کوه و صحرا دشت و دریا بحر و بر
کوه و صحرا دشت و دریا بحر و بر
تختهٔ تعلیم ارباب نظر
ترجمہ
پہاڑ، صحرا، میدان، دریا، سمندر اور خشکی سب اہلِ نظر کی تعلیم کی تختی ہیں۔
تشریح
اس شعر میں اقبال پوری کائنات کو ایک مدرسہ بنا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ نگاہ رکھتے ہیں، یعنی جن کے اندر سوال، بصیرت، مشاہدہ اور فہم کی طلب ہے، ان کے لیے کوہ و صحرا، دشت و دریا، بحر و بر سب تعلیم کے تختے ہیں۔ مطلب یہ کہ علم صرف کتاب کے اوراق میں بند نہیں، بلکہ کائنات کی ہر سمت میں پھیلا ہوا ہے۔ فطرت کی ہر شے، ہر منظر، ہر قوت، اور ہر تبدیلی اپنے اندر ایک سبق رکھتی ہے۔ جو آدمی دیکھنا جانتا ہو، اس کے لیے دنیا خام تماشا نہیں رہتی؛ زندہ معلم بن جاتی ہے۔
اقبال کا یہ تصور علم کو بہت وسیع کر دیتا ہے۔ وہ مسلمان کو صرف محفوظ ورثے کے حافظ کے طور پر نہیں، بلکہ کائنات کے قاری کے طور پر بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر پہاڑ ایک سبق ہیں تو ان میں صبر، استحکام، ساخت اور قوت کے راز پوشیدہ ہیں۔ اگر دریا اور سمندر تعلیم کے تختے ہیں تو ان میں حرکت، روانی، گہرائی، سفر، تجارت اور توانائی کے سبق موجود ہیں۔ اگر صحرا اور دشت ہیں تو ان میں سمت، بقا، وسعت، اور حالات سے نبرد آزما ہونے کے آداب پائے جاتے ہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان یہ زندہ نصاب دوبارہ پڑھے۔
اربابِ نظر:
“اربابِ نظر” وہ ہیں جو صرف آنکھ نہیں رکھتے بلکہ بصیرت رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ دنیا کو دیکھتے ہیں مگر پڑھتے نہیں۔ وہ پہاڑ کو محض پتھر سمجھتے ہیں، سمندر کو صرف پانی، اور زمین کو صرف گزرگاہ۔ مگر اہلِ نظر انہی چیزوں میں قانون، حکمت، امکان اور دعوت دیکھتے ہیں۔ اقبال اسی دوسری نگاہ کی تعلیم دیتے ہیں۔
یہ فرق بہت بنیادی ہے۔ نگاہ بیدار ہو تو کائنات معانی سے بھر جاتی ہے، اور نگاہ سوئی ہو تو سب کچھ معمول بن جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ملت کا احیا اسی بیدار نظر سے جڑا ہوا ہے۔
فطرت بطور نصاب:
کائنات کو “تختهٔ تعلیم” کہنا یہ بتاتا ہے کہ دنیا سے تعلق محض استعمال کا تعلق نہیں ہونا چاہیے، تعلّم کا بھی ہونا چاہیے۔ مسلمان اگر فطرت کو صرف خام مال سمجھے گا تو اس کا رشتہ سطحی رہے گا۔ اگر وہ اسے نصاب سمجھے گا تو اس میں سوال، ادب، تجسس اور تحقیق پیدا ہوگی۔ یہی تحقیق آگے چل کر تسخیر اور تعمیر کی بنیاد بنتی ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علم دین اور علم کائنات میں تصادم کی ضرورت نہیں۔ کائنات بھی ایک طرح کی آیت ہے، اور آیت کو پڑھنا بندگی کے خلاف نہیں۔ اقبال اسی جامع علمی مزاج کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔
وسعتِ تعلیم:
اقبال شعوری طور پر متنوع مناظر گنواتے ہیں: کوہ، صحرا، دشت، دریا، بحر، بر۔ اس فہرست سے یہ پیغام آتا ہے کہ تعلیم کا میدان ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔ علم کسی ایک خطے، ایک طبقے، یا ایک خاص ذریعے کی جاگیر نہیں۔ دنیا کے مختلف میدان الگ الگ سبق دیتے ہیں، اور مجموعی طور پر انسان کو بڑا بناتے ہیں۔
ملت جب اس وسعت کو قبول کرتی ہے تو اس کی علمی شخصیت بھی وسیع ہو جاتی ہے۔ پھر وہ صرف نقل پر نہیں جیتی، مشاہدہ، تجربہ اور تخلیق کی طرف بھی بڑھتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہماری ایک کم زوری یہ ہے کہ ہم تعلیم کو اکثر محدود خانوں میں بند کر دیتے ہیں۔ کتاب الگ، زندگی الگ؛ عبادت الگ، کائنات الگ؛ ورثہ الگ، تحقیق الگ۔ اقبال اس تقسیم کو توڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: باہر نکلو، دنیا کو پڑھو، فطرت کو دیکھو، اس کے اندر چھپے ہوئے سبق پہچانو۔
یہ شعر امت کو ایک نئی علمی جرأت دیتا ہے۔ اگر کوہ و صحرا اور بحر و بر تعلیم کے تختے ہیں تو پھر ہمیں ان سب میدانوں میں حاضری دینی ہوگی۔ یہی حاضری ملت کی نظر کو وسیع، عقل کو باریک، اور عمل کو مؤثر بنائے گی۔ اقبال کے نزدیک یہی وسعتِ علم بالآخر وسعتِ حیات میں بدلتی ہے۔
مثال
جیسے ایک ماہر انجینئر دریا، ہوا، مٹی اور پتھر میں صرف اشیا نہیں بلکہ امکانات اور قوانین دیکھتا ہے، ویسے ہی اہلِ نظر پوری کائنات کو تعلیم گاہ کے طور پر پڑھتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ پوری فطرت اہلِ بصیرت کے لیے ایک کھلا ہوا نصاب ہے۔ جو قوم دنیا کو تعلیم گاہ سمجھ کر پڑھے گی، وہی تسخیر اور تعمیر کے قابل ہوگی۔