ہوئے تھے، مگر توحیدی اور علمی شعور انہیں تحقیق، فہم اور تسخیر کے میدان میں بدل دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button